مارشل لا کی ذہنیت سے نکل کر حکومت کریں

مارشل لا کی ذہنیت سے نکل کر حکومت کریں

سپریم کورٹ کے جج،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر حکومت نے ہر چیز پر آرڈیننس ہی جاری کرنے ہیں تو پھر جمہوریت کس کام کی؟ہم اب تک مارشل لا کی ذہنیت میں رہ رہے ہیں،جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ بار ہاؤسنگ سوسائٹی کیس کی سماعت کی…………پارلیمینٹ کی موجودگی میں اگرچہ مشروط طور آرڈیننسوں کے اجرا کی اجازت ہے تاہم یہ اس امر سے مشروط ہے کہ اسمبلی کا اجلاس نہ ہو رہا ہو،پھرآرڈی ننس ایک مخصوص مدت سے زیادہ عرصے کے لئے جاری نہیں ہو سکتا اور تجدید کے باوجود آرڈیننس اسمبلی کی منظوری کے لئے پیش کرنا پڑتا ہے،لیکن موجودہ حکومت جب سے برسر اقتدار آئی ہے اس نے قانون سازی سے گریز کا راستہ اختیار کیا ہے اور جو اقدامات کئے گئے ہیں ان میں قومی اسمبلی کو بائی پاس کیا گیا ہے، چند روز قبل الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی رکنیت اور نتیجے کے طور پر اُن کا ڈپٹی سپیکر کا عہدہ ختم کر دیا، ڈپٹی سپیکر کے منصب پر فوری طور پر نیا انتخاب ہونا چاہئے تھا،کیونکہ اسمبلی کا اجلاس جاری تھا، لیکن اس سے بچنے کے لئے سید فخرامام نے جو اس وقت اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس کچھ دیر کے لئے یا ایک دن کے لئے ملتوی کرنے کی بجائے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا۔اپوزیشن نے الزام لگایا ہے بظاہریہ اقدام سپیکر کے انتخاب سے بچنے کے لئے کیا گیا،کیونکہ قاسم سوری نے الیکشن ٹربیونل کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جہاں سے وہ حکم امتناعی حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں گے، اِس لئے اندرونِ خانہ، ساز باز کے ذریعے اجلاس غیر معینہ عرصے کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔اگرچہ حزبِ اختلاف کے پاس اتنی زیادہ غیر معمولی اکثریت ہے کہ دو بڑی جماعتیں مل کر کسی بھی وقت اجلاس بُلانے کا مطالبہ کر سکتی ہیں،لیکن بہتر ہوتا کہ حکومت اجلاس جاری رکھ کر ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کراتی۔

حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت نہیں اور چند حلیف جماعتوں کی حمایت پر یہ حکومت کھڑی ہے،ان جماعتوں میں سے کوئی ایک جس کے ارکان کی تعداد چار یا چارسے زیادہ ہو اگر حکومت سے الگ ہو جائے تو حکومت قائم نہیں رہ سکتی،ایسے میں یہ ضروری ہے کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم رکھے،لیکن باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اپوزیشن ارکان کو مشتعل کیا جاتا ہے،سپیکر گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کرتے اور کمیٹیوں کے چیئرمینوں کو اجلاس بُلانے سے بھی روکا جاتا ہے،ایسے میں وزیر قانون فروغ نسیم اگر یہ بیان دیں کہ اگر قانون سازی میں اپوزیشن نے تعاون نہ کیا تو حکومت آرڈننس جاری کرے گی،حالانکہ اسمبلی کی موجودگی میں آرڈیننسوں کے ذریعے قانون سازی کرنا کبھی پسندیدہ نہیں رہا، اب تو سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی ریمارکس دے دیئے ہیں کہ اگر حکومت آرڈیننسوں کے ذریعے ہی چلانی ہے تو جمہوریت کا کیا فائدہ؟ اُن کا یہ بھی فرمانا ہے کہ ہم مارشل لا کی ذہنیت میں رہ رہے ہیں،انہوں نے ان دو جملوں میں حکومت کی ساری جمہوریت کو طشت ازبام کر دیا ہے، آرڈیننسوں کا سہارا تو مارشل لاؤں ہی میں لیا جاتا ہے،کیونکہ ایک تو ایسی حکومتوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی آئینی اور قانونی حیثیت مشتبہ ہوتی ہے اور وہ طاقت کے زور پر مسلط ہوئی ہوتی ہیں،لیکن عملاً موجودہ حکومت بھی جمہوری رویوں سے زیادہ مارشل لائی رویوں پر عمل پیرا ہے اور آئین و قانون کا احترام نہیں کیا جاتا۔

چیف الیکشن کمشنر نے چند ہفتے قبل الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دو ارکان سے حلف لینے سے انکارکر دیا تھا،کیونکہ ان ارکان کا تقرر آئین میں طے شدہ طریق ِ کار کے مطابق نہیں ہوا تھا، آئین کے مطابق ضروری ہے کہ وزیراعظم،قائد حزبِ اختلاف کے مشورے سے ان ارکان کا تقرر کریں،لیکن وزیراعظم نے نہ صرف مشاورت نہیں کی،بلکہ قائد حزبِ اختلاف کے ساتھ اس طریقے سے رابطہ بھی نہیں کیا، جو آئین میں درج ہے، پھر آئین کے تحت طے شدہ مدت میں ان ارکان کا تقرر نہ کیا گیا اور جب کیا گیا تو آئین کی خلاف ورزی کی گئی۔صدرِ مملکت کے ”صوابدیدی اختیارات“ کے تحت دونوں ارکان کا تقرر کر دیا گیا،حالانکہ صدر کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں،اٹھارہویں ترمیم اِس سلسلے میں بہت واضح ہے،لیکن صدرِ مملکت نے حکومت کو یہ مشورہ دینے کی بجائے کہ وہ آئین میں طے شدہ طریق ِ کار اختیار کر کے ارکان کا تقرر کرے،خود ہی غیر قانونی اقدام کر ڈالا،جس پر چیف ایکشن کمشنر نے بروقت درست موقف اختیار کر کے دونوں ارکان سے حلف لینے سے انکار کر دیا،جو سرکاری نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد حلف کے لئے پہنچ گئے تھے، حالانکہ یہ دونوں ارکان بھی جانتے تھے کہ اُن کا تقرر آئین کے مطابق نہیں ہوا،لیکن انہوں نے آئینی راستہ اختیار کرنے کی بجائے حکومت کی ہاں میں ہاں ملانے کو ترجیح دی اور اپنے لئے جگ ہنسائی کا سامان پیدا کیا۔

حکومت نے اپنے ہی منتخب ارکان پر غیر منتخب ارکان کو ترجیح دینے کا رویہ بھی اختیار کر رکھا ہے اور منتخب ارکان کو وزارتیں سونپنے کی بجائے الیکشن ہارنے والوں کو مشاورت اور معاونت کے نام پر آگے کیا ہوا ہے، اور یہ لوگ منتخب ارکان کے سینے پر مونگ دَل رہے ہیں،حالانکہ اگر سیدھے سبھاؤ آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے تو حکومت اور ارکانِ حکومت کی عزت میں اضافہ ہو گا، لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا اور اسمبلی کے اندر اور باہر غیر جمہوری طرزِ عمل اختیار کیا جا رہا ہے ایسے میں اگر اپوزیشن جماعتیں دھرنوں کی سیاست کرنے کی تیاری کر رہی ہیں تو انہیں کیسے روکا جا سکتا ہے؟ مولانا فضل الرحمن نے27اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کر کے ان سب لوگوں کی خوش فہمی دور کر دی ہے،جن کا خیال تھا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے یا نہیں کر سکتے اس کا مقابلہ پارلیمینٹ کے اندر ہونا چاہئے تھا، لیکن جو حکومت مارشل لا کی خوبو کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے اس کے مقابلے میں اگر آزادی مارچ نہیں ہوں گے تو کیا ہو گا،اِس لئے ہماری اپوزیشن اور حکومت دونوں سے گزارش ہے کہ وہ آئین کا سیدھا اور صاف راستہ اختیار کریں، پارلیمینٹ میں قانون سازی کریں،سپیکر غیر جانبدار کردار ادا کریں اور اپنے فرائض دیانتداری اور ایوان کے کسٹوڈین کے طور پر ادا کریں ورنہ آزادی مارچ بھی ہو گا اور اس سے آگے بھی بہت کچھ ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...