مہنگائی کی حقیقی تصویر دکھائی جائے

مہنگائی کی حقیقی تصویر دکھائی جائے

وفاقی ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کئے جانے والے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ برس کی نسبت موجودہ سال کے دوران اشیاء ضرورت، خوردنی اور یوٹیلٹی سروسز میں 36فیصد سے 114فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ادارہ کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق گیس 114 فیصد اور مرغی80فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ پیاز کے نرخ108 فیصد کے حساب سے بڑھے، ان اعداد و شمار کے مطابق سبزیوں کے نرخوں میں 28فیصد اضافہ ہوا۔خوردنی تیل20فیصد اور چینی 37فیصد مہنگی ہوئی۔ادارہ شماریات کے یہ اعداد و شمار مارکیٹ کی بنیاد پر قرار تو دیئے جاتے ہیں، لیکن اس کا مکمل عکس نہیں ہوتے،کیونکہ جو تجزیہ ان میں دیا گیا یا تقابل ہوا اس کی نسبت بازار میں اشیاء زیادہ مہنگی ہیں۔ اگر سبزیوں کی بات کریں تو مٹر موجودہ موسم کی سبزی ہے۔یہ گزشتہ برس کی نسبت ڈیڑھ گنا سے بھی زیادہ مہنگے ہیں۔یہی صورت چینی کی ہے کہ جو80روپے فی کلو تک بک رہی ہے،جہاں تک کھانے کے تیل کا تعلق ہے تو یہ ان دنوں 225 روپے فی کلو ہے جو گزشتہ برس 130 سے135 تک فروخت ہو رہا تھا۔ادارہ شماریات جب بھی اپنی طرف سے ایسے تجزیئے جاری کرتا ہے تو اس کی بنیاد مارکیٹ تو نظر نہیں آتی،ایسا احساس ہوتا ہے کہ یہ دفتر میں مارکیٹ کمیٹیوں کے نرخوں سے موازنہ کر کے جاری کئے جاتے ہیں،اجناس خوردنی، سبزیوں، پھلوں اور ضروریات زندگی کی مہنگائی سے عوام بلبلا رہے ہیں، تنخواہ دار طبقہ گروسری کے لئے جاتا ہے تو ہر ماہ اضافہ ہوا ہوتا ہے۔گزشتہ ماہ جو راشن ساڑھے بارہ سے تیرہ ہزار روپے کا تھا اِس ماہ15سے16ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔تازہ ترین اضافہ تو آٹے کے نرخوں ہی میں ہوا، فلور ملز کے دس کلو تھیلے کے آٹے کے نرخ440 روپے ہو گئے۔ یہ36روپے فی کلو تھا جو اب44روپے فی کلو ہو چکا ہے۔اب بجلی کے نرخ بھی قیمتوں کو متاثر کریں گے،جبکہ ایشیائی ترقیاتی بنک نے اگلے مالی سال میں بھی مہنگائی کی نوید سناتے ہوئے بتایا کہ11فیصد سے زائد ہو گی،جبکہ ترقی کا ہدف2.6سے نہیں بڑھے گا۔ان حالات میں حکومت کو سوچنا ہو گا کہ الزام تراشی سے کام نہیں چلے گا۔یہ عمل سیاسی ہے تو اپنی جگہ یہاں تو لازم ہے کہ بازار کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھی جائے اور متاثر کرنے والے عوامل کا جائزہ لے کر اقدامات کئے جائیں۔ادارہ شماریات کو اعداد و شمار کے چکر سے نکل کر بازار کی حقیقی صورت دکھانا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...