اگر آپ کے ناخن اور بال کمزور ہورہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جسم میں اس ایک چیز کی کمی ہے، ماہرین نے صحت کا اہم ترین راز بتادیا

اگر آپ کے ناخن اور بال کمزور ہورہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جسم میں اس ایک ...
اگر آپ کے ناخن اور بال کمزور ہورہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جسم میں اس ایک چیز کی کمی ہے، ماہرین نے صحت کا اہم ترین راز بتادیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) زنک ایک ایسا غذائی جزو ہے جسے ”خوبصورتی کا پروٹین“ کہا جاتا ہے اور یہ کچھ بلاوجہ بھی نہیں۔ جہاں زنک آدمی کی قوت مدافعت اور جنسی تحریک میں اضافہ کرتی ہے وہیں یہ جلد کو تروتازہ اور بے داغ رکھنے اور بالوں، دانتوں اور ناخنوں کی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے اسے بیوٹی پروٹین کا نام دے رکھا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق برطانوی ادارے نیشنل ہیلتھ سروسز کی جنرل فزیشن گل جینکنس کا کہنا ہے کہ ”بالوں کا گرنا جسم میں زنک کی کمی کی چند بڑی علامتوں میں سے ایک ہے۔ 2013ءمیں 312افراد پر ایک تحقیق کی گئی تھی جو بال گرنے کے مسئلے سے دوچار تھے، نتائج میں معلوم ہوا کہ وہ سب کے سب زنک کی کمی کا شکار تھے۔ زنک کی کمی کا دوسرا بڑا نقصان ناخنوں کا کمزور ہونا، ان پر سفید نقطے بن جانااور جھریاں پڑ جانا ہے۔ “

اگر آپ کے ناخن اور بال کمزور ہورہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جسم میں اس ایک چیز کی کمی ہے، ماہرین نے صحت کا اہم ترین راز بتادیا

ڈاکٹرجینکنس کا کہنا تھا کہ ”جن لوگوں میں زنک کی کمی ہو ان کے دانتوں کی چمک ختم ہو جاتی ہے اور بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔ زنک کی کمی کی دیگر علامات میں بار بار منہ کا السر ہونا، جلد پر داغ دھبے اور نشان پڑ جانااور ہڈیوں کا کمزور ہو جاناشامل ہیں۔ ایسے شخص کا مدافعتی نظام بھی کمزور ہو جاتا ہے اور اس کی جنسی قوت میں بھی کمی واقع ہو جاتی ہے۔“ ڈاکٹر جینکنس نے بتایا کہ ”بادام، کاجو، سرخ گوشت، کستورا مچھلی، سامن مچھلی، ابلے ہوئے انڈے، مرغی کا سینے کا گوشت اور دہی سمیت کئی ایسی غذائیں ہیں جن میں زنک کی بہت زیادہ مقدار موجود ہوتی ہے۔ ان غذاﺅں کا اپنی خوراک کا حصہ بنا کر زنک کی کمی پوری کی جا سکتی ہے اور اپنی خوبصورتی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ سبزی خور افراد میں زنک کی کمی کا خدشہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زنک کی کمی سے بچنے کے لیے ہمیں روزانہ کم از کم 100گرام بیف ضرور کھانا چاہیے۔

مزید : تعلیم و صحت