سرا ئیکی زمیندارکی کہا نی!

سرا ئیکی زمیندارکی کہا نی!
سرا ئیکی زمیندارکی کہا نی!

  

پنجا بی زمیندار کی طرح سرا ئیکی زمیندار بھی نسل در نسل قر ض کی چکی میں پس رہا ہے۔برا دری میں منہ دکھا نے اور شر مند گی سے بچنے کے لئے ہر مو قع پر ادھا ر اٹھا تے اٹھا تے اس کی ایک ایک سانس سود در سود میں الجھ چکی ہے۔ زراعت سے معمولی واقفیت اورزرعی سائنس سے دوری نے زراعت کا پیشہ اس کے لئے نقصان دہ بنا دیا ہے۔ زمین کی تیاری کے لئے کاشتکاروں کی گزشتہ پیڑھی داجل نسل کے سفید بیلوں کی جوڑی سے ہل چلاتی تھی، اب معاملہ ٹریکٹر اور مہنگے ڈیزل کا درپیش ہے۔اس معاملے میں اپر پنجاب کے زمیندار زیادہ اچھی زمینوں کے ما لک ہیں، نسبتاً بہتر صلاحیت اور پیسہ بھی رکھتے ہیں تو اس مرحلے سے بہتر انداز میں نمٹ لیتے ہیں، مگر یہ صورت حال سرا ئیکی پنجاب میں زیا دہ دشوار ہے، لوگ کھیتی با ڑی کی کم سمجھ بو جھ، ایگری سا ئنس سے کو سوں دور، کم وسا ئل اور محدودزر عی پا نی کی وجہ سے کھیل شروع ہو نے سے پہلے ہی خسا رے کا سودا کا شت کر لیتے ہیں۔

زیا دہ پیداواری صلا حیت کے بیج کا انتخاب بھی اس کے لئے بڑا مسئلہ ہے۔سنا ہے ایگر ی کلچر ریسر چ کو نسل تحقیق اور زرعی جد ت پر کام کر رہی ہے، مگر کسان کی اس جدید تحقیق تک رسائی نہیں ہے۔مو سمیا تی تبدیلیاں،آ بپاشی کے لئے کم ہو تا پا نی اور کیڑے مار ادویات کے زیا دہ استعمال سے مزید پیدا ہو نے وا لی بیما ریاں یہ سا را معا ملہ زر عی تحقیق کا تقا ضہ کر رہا ہے۔

پا کستان میں زراعت کو سمجھنا ہے تو ان بنیا دی چیزوں کوپہلے ذہن میں رکھنا پڑے گا تا کہ پتہ چلے ہمارا کسان کس ما حول کے اندر اپنے کھیت اور کھلیان میں قدم رکھتا ہے۔حکو مت کے کسان دوست اقدا مات یا زرعی ایمر جنسی لگا ئے بغیرکا شتکار کوزیا دہ پیدا واری صلا حیت کا حا مل بیج، زرعی مشیری، جدید آ بپا شی کے آ لات نہیں مل سکتے۔حقیت یہ ہے کہ ریا ست کا کو ئی ادارہ کھیتی با ڑی کے اس کام میں کا شتکار کے ساتھ نہیں کھڑا۔میں جنو بی پنجاب کی زراعت کو بہت قریب سے دیکھتا رہتا ہوں،پہلے تو وقت پر نہروں میں پا نی دستیاب نہیں،زیر زمین پا نی کڑوا ہے تو کسان کے ہاتھ بار گا ہ الٰہی میں اٹھ جا تے ہیں، یا تو وہاں سے داد رسی ہو جا ئے یا پھر مہنگے ڈیزل یا مہنگی بجلی کے لئے جیب ساتھ دے، کسان ان وسا ئل کے لئے سود پر قرض لے گا اور مزید استحصال کا شکا ر ہو نے کے راستے پر سفر کریگا۔کھیت میں جونہی پو دا جڑ پکڑتا جا ئیگا کسان کی جان مزید نکلتی جا ئے گی۔اب اسے مہنگی کھاد اور سپرے خریدنے کا مر حلہ در پیش ہے۔یہاں اس کے دو امتحان ہیں اول سر ما یہ نہیں دوسرا اصلی اورجعلی زرعی ادویات کی تمیز بھی کر نی ہے وگر نہ سا ری محنت ضا ئع ہو نے کا خد شہ ہے۔

میں نے ملتان سے را جن پو ر تک کاسفر گزشتہ ہفتے کیا ہے سڑک کنا رے دونوں ا طراف ایسے کھیتوں سے بھر ے ہیں جہاں اب صر ف کپاس کی سو کھی شا خیں کھڑی ہیں۔اس بر س بھی کپاس کے کا شتکا روں کی فصل مو سمیا تی تبدیلیوں اور سفید مکھی کے حملے میں ختم ہو چکی ہے۔کھیت تو ایک طر ف مجھے را جن پو ر کے بازار میں بھی یہ سفید مکھی جا بجا نظرآ ئی۔مسلسل تیسرا سال ہے کپاس کی فصل کی اٹھان بہت شا ندار ہو تی ہے، مگر اچانک اگست کے آ خری ہفتے یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں اس مکھی کا حملہ شدیدتر ہو جا تا ہے، کپاس کے ہرے بھرے کھیت اچا نک سبز سے سرخ اور پھر کا لے رنگ میں بد لنے لگتے ہیں، جو پھل پہلے لگ چکا ہو تا ہے اس سے کپا س کی سفید چا ندی پھو ٹ پڑ تی ہے، مگر نہ تو نئے پھول بنتے ہیں اور نہ ہی مزید پھل آ تا ہے۔

کسان کے لئے یہ لمحہ کم بختی سے کم نہیں ہو تا، سا منے کپاس کے ہر ے بھر ے کھیت کی بجا ئے ارمانوں کی بر باد فصل ہو تی ہے۔ کسان صبر کا دامن کہاں سے پکڑے؟ آڑھتیوں سے اٹھا ئی گئی رقم،سود پر زرعی ادویات اور ادھار ڈیزل کا حساب کیسے چکا ئے گا؟

میں نے بر لبِ سڑک کا م کر تے کا شتکار عا شق حسین سے پو چھا کہ اب کو نسا راستہ بچا ہے تمہا رے لیے؟ کہنے لگا با ڑے میں کھر لی پر ایک گا ئے کھڑی ہے، جس کا آ ٹھ پہر بعد دودھ ملتا ہے اور بچوں کا پیٹ بھر تا ہوں اب اسے منڈی لگا ؤں گا اور او نے پو نے بیچ کر کچھ ادھار کی رقم چکا ؤ ں گا۔ میں نے پو چھا بچوں کا کیا ہو گا؟ آ سمان پر نگاہ دوڑا تے ہو ئے بو لا اللہ دے گا، مجھے اس لمحے سمجھ آ یا اللہ پر توکل کس چیز کا نام ہے،مگر جس کسان کے ہاں توکل نہ ہوا وہاں کیا ہو گا؟ خو د کشی؟ چوری یا ڈکیتی یا قرض خواہوں سے دنگہ وفساد، جبکہ اس دیہا تی کسان کو بیما ری یا شا دی وغمی کے موقع پر دوبارہ قر ض کے لئے ہا تھ پھیلا نا ہو گا؟

را جن پو ر کے نوا حی گا ؤں قا سم پو ر میں مجھے کئی کسا نوں نے بتا یا کہ اب محنت مزدوری کر نے کرا چی جا ئینگے یا جو بچا ہے اسے بیچ کر دبئی کا رخ کرینگے۔ دل کو ٹھیس پہنچی کہ اب زمینداری کر نے وا لے کراچی یا دبئی میں محنت مزدوری کریں گے۔ایک مقامی زمیندارسید عبد الصمد شاہ سے میں نے پو چھا کہ ایک ایکڑ کپاس پر کتناخرچ آ تا ہے تو ان کے محتاط اندا زے کے مطابق 75 ہزار روپے کا فی ایکڑ خرچ ہے۔ اگر رقبہ ٹھیکہ پر اٹھا رکھا ہے تو اس میں 15ہزار رو پے کا مزید اضافہ اس تخمینہ کو 90ہزار تک پہنچا دے گا۔ان کے رقبہ میں سر جھکا ئے کھڑی کپاس کی حا لت کو دیکھ کر اندازہ لگا یا بمشکل دس سے بارہ من کپاس منڈی تک جا ئے گی یعنی 40 سے 45 ہزار رو پے ہاتھ آ ئینگے۔ یہاں ایک اور چو نکا دینے والے بات کا پتہ چلا کہ عمران حکو مت نے کپاس کے ایک من پر سا ڑھے چار فیصد نیا ٹیکس لگا رکھا ہے گو یا کپاس کے ایک من (3900رو پے) میں سے 450 رو پے حکو مت کی تجو ری میں جا ئینگے،آ بیا نہ اور مالیہ اس کے علا وہ کٹے گا۔

اس بڑے زمیندار کا بھی یہی خیال ہے کہ کچھ رقبہ بیچ کر دبئی میں چھو ٹا مو ٹا بز نس کیا جا ئے۔ میری پریشا نی مزید بڑ ھی جب سو چا کہ ہر چھو ٹااور بڑا زمیندار یا کسان اگر زراعت کو بطور پیشہ چھو ڑ دے گا تو پھر ہمارے لئے اناج، سبزیاں، گنا، کپاس اور دیگر اجناس کہاں سے آ ئینگی؟ کیا ملک اتنا امیر ہے کہ ان بنیادی اشیاء پر زرِمبادلہ خر چ کر کے با ہر سے منگوا ئے اور امپو رٹ بل مزید بڑ ھ جا ئے؟

کسا نوں سے زر عی ادویات کی کوالٹی اور ملا وٹ سے متعلق بات ہو ئی تو بیچارے پھٹ پڑے، کسان نے اس مرتبہ کپا س کی فصل پر 17 بار سپرے چھڑ کا ہے، مگر سفید مکھی کا کنٹرول کسی دوا ئی میں نہیں۔کسی دن اچا نک کھیت کو بیما ری آن لیتی ہے اور پو رے کے پو رے علا قے کے کھیتو ں کی حا لت ایسے جیسے کھا ئے ہوئے بھُس بن جا تے ہیں۔لاکھ کیڑے مار ادویات کے سپرے کر لیں، مگر زرعی ادویات میں زہر ہو تو کھیت کی بیما ری ختم ہو، زہر میں بھی ملا وٹ کا کام عروج پر ہے اور کیڑے ما ر دوا ئیوں کے کا روبار کو کو ئی پو چھنے وا لا نہیں۔پیسٹی سا ئیڈ کی بڑی کمپنیوں نے سر کار کی آ نکھوں میں خبر نہیں کیا جھو نک رکھا ہے جو انہیں ما لیہ اور آ بیا نہ بٹور نے کے علاوہ پریشان حال کسان کی کو ئی پروا نہیں۔

ان کا بڑا جا ئز گلہ تھا کہ زہر بھی خالص نہیں مل رہا۔محکمہ زرا عت کی کار کر دگی کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ وہ ما رکیٹ میں جعلی ادویات بیچنے والے ما فیا سے در پر دہ مل کر مال بنا رہے ہیں اور ہم کسان اس کی قیمت اپنی فصلوں کی تباہی کی صو رت میں ادا کر رہے ہیں۔ ان تباہ حال سو کھے کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر پھر تے میرے ذہن میں خیال آ یا کہ موجودہ برس کپاس کی فصل حکومتی اقدامات سے بہتر ہو تی تو کتنا زیادہ ریونیو جمع ہو تا؟ کپاس کا ایک ایکڑ اپنی اچھی پیداورا دے تو کسان کو پچاس من کپاس حا صل ہو تی ہے۔ جتنی زیا دہ فصل اتنا زیا دہ کسان بھی خو شحال۔یہ بنیادی فار مو لہ حکو مت کے پلے نہیں پڑ رہا یا وہ سمجھنے سے عا ری ہے۔

مو ضع سو ن واہ کے کسا نوں سے ملاقات ہو ئی، انہیں ملک کے سیا سی منظر نامے اور بحث کی سا ری خبر تھی، مگر پور ے پاکستان کی خبر رکھنے وا لوں کی اپنی خبر کہیں بھی نہیں تھی۔ کسان کی حا لتِ زار ہما ری قو می بحث کا حصہ نہیں، کیا آ پ کو کسی اخبار یا ٹی وی چینل پر معلوم ہوا کہ اس ماہ نئی آ نے والی کپاس کی فصل کے ایک من پر سا ڑھے چار فیصد نیا ٹیکس لگا دیا گیا؟ کسان اپنے گھر کا بھڑو لہ بھر نے کے ساتھ سر کار کو بھتہ بھی دے، مگر کس سہو لت کے عوض؟ اخبار، ٹی وی اور ٹا ک شوز ہر جگہ مصنو عی بیانیے کافن اپنے عروج پر ہے۔یہ کہا وت شاید ان دنوں کے لئے بنی تھی کہ روم جل رہا تھا اور نیرو با نسری بجا رہا تھا۔آ ج حکمرا نوں کے ساتھ مین سٹریم میڈیا بھی نیرو کے ساتھ شامل باجا ہے۔ مجھے سو چتے ہو ئے سخت دکھ ہو ا کہ لوگ اتنے شکم پرست ہو گئے ہیں انہیں پھل اور اناج کھانے کا تو بہت شو ق ہے،مگر افسوس کسانوں کی حالتِ زار اور استحصا ل کا کوئی خیال نہیں،حا لا نکہ انسان کو معدہ کے ساتھ دل اور دما غ بھی عطا کیا گیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -