تعلیمی زوال

تعلیمی زوال
تعلیمی زوال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


خیبر پختون خوا کی دوسری بڑی درس گاہ گومل یونیورسٹی پچھلے بیس سالوں سے لسانی تعصبات اور معاشی وانتظامی بحرانوں میں الجھ کے علمی زوال کی لپیٹ میں ہے،حالات کے جبر نے مادر علمی کو ایسی دلدل میں پھنسایا، جس سے نکلنے کی ہر کوشش اسے مزید گہرائی میں اتار دیتی ہے،سنہ دوہزار میں مشرف حکومت نے سینئر بیوروکریٹ قاضی حفظ الرحمٰن کو وائس چانسلر بنا کے اس تعلیمی ادارے کی گرتی ساکھ کو سنبھالا دینے کی سنجیدہ کوشش کی، قاضی صاحب نے بہترین منتظم کی طرح نہایت گہرائی میں تحقیق کے بعد یونیورسٹی کے انتظامی ڈھانچہ میں پائی جانے والی خرابیوں کی تشخیص کر لی لیکن بدقسمتی سے مارچ دوہزار تین میں ایم ایم اے حکومت نے انہیں ہٹا کے ایک مڈل کلاس ٹھیکیدارکو وائس چانسلر بنا کر اس عظیم یونیورسٹی کی تباہی پر مہر تصدیق ثبت کر دی،ایک سو چھیانوے صفحات پر مشتمل اپنی تحقیقی رپوٹ ’’Leech‘‘ میں قاضی صاحب نے نہایت بلیغ الفاظ میں اس بدقسمت ادارے کی تباہی کا سبب بننے والے کردار کی نشاندہی کی، لیکن اٹھارہ سال ہونے کو آئے کسی صاحب دانش نے اس چشم کشا رپوٹ کو دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی۔اب پندرہ سال بعد جب ڈاکٹر محمد سرور جیسے فاضل پروفیسرگومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے تو ایک بار پھر اُمید کی کرن پیدا ہو گئی،بلاشبہ،ڈاکٹر سرور نے اس مضمحل ادارے کو مالی مشکلات کے چنگل سے نکالا، لیکن ایک ایسے متنازع شخص کو رجسٹرار جیسی اہم پوسٹ پر عارضی تعیناتی دیکر جاتی ہوئی بدقسمتی کو آواز دی،جو ہرے بھرے کھیتوں کو اجاڑنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور جہنم کے داروغہ کی طرح وہ جس طرف جائیں مصائب کی چڑیلیں اس کے پیچھے چلتی ہیں۔وائس چانسلر ڈاکٹر سرور نے ایک انٹرویو میں اس نئے تنازعہ کا پس منظر کچھ یوں بیان کیا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ مجھے نہیں پتہ کہ اساتذہ کے مسائل کیا ہیں، یہ اچانک احتجاج میں کیوں چلے گئے،تاہم امر واقعہ یہ ہے کہ 2015ء میں گورنر نے مجھے دس نقاطی ہدایت نامہ بھجوا کے سنہ 2008ء اور 2014ء کے سلیکشن بورڈز منسوخ کر کے ترقیاں پانے والے اساتذہ وافسران کو ڈیموٹ کرنے کا حکم دیا،اسی کے ساتھ ایڈنشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر خالد شاہ نے دھمکی دی،گورنر کے احکامات پر اگر من و عن عمل نہ ہوا تو ایچ ای سی کو تنخواہیں بند اور یونیورسٹی کے اکاونٹ منجمدکرنے کا لکھ دیں گے۔  


گویا،یونیورسٹی بند ہونے جا رہی تھی،اس کے باوجود میں نے گورنر اقبال ظفر جھگڑا سے ملاقات کرکے انہیں قائل کر لیا کہ دونوں سلیکشن بورڈز کی ساری تین سو پنتیس تقرریاں سو فیصد تو غلط نہیں ہو سکتیں،ان میں کچھ حقدار بھی ہوں گے، اگر ہم بیک جنبش قلم سب کو فارغ کردیں تو میرے پاس پڑھانے کے لئے ٹیچر کم رہ جائیں گے،موقعہ دیں کہ ہم اہل و نااہل میں تمیزکر سکیں،میری تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے گورنر نے اس ایشوکوسنڈیکیٹ میں رکھنے کی اجازت دے دی،بدقسمتی سے جو لوگ اس وقت دھرنے میں بیٹھے ہیں، سنڈیکیٹ میں انہی نے دو رکنی کمیٹی بنا کے معاملہ کا ازسر نو جائزہ لینے پر اتفاق کیا، سنڈیکیٹ کی طرف سے اختیار ملنے کے بعد میں نے پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر اشرف اور آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر انوار حسین گیلانی کو انکوائری آفیسر مقرر کیا،عمیق تحقیق کے بعد دو رکنی کمیٹی نے جو طریقہ کار مرتب کیا اسی کے تحت حقدارکو لے لیا اور غیر مستحق کو چھوڑ دیا،جب دو رکنی انکوائری کمیٹی کی رپوٹ ملی تو میں نے چیئرمینز،ڈینز اور ڈائریکٹرز سے مشاورت کے بعد 88 یا 90 کے قریب لوگوں کو شوکاز ایشوکئے،جس کے بعد یہ لوگ میرے پاس آنے کی بجائے براہ راست احتجاج میں چلے گئے‘‘۔

اگر اس پورے معاملہ کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہی بات سمجھ آئے گی کہ ہمارے ارباب بست و کشاد اپنی دانش نورانی سے سیدھے سادے معاملات کو بحران میں کیسے بدلتے ہیں۔اس تنازعہ کا پس نظر یہ ہے کہ سنہ دوہزار پندرہ میں گومل یونیورسٹی نے مالی بحران سے نکلنے کے لئے صوبائی حکومت سے بیل آوٹ پیکج مانگا،وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے چھتیس کروڑ کی گرانٹ منظورکرلی،جب سمری وزارت خزانہ پہنچی تو وزیر خزانہ سراج الحق نے فنڈ ریلیز کرنے کی سمری روک کے یونیورسٹی کے معاشی بحران کے محرکات تلاش کرنے کے لئے تین رکنی انکوائری بٹھا دی،عالی مقام افسران پر مشتمل اس تین رکنی کمیٹی نے اپنی رپوٹ میں دوہزار آٹھ اور دوہزار چودہ کے سلکشن بورڈز کو ہی معاشی بدحالی کا محرک قرار دے کر انہیں منسوخ کرنے کی سفارش کر دی،جس پر عمل درآمد کی خاطر گورنر نے بغیر سوچے سمجھے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر سرورکو دس نقاطی ہدایت نامہ جاری کرکے دو سو پینتیش اہلکاروں کی تنزلی کا حکم صادر کرکے معاشی مشکلات میں گھری یونیورسٹی کو انتظامی بحران کے دلدل میں دھکیل دیا۔گویا یونیورسٹی انتظامیہ معاشی بحران سے نکلنے کی خاطر مدد لینے آئی تھی اور انتظامی بحران لیکر واپس پلٹی۔


یہ فطری امر تھا کہ تین سو سے زیادہ جن اہلکاروں کے مفادات پر زد پڑے گی وہ مزاحمت کر کے سسٹم کو نقصان پہنچائیں گے،لہٰذا یہی ہوا متاثرہ اساتذہ نے عدالتوں سے رجوع کر کے ایک طرف وی سی کی اتھارٹی کو مفلوج اوردوسری جانب احتجاجی تحریک شروع کر کے انتظامی ڈھانچہ کو پراگندہ بنا دیا،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صوبائی حکومت بیل آوٹ پیکج روکے بغیر اس معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کرا کے دوہزار آٹھ اور چودہ کے متنازعہ بورڈز کا انعقاد کرانے والے سابق وائس چانسلرز ڈاکٹر فریداللہ وزیر اور ڈاکٹر عنایت اللہ بابڑسمیت سلکشن بورڈز کے ان تمام ممبران کی ڈی بریفنگ کراتی جو فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ رہے،جوڈیشل کمیشن صفائی کا پورا موقعہ دیکر ایک منصفانہ ٹرائل کے بعد اگر انہیں بدیانتی کے مرتکب سمجھ کر ان پر ذمہ داری فکس کر دیتا تو اس کے بعد متذکرہ سلکشن بورڈز سے استفادہ کرنے والے تین سو سے زیادہ لوگوں کی تنزلی کے احکامات دینے کا کوئی جواز بنتا تھا لیکن سرکار نے مبینہ بددیانتی کے مرتکب اصل ذمہ داروں سے صرف نظر کر کے صرف مفروضوں کی بنیاد پر ساڑھے تین سو کے لگ بھگ اساتذہ اور افسران کو نشانہ بنا کے ایک منظم ادارے کے مستقبل کو بدترین انتظامی بحران کی آگ میں جھونک دیا،ڈاکٹر سرور جیسے شریف انسان اگرچہ طریقہ کار کے ان ہتھکنڈوں کو نہیں جانتے تھے لیکن پشاور میں بیٹھے بزرجمہروں کو معلوم تھا کہ متاثرین عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر کے اس بے ہودہ کارروائی کے پرخچے اڑا دیں گے، لیکن انہوں نے بدنیتی کی بنیادوں پر دانستہ اس پنڈورابکس کو کھول کے ایک دیانتدار وائس چانسلر کے لئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر دیئے۔

اب خیر سے یونیورسٹی کو ساڑھے چار سو سے زیادہ مقدمات کا سامنا ہے،جس میں بلاوجہ مالی وسائل کا زیاں اور انتظامی افسران کی صلاحیتیں برباد ہوں گی، حسب روایت ہنگامی حالات میں چھرا گھونپنے والے رجسٹرار نے اپنے ہرکاروں کو متحرک کر کے دونوں جانب فساد کی آگ بھڑکانے میں کمی نہیں چھوڑی، کیونکہ ان کے خطرناک مشورے علاج نہیں، بلکہ زخمی کرتے ہیں،صورت حال یہ ہے کہ اس وقت یونیورسٹی کے ادنی ترین کلاس فور ملازمین اور درمیانہ درجہ کے اہلکاروں سے لے کر بائیس گریڈ کے پروفیسرز تک پورے عملہ کو وائس چانسلر کے خلاف صف آرا کرکے اسے تنہائی کی تاریکی میں دھکیل دیا گیا،جہاں سے انہیں صرف وہی نظر آتا ہے جو قائم مقام رجسٹرار انہیں دکھاتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -