اپنی ذمہ داری کا احساس

اپنی ذمہ داری کا احساس
اپنی ذمہ داری کا احساس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


احساس انسانی زندگی کا محور ہے، جس کے گرد سارا نظام حیات چلتا ہے اگر احساس نکال دیا جائے تو انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں یہ احساس ہی ہے،جو ہمیں رشتوں کا تقدس ذمہ داریوں سے آگاہی اور ایک بامقصد زندگی کا تصور دیتا ہے احساس اور ضمیر کا آپس میں گہرا تعلق ہے،بلکہ ایک لحاظ سے ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، جس معاشرے سے احساس ختم ہو جائے وہ ایک بے ہنگم ہجوم کی صورت اختیار کر جاتا ہے، جہاں صرف اپنی ذات اور نفسی خواہشات کی اہمیت رہ جاتی ہے یہ احساس ہی ہے جو خود احتسابی اور ذمہ داری سے آشنا کرتا ہے ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر آج پستی کا شکار ہے، جس کی بڑی وجہ تیزی سے بڑھتی ہوئی بے حسی بھی ہے اگر ہم ہر طرف نظر دوڑائیں تو ذاتی سوچ مجموعی سوچ اور مفاد پر حاوی نظر آتی ہے، لالچ مفاد پرستی اور ہوس پر کسی کی توجہ نظر نہیں آتی،ہمارا معاشرہ اور خاندانی نظام دنیا جہاں کے لئے ایک نمونہ تھا، جہاں احساس، اخوت، تقدس، رواداری اور جذبہ ایثار سب سے نمایاں اقدار ہوتی تھیں لوگ اس نظام پر نہ صرف رشک کیا کرتے تھے، بلکہ تقلید کی کوشش بھی کرتے تھے۔ یہ اقتدار ہماری اسلامی اقدار سے بھی مطابقت رکھتی تھیں آج بد قسمتی سے معاشرے سے احساس ختم ہوتا جا رہا ہے ہم دوسروں پر تنقید  بھی کرتے ہیں اور بہتری کی توقع بھی رکھتے ہیں، مگر خود ایسا کرنے کو تیار نہیں ہر کوئی یہ سوچتا ہے کہ دوسرا ٹھیک ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا سارا معاشرہ بگاڑ کی طرف گامزن ہے ہر کوئی بد انتظامی، اقربا پروری، بدعنوانی اور اختیار سے تجاوز کی شکایت کرتا ہے، مگر ایسے کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتا کہ وہ اپنی حیثیت میں خود بھی تو حکومت کا حصہ ہے مگر کسی  سرکاری ہسپتال میں صفائی کا نظام ٹھیک نہیں۔ انتظامی امور خراب ہیں، مریضوں کا کوئی پُرسانِ حال نہیں تو ذمہ دار اس ہسپتال کا انچارج ہے، جو تمام مراعات سے لطف اندوز ہو رہا ہے یا پھر اس صوبے کا وزیراعلیٰ۔

اگر مریضوں کے وارڈ میں لگنے والے ایئرکنڈیشن انتظامیہ سے متعلق افراد کے گھروں میں لگے ہوں تو کون مورد الزام ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نجی محفلوں میں حکومت کو برا بھلا کہہ رہا ہو گا، جبکہ اپنی ذمہ داریوں کے متعلق جواب دینے کو تیار نہیں۔اگر انتظامی سربراہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ایمانداری سے کام کرے تو حالات ایسے نہ ہوں جیسے کہ ہمیں نظر آتے ہیں،بے حسی کا عالم تو یہ ہے کہ اپنے سامنے غلط کام ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی ہم اسے نہیں روکتے مثلاً شہر، قصبے کے کسی نہ کسی حصے میں جعلی دودھ تیار ہوتا ہے، جعلی مشروبات تیار کرنے کی مشینیں گھروں میں لگی ہیں، جواء ہوتا ہے، منشیات کا دھندہ ہوتا ہے یہ سارے جرم میرے معاشرے میں ہو رہے ہیں، اور ان کا اثر ہمارے سب کے خاندانوں پر، اولاد پر پڑ رہا ہے، ہم گاے بگاہے اس کے خلاف اظہار بھی کرتے ہیں لیکن بے حسی، لاپرواہی کہ ہم ان لوگوں کو روکتے نہیں ان کے خلاف ذمہ داروں کو اطلاع نہیں دیتے ہم خود بھی  ان کے خلاف ایکشن لینے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں،مگر ہم بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ساری ذمہ داری حکومت پر ڈالتے ہیں، ممکن ہے کہ آپ کے پاس اختیار نہیں۔ حکومت کی طرف سے فنڈز نہیں ملتے ہوں یا اس میں کوئی سیاسی مداخلت کا جواز ہو، چونکہ جب خود مفاد پرستی اقرباپروری کی جاتی ہے تو اس کے سامنے معاشرہ عوام ملک کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ حاصل اختیارات اور وسائل کے اندر رہتے ہوئے بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے، انتظامی معاملات میں تو ایسا ہر وقت ممکن ہے، ملازمین موجود ہیں، مراعات بھی لے رہے ہیں،مگر کام کرنے کو تیار نہیں،کیونکہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

کوئی یونین کا صدر ہے کوئی سیکرٹری ہے کوئی دوسرا عہدیدار ہے اسی طرح فیڈریشن میں بھی لاپرواہی اور بے حسی کا وجود ہے۔دوسروں پر تنقید کرنا ہمارے ہاں سب سے آسان کام نظر آتا ہے، مگر بامقصد تنقید بہت کم نظر آتی ہے، ملک کے اکثر لوگوں نے معاشرے کو سلجھانا یا لوگوں کے حالات بہتر کرنے کا سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ حکومت کے خلاف اداروں کے خلاف اپنی ذاتی لڑائی اور مفادات کی  وجہ سے معاشرے کو خراب کر رہے ہیں، عوام بے چارے ہر طرح پریشانیوں میں گھرے ہوئے ہیں،لیکن حکومتی ارکان اور اپوزیشن کے ارکان اپنے اپنے مفادات کے حصول کا واویلا کرتے نظر آ رہے ہیں، اپوزیشن کی اکثریت سابقہ حکومت میں شامل رہی ہے،لیکن اس وقت ان باتوں کا یا مسائل کا قطعی طور پر ان کو پتہ نہیں چل سکا، جس کا اب ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ہمارے ہاں خبر کا مطلب ہے منفی پہلو۔منفی چیز یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ معاشرے میں اچھے کام بھی ہوتے ہیں، ہو رہے ہیں،لیکن میڈیا کے چند معزز اس طرف توجہ کم دیتے ہیں،سکولوں، کالجوں میں نفسیات کے اساتذہ اپنا کام ٹھیک طریقے سے نہیں کرتے تو انہیں کون سمجھائے یا بتائے کہ انہیں خود ایک مثال ہونا چاہئے اگر ہر سکول یا کالج کا پرنسپل اپنا کام ٹھیک طریقے سے کرے تو نظام تعلیم میں نظر آنے والی بہت سی خامیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ  سکول اور کالج کا پرنسپل حکومت کا حصہ ہے،ہر کوئی اپنا حق تو مانگتا ہے اور اس سے آشنا بھی ہے،مگر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کو تیار نہیں،حقوق حاصل کرنے کے لئے احتجاج بھی ہوتے ہیں اور مظاہرے بھی کئے جاتے ہیں،

مگر کبھی کسی نے ذمہ داریوں اور فرائض کی بجا آوری کے لئے بھی مظاہرہ کیا ہے؟اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کرنا بھی بہت بڑی بددیانتی ہے،جو بنیادی طور پر دوسری برائیوں کو جنم دیتی ہے نہ صرف یہ کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے، بلکہ دوسروں کو بھی ذمہ داری کا احساس دلانا ہو گا،پھر یہ معاشرہ ٹھیک ہو گا اس میں میڈیا اور سول سوسائٹی کے اچھے لوگ کردار ادا کر سکتے ہیں،جو ایسا دباؤ اور شعور پیدا کر سکتے ہیں، جس میں بے احساس لوگوں کا رہنا مشکل ہو گا، حکمت وقت کا بھی کام ذمہ داری ہے کہ کام چور اور اپنے فرائض ادا نہ کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دے، بے شک اس طرح کے عہدیداروں کو فارغ کرنا پڑے،جو معاشرے اور عوام کے لئے احساس نہیں رکھتے (کسی کو بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنی ہے) ہمارے پاس بہت وسائل ہیں،ضرورت صرف ان پر عمل کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کی ہے یہ بے حسی ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، جس کو جتنی جلدی ختم کیا جائے اتنا بہتر ہے، خدانخواستہ مرض لاء علاج نہ ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -