مولان، عمران کو تو بعد میں نقصان پہنچائینگے ، ن لیگ میں تفریق واضح کر دی 

مولان، عمران کو تو بعد میں نقصان پہنچائینگے ، ن لیگ میں تفریق واضح کر دی 

 (تجزیہ،ایثار رانا)

مولانا فضل الرحمان عمران خان کو تو بعد میں نقصان پہنچائیں گے لیکن انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں تفریق واضح کردی ہے۔پاکستان میں آج تک کسی سیاستدان نے عوام کیلئے کوئی تحریک نہیں چلائی۔ہر تحریک کے پیچھے جو مقاصد رہے وہ طاقتوروں کے درمیان فقط تخت کی جنگ ثابت ہوئی،ان تحریکوں میں ایجنسیوں کا کردار اور بعض اوقات غیر ملکی آقاؤں کا بھیانک کردار بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ حکومتیں گرانے یا ہلانے میں ایسی جماعتیں استعمال ہوئیں جنہوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھے رکھا۔پاکستانی قوم مذہب کے حوالے سے جتنی جذباتی ہے کاش اخلاقیات کے حوالے سے بھی ہوتی۔مذہبی جماعتوں کی آڑ میں ہمیشہ جمہوریت کی پیٹھ میں چھری گھونپی گئی۔خیر سیاسی جماعتیں بھی اس میں پیچھے نہیں رہیں، قومی اتحاد سے لیکر لانگ مارچوں،تحریک نجاتوں اور اسلام آباد میں دھرنوں کے نام پر آج تک کسی نے عوام کیلئے جدوجہد نہیں کی۔میں نے گزشتہ سال کے اوائل میں لکھا تھا عمران خان نے جو بویاہے وہ انہیں کاٹنا پڑے گا۔فضل الرحما ن کا لانگ مارچ پہلی قسط ہے اور یہ سلسلہ رکنے والا نہیں۔کیونکہ یہ بھی ایک لمبی کہانی ہے جس میں پاکستان میں کبھی سیاستدان کو ایک اوقات سے زیادہ پاپولر نہیں ہونے دیا جاتا۔دوسرا پاکستان میں جمہوریت کو ہمیشہ وینٹی لیٹر پر رکھا جاتا ہے۔تیسرا ہمیشہ ایسی قیادت کو ہیرو بنایا جاتا ہے جس کا شکار جہاں ہے جیسا ہے کی بنیاد پہ کیا جاسکتا ہے۔اسکو اتنا بے دست و پا کردیا جاتا ہے کہ وہ ایک کمزور کبوتر کی طرح اپنی موت کو قر یب آتے دیکھتا ہے لیکن کچھ کر نہیں پاتا حتیٰ کہ آنکھیں بھی بند نہیں کرپاتا۔مولانا فضل الرحمان کو روکنا اتنا مشکل نہیں سعودی عرب سے ایک فون ان کیلئے کافی ہوگا۔انہیں ستائیس اکتوبر سے پہلے گرفتار کیا جانا بھی ممکن ہے لیکن اگر ایسا کچھ نہ ہوا تو پھر یہ سوچنا بنتا ہے کہ جب پہلی بار تمام ادارے ایک پیج پہ ہیں تو مولانا فضل الرحمان سب کو کیسے چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔

 تجزیہ،ایثار رانا 

مزید : تجزیہ


loading...