ریٹائرڈ جنرل کا واپڈا کے معاملات سے کیا تعلق؟ کسی بچے کو چیئرمین واپڈا لگا دیا جائے تو کیاعدالتیں آنکھیں بند کرلیں ؟چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

ریٹائرڈ جنرل کا واپڈا کے معاملات سے کیا تعلق؟ کسی بچے کو چیئرمین واپڈا لگا ...
ریٹائرڈ جنرل کا واپڈا کے معاملات سے کیا تعلق؟ کسی بچے کو چیئرمین واپڈا لگا دیا جائے تو کیاعدالتیں آنکھیں بند کرلیں ؟چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے قرار دیا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل کا واپڈا کے معاملات سے کیا تعلق ہے ؟کل کو وزیراعظم کسی بچے یا کسی تعلیمی ادارے کے سربراہ کو چیئرمین واپڈا مقرر کردیں تو کیا عدالتیں آنکھیں بند کرلیں گی ؟بڑے عہدوں پر ذاتی تعلقات رکھنے والے افراد کی تعیناتیوں کو عوامی مفاد کے مطابق کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟

ایف آئی اے کی فیصل آبادمیں کارروائی، 2انسانی سمگلر گرفتار

فاضل جج نے یہ ریمارکس چیئرمین واپڈا، ممبر واٹر اور ممبر فنانس کی تعیناتیوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے دیئے ۔درخواست گزارشہریوں کے وکیل سید مجیب الحسن نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے چیئرمین واپڈاجنرل ریٹائرڈ مزمل حسین ، ممبر فنانس انوارلحق اور ممبر واٹرناصر حنیف کو قوانین اور میرٹ کے برعکس تعینات کیا۔انہوں نے کہا کہ تینوں اسامیوں کے لئے اشتہار جاری نہیں کیا گیا جوکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی اور اہل امیدواروں کی حق تلفی ہے۔انہوں نے بتایا کہ قوانین کے خلاف تعیناتی کی بناءپر واپڈا جیسے قومی ادارے میں تمام انتظامی امور درہم برہم ہو چکے ہیں وفاقی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، سیاسی حکومت سیاسی طریقے سے معاملات چلاتی ہے، یہ ایک پالیسی معاملہ ہے جس کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جاسکتا ۔سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے قانونی طریقہ کار کے تحت چیئرمین اور ممبرز کی تعیناتیاں کی ہیں،اس پر فاضل جج نے کہا کہ کابینہ نے یہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ جنہیں تعینات کیا جا رہا ہے ،ان کا متعلقہ شعبے میں تجربہ اور مہارت ہے بھی یا نہیں؟ تجربہ کار اوراپنے شعبے میں عبور رکھنے والے افراد کو نظر انداز کرنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وزیراعظم اور کابینہ جو چاہے کرے انہیں کوئی پوچھ نہیں سکتا، عدالت کو بتایا جائے کہ ریٹائرڈ جنرل کا واپڈا کے معاملات سے کیا تعلق ہے؟ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیاکہ وزیراعظم کسی بچے یا تعلیمی ادارے کے سربراہ کو چیئرمین واپڈا لگا دیں تو آپ کے دلائل کے مطابق عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی، قانون اور آئین تو شفافیت اور میرٹ کی بات کرتے ہیں ،بتایا جائے کہ کیا قانون عام شہریوں کی ان عہدوں پر تعیناتی سے روکتا ہے ؟اس قانون میں کہاں قدغن لگائی گئی ہے کہ میرٹ اورصلاحتیوں کی بنیاد پر تقرریاں نہیں کی جائیں گی ۔فاضل جج نے کیس کی مزیدسماعت کے 16اکتوبر پرملتوی کرتے ہوئے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ آئندہ تاریخ سماعت پر عدالت کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب پیش کیا جائے ۔

مزید : لاہور