بیماریوں سے بچنے کیلئے ہفتے میں کتنی مرتبہ نہانا چاہیے اور دن میں کتنی مرتبہ دانت برش کرنے چاہئیں، سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ واضح جواب دے دیا، ہمارے سارے خیالات غلط ثابت کردئیے

بیماریوں سے بچنے کیلئے ہفتے میں کتنی مرتبہ نہانا چاہیے اور دن میں کتنی مرتبہ ...
بیماریوں سے بچنے کیلئے ہفتے میں کتنی مرتبہ نہانا چاہیے اور دن میں کتنی مرتبہ دانت برش کرنے چاہئیں، سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ واضح جواب دے دیا، ہمارے سارے خیالات غلط ثابت کردئیے

  

لندن(نیوز ڈیسک)صفائی نصف ایمان ہے اور ہماری جسمانی و ذہنی تندرستی کی ضامن بھی۔ صفائی کی اہمیت کا تو ہر کوئی قائل ہے لیکن اکثر لوگ اس معاملے میں ابہام کا شکار رہتے ہیں کہ ہمیں کس وقت نہانا چاہیے، کتنی بار دانت صاف کرنے چاہئیں، ماﺅتھ واش استعمال کرنا چاہیے یا نہیں، وغیرہ وغیرہ۔ دی انڈیپینڈنٹ کی ایک رپورٹ میں ماہرین صحت نے ایسے کئی اہم سوالات کے جوابات دے کر ایک بڑا مسئلہ حل کر دیا ہے۔

مثال کے طور پر اگر آپ کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ بالوں کو ہفتے میں کم از کم کتنی بار دھونا ضروری ہے، تو اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ بال دھونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ اگر نارمل یا خشک جلد کے مالک ہیں تو ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ بھی بال دھولیں تو کافی ہے۔

اگر پیٹ کی چربی فوری پگھلانا چاہتے ہیں تو صبح نہاتے ہوئے یہ ایک کام ضرور کریں، جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے بہترین نسخہ بتادیا

دانتوں کی صفائی کے بارے میںامریکن ڈینٹل ایسوسی ایشن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دانت روزانہ دو بار صاف کریں، اور ہر بار کم از کم تقریباً دو منٹ کیلئے برش کریں۔ آپ اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت دانت صاف کر سکتے ہیں، لیکن خصوصاً سونے سے قبل دانت ضرور صاف کریں۔

پسینہ کش سپرے اور باڈی سپرے لگانے کیلئے ماہرین کے مطابق بہترین وقت سونے سے قبل ہے کیونکہ اس کے اثرات 24 گھنٹوں تک باقی رہتے ہیں تو صبح جاگنے کے بعد بھی سارا دن ان کی خوشبو اور اثرات جسم پر موجود رہیں گے۔

ماہرین جلد کہتے ہیں کہ ہم میں سے اکثر لوگ ضرورت سے زیادہ غسل کرتے ہیں۔ اگر ہم دو یا تین دن میں ایک بار نہائیں تو یہ بھی کافی ہے۔ البتہ اگر آپ روزانہ ورزش کرتے ہیں یا گرد و غبار کا سامنا رہتا ہے تو اس صورت میں روزانہ غسل کرنا بہتر ہے۔ غسل صبح کے وقت کرنا بہتر ہے تا کہ دن ہشاش بشاش گزرے، لیکن اگر آپ کی جلد چکنی ہے تو بہتر ہے کہ رات کے وقت سونے سے پہلے غسل کر لیں۔

مزید : تعلیم و صحت