نظام کی تباہی

نظام کی تباہی

  

بڑے بڑے مزارات، درباروں، دینی مدارس اور درویش بزرگوں کے پاس حاضری دینے اور مسجدوں میں جا کر عبادت کرنے کے بعد بالآخر دعائیں رنگ لے آئیں اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی رونقیں بھی اس وقت مزید بحال ہو گئی جب صوبے بھر کے اراضی ریکارڈ سنٹرز سٹاف کو معلوم ہوا کہ 15ماہ بعد باقاعدہ اب بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی منظوری دیدی گئی ہے اور اکتوبر کو چیئرمین پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی سردار احمد علی خان دریشک کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہو گا جس میں اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ پنجا ب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی پورے پنجاب کی زمینوں کے ریکارڈ سنبھال رہی ہے اور زمینداروں کے لین دین کے معاملات کو با احسن طریقے سے نبھانے کے لیے ایک بہترین سافٹ وئیر بنا چکی ہے جو زبردست طریقے سے کامیابی سے کام کر رہا ہے۔ میں اپنی سابقہ تحریروں میں بھی بیان کرچکا ہوں کہ زمین کے ریکارڈ کو محفوظ اور عا م آدمی تک رسائی پہچانے والا یہ بلا شبہ ایک کامیا ب نظام ہے۔مسئلہ صرف مس مینجمنٹ کا ہے مسئلہ اس نظام کو چلانے کا ہے۔

یکم اکتوبر2019ء کو خدا خدا کر کے پنجا ب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کا عرصہ ڈیڑھ سال بعد ایک اجلاس ہوتا ہے، جس کے ممبران میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، پنجاب کی سب ڈویزن کے کمشنر صاحبان،5 منتخب نمائند گان، ڈی جی پنجا ب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور چیئرمین پنجا ب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی شامل ہیں۔ لیکن یہ اجلاس فیلڈ ملازمین کے بنیادی،درینہ مسائل حل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ مسائل کیا ہیں۔

-1 تین سال سے تنخواہ میں جو انکریمنٹ پنجاب حکومت کے ہر ملازم کو ملا ہے وہ پنجا ب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ملازمین کو بھی دیا جائے۔

-2 ملازمین کو مستقل کیا جاے اور سروس سٹرکچر دیا جائے، نئی بھرتیوں میں پنجا ب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ملازمین کو کو ٹہ دیا جائے۔

جیسے ہی اجلا س کی کاروائی کی خبر ملازمین تک پہنچی، ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور مورخہ 2 اکتوبر2019ء کو پورے پنجاب میں ہڑتال کی کا ل دے دی گئی۔جس میں سروس سنٹر کے انچارجز، ایس سی اوز اور اے ڈی ایل آرز نے بھی بھر پور شرکت کی۔سار ا دن پنجاب کے 152اراضی ریکارڈ سنٹر بند رہے، گورنمنٹ کو کروڑوں کا نقصان ہوا۔ شام کو ٹاپ مینجمنٹ نے مذاکرات کئے اور چیئرمین پنجا ب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے پھر وعدے وعید کئے اور ہڑتال کی کال اس شرط پر واپس لی گئی کہ ایک ماہ کا انتظار کیا جائے گا اور اس دوران ہر سوموار کو ملازمین پرامن احتجاج ریکارڈ کروائیں گے اور اس طر ح ہر ہفتے میں ایک دن اراضی ریکارڈ سنٹر بند رہیں گے اور اس کا نقصان گورنمنٹ اور عوام برداشت کریں گے۔

میں اکثر سوچتا ہوں کے پاکستا ن میں ادارے ٹھیک کیوں نہی ہوتے ہیں تو سمجھ آتی ہے کہ ہم ٹھیک کرنا ہی نہی چاہتے۔ہم یہ نہیں سمجھتے کے ادارے کو چلانے کے لیے دو بنیادی چیزیں ہیں۔ ایک ادارے کا نظام ہونا چاہیے دوسرا اس نظام کو چلانے والا کوئی مستنداور قابل شخص ہونا چاہیے۔ لیکن شاید پPLRA کی قسمت میں ابھی دونوں چیزوں کی کمی ہے۔ ہم صر ف کا م چلانا چاہتے ہیں نظام ٹھیک کرنا ہی نہی چاہتے۔ اور اسی چکر میں ادارے کے ادارے تباہ ہوتے جارہے ہیں۔ PLRA بورڈ کے ممبران کو اگر پنجا ب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے مسائل کا ادراک ہوتا تو ہو اس کے حل میں بھی دلچسپی لیتے۔ اگر وزیر اعلی پنجاب اس ادارے کی صحیح معنوں میں بہتری چاہتے ہیں تو ان کو ضروری اقدامات کرنا ہوں گے، نہیں تو پنجاب کے کسان روزانہ ذلیل ہوتے رہے گے اور پنجا ب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ملازمین اچھے طریقے سے خدما ت دینے میں نا کام رہے گے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

مزید :

رائے -کالم -