گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 40

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 40

  

ان دنوں میرے چچا زاد بھائی صاحب خاں نون جو صوبائی سول سروس کے ملازم تھے ، گورنر سرجیو فری ڈی مانٹو مورنسی سے ملاقات کیلئے آئے۔ انہیں بہت سی تکالیف بیان کرنی تھیں۔ ملاقات کے بعد واپس آکر انہوں نے مجھ سے کہا ’’ اب مجھے پروا نہیں کہ وہ میرے لیے کچھ کرتے ہیں یا نہیں کرتے‘ انہوں نے بہت صبر سے میری باتیں سنیں اور میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا میں نے سب کچھ کہہ دیا اب میں خوش ہوں۔ ‘‘۱۹۲۹ء کا ذکر ہے کہ میں کار میں فیروز پور سے لدھیانہ جا رہا تھا۔ راستے میں مجھے بیل گاڑیوں کی ایک لمبی سی قطار ملی جو سڑک پر غلط پہلو سے جا رہی تھی ۔ چونکہ میں آگے نکلنے میں خاصی وقت پیش آئی اور وقت بھی ضائع ہوا۔ اس لیے مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے شوفر سے کہا کہ اگلی بار جب کوئی شخص اپنی گاڑی غلط پہلو پر چلاتا ہوا ملے تو ٹھہر جانا ۔ ہم تھوڑی ہی دو ر گئے ہوں گے کہ ہمیں ایک سِکھ گاڑی بان ملا جس کی گاڑی بیچوں بیچ سڑک پر رینگتی ہوئی جا رہی تھی۔ ہم نے خوب ہارن بجائے اور ہٹوبچو کی۔ گاڑی بان چھلانگ لگا کر نیچے اترا اورہمارے قریب آکر التجا ئیں کرنے لگا۔ مجھے اس پر سخت غصہ تھا لیکن اس نے یہ عذر کیا کہ گاڑی میں دائیں ہاتھ جو بیل جُتا ہوا ہے وہ ابھی نو عمر ہے۔ اور موٹر کاروں سے بد کتا ہے۔ زیادہ دن نہیں گزرے کہ اس نے دوسرے بیل کو گڑھے میں دھکیل دیا تھا۔ مجھے فارسی کی وہ کہاوت یاد آئی کہ دیوانہ انکار خویش ہشیار بعض مصلح جن میں سے بیشتر اپنے زمانے سے پہلے پیدا ہو گئے ہیں، آنکھ بند کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ خواہ حالات کتنے ہی ناساز گار کیوں نہ ہوں۔ نتیجہ یہ کہ وہ ناواقفیت کی دیوار سے اپنا سرپھوڑتے ہیں۔ انہیں دہنی سکون اور دلی طمانیت کے لیے سب سے پہلے یہ اندازہ کر لینا چاہیے کہ وہ جن اصلاحات کی وکالت کر رہے ہیں۔ عوام ان کیلئے تیار بھی ہیں یا نہیں۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 39  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مجھے یاد ہے کہ ایک دن میں اپنے گاؤں میں پٹھان مزدوروں سے بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔ ایک پٹھان افغانستان سے نیا وارد ہوا تھا۔ وہ بھی ہماری گفتگو میں شریک ہو گیا اس نے ہمیں بتایا کہ کابل کے بادشاہ امان اللہ نے کس طرح کی تبدیلیوں کو رواج دیا ہے۔ کہنے لگا۔ ’’امان اللہ ڈھیر نخرہ کریدا ‘‘ یعنی امان اللہ ہم لوگوں کے ساتھ خاصا مذاق کر رہا ہے ۔ اس سے پٹھان کی مراد سکولوں ، ہسپتالوں اور سڑکوں کی تعمیر تھی ۔ امان اللہ کا خیال تھا کہ پٹھان کے لمبے لمبے بال اور داڑھی منڈوانے اور اسے اپنا روایتی لباس ترک کر کے سیکنڈ ہینڈ دھاریدار پتلون اور اونچا ساہیٹ پہنانے سے وہ اپنی قوم کو ماڈرن بنا لیں گے مشکل یہی تھی کہ امان اللہ وقت سے پہلے پیدا ہو گئے تھے اور اپنے عوام سے بہت آگے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے بری طرح شکست کھائی اور ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ ہمیں اپنے دیہات کو ایک ہی شب میں روم بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ایک قوم کی تبدیلی کیلئے نہایت سخت مشقت اور سالہا سال کے پرامن حالات درکار ہوا کرتے ہیں۔ آپ جس تکلیف وہ صورت حال کا علاج نہیں کر سکتے اسے اپنی تمام ترقوت برداشت کے ساتھ سہتے جائیے اور مطلوبہ تبدیلی کے لیے اپنی سی کوشش جاری رکھیے۔

امان اللہ کے ذکر سے مجھے ایک لطیفہ یاد آیا جو مجھے گاؤں کے ایک سرکردہ کسان میاں تاج محمد میلہ نے سنایا تھا۔ اُس نے بتایا کہ ایک دن گاؤں کے ایک شخص کو ہائیکورٹ کی اپیل کے سلسلہ میں لاہور جانا پڑا۔ وہاں اُسے بیت الخلاء جانے کی حاجت ہوئی۔ تو منشی نے اس کو چھت کار استہ دکھادیا۔ دیہاتی لوگ اس کام کیلئے گاؤں سے باہر کھیتوں میں جانے کے عادی ہیں۔ دیہاتی نے شہر سے واپسی پر اسی مظاہرہ کا اہتمام اپنے گاؤں میں کیا تاکہ وقت کی بچت ہو۔ گرمی کا موسم تھا اور ہمسائے کی عورتیں اپنے مکان کی چھت پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے اس پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ مرد بھی لاٹھیاں لے کر آگئے اور اس کی اچھی طرح پٹائی کی۔ وہ گھر میں پٹیوں میں جکڑا پڑا تھا کہ مزاج پر سی کیلئے ایک دوست آیا اور پوچھنے لگا ’’آخر تو نے یہ حرکت کی کیوں؟ ‘‘ اس نے جواب دیا’’ میں اس گاؤں کو لاہور بنانا چاہتا ہوں لیکن یہاں کے لوگوں کی سمجھ میں بات ہی نہیں آتی ۔ ‘‘

دیوان چمن لال میرے جنم جنم کے دوست ہیں اور میرے گاؤں سے دس میل کے فاصلے پر واقع ایک بستی بھیرہ کے رہنے والے ہیں۔ ایک دن انہوں نے مجھے شملہ کے سیسل ہوٹل میں کھانے پر مدعو کیا۔ وہ مرکزی اسمبلی کے رکن تھے اور میں پنچاب میں وزیر تھا۔ میں ہوٹل میں ٹھیک وقت پر پہنچا ۔ سرعبدالحمید نے جو اس وقت کپور تھلہ کے وزیراعلیٰ تھے،مجھے ہال میں ادھر سے ادھر ٹہلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ آپ کس کی راہ دیکھ رہے ہیں؟ میں نے بتایا تو بولے کہ میں نے دیوان چمن لال کو آدھ گھنٹہ پہلے ڈنر کیلئے جاتے دیکھا تھا۔ چنانچہ میں نے مجبوراً حمید صاحب کے ساتھ کھانا کھایا۔

یہی واردات ایک بار میرے ساتھ گزری ۔ سر رحیم بخش نے اپنی زندگی کا آغاز ایچی سن کالج لاہور میں ایک ٹیوٹر کی حیثیت سے کیا تھا۔ نواب بہاولپور بھی یہیں پڑھتے تھے۔ وہ واپسی میں رحیم بخش کو اپنے ہمراہ لے گئے اور انہیں ریاست کا وزیراعلیٰ مقرر کر دیا گیا۔ جب سیاسی اصلاحات رائج ہوئیں تو تقریباً ۱۹۲۹ء میں انہیں پنجاب کی قانون ساز اسمبلی کا رکن بنایا گیا۔ چونکہ میرے والد رحیم بخش کے شاگرد رہ چکے تھے اس لیے میں، جو قانون ساز اسمبلی میں ان کا جواں سال رفیق تھا، ان کی شفقت اور نوازش سے بہرہ مند ہوتا رہتا تھا۔ ایک دن رحیم بخش نے بکمال مہربانی مجھے رات کے کھانے پر مدعو کیا لیکن مجھے اپنا وعدہ یا د نہ رہا اور صاحب خانہ کو دیر تک میرا انتظار کرنا پڑا جب اسمبلی میں ہماری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کھانے کی وہ دعوت یاد دلائی جسے میں بھول چکا تھا۔ میرے دل کو حددرجہ رنج پہنچا ۔ لیکن میں نے سچ بات اُن سے کہہ دی کہ مجھے اپنی جیبی ڈائری دیکھنی یاد نہیں رہی۔ ‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ ایسی ڈائری رکھنے کا کیا فائدہ جسے تم دیکھتے ہی نہیں؟ ‘‘ اس دن سے میں نے اس اصول کی سختی سے پابندی کی ہے کہ دن میں کئی بار ڈائری دیکھ لینی چاہیے او ر جہاں تک مجھے یاد ہے اس کے بعد تیس سالہ پبلک زندگی میں اس طرح کی غلطی مجھ سے دوسری بار پھر سرزو نہیں ہوئی۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 41 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : فادرآف گوادر