حکومت کا ”وائٹ گولڈ‘‘ پر فوکس، پیداوار میں 103فیصد اضافہ 

حکومت کا ”وائٹ گولڈ‘‘ پر فوکس، پیداوار میں 103فیصد اضافہ 

  

          ملتان(سپیشل رپورٹر،نیوز رپورٹر) ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں کاٹن بیلٹ کے اضلاع کی 44تحصیلوں میں کپاس کی بحالی کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کی بدولت حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کی جانب سے کاٹن کیلنڈر،زرعی زہروں کے کم سے کم استعمال اور ملاوٹ زدہ زرعی مداخل کی روک تھام کی بدولت گزشتہ کئی سالوں سے (بقیہ نمبر24صفحہ6پر)

زوال پذیری کا شکار پاکستانی وائیٹ گولڈ کی پنجاب میں یکم اکتوبر تک حاصل ہونے والی پیداوار میں 103فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)جاری کردہ اعدادو شمار  کے مطابق یکم اکتوبر2021تک ملک کی جننگ فیکٹریوں میں 38لاکھ 46ہزار463گانٹھ کپاس آئی۔یکم اکتوبر2020تک 19 لاکھ 7 ہزار518گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی تھی۔  گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 19لاکھ 38ہزار945گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں زائدآئی ہے۔ اضافے کی شرح 101.65فیصد رہی۔تاہم دوسری جانب صوبہ پنجاب کی فیکٹریوں میں 14لاکھ 95ہزار878گانٹھ کپاس آئی ہے جو گذشتہ سال کی اسی مدت میں فیکٹریوں میں آنے والی فصل7لاکھ36ہزار760گانٹھ کپاس سے 7لاکھ59ہزار118گانٹھ زائدہے۔ پنجاب میں اضافے کی شرح103.03 فیصد رہی۔ پی سی جی اے کے مطابق  صوبہ پنجاب میں 311جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں او ر13لاکھ76ہزار349گانٹھ روئی تیار کی گئی ہے۔ اسی طرح اگر کاٹن بیلٹ کے اضلاع کے اعدادوشمار کے مطابق ضلع ملتان میں یکم اکتوبر2021تک24ہزار644گانٹھ کپاس،ضلع لودھراں میں 43ہزار371گانٹھ کپاس،ضلع خانیوال میں 1لاکھ56ہزار 791گانٹھ کپاس، ضلع مظفر گڑھ میں 43ہزار 736گانٹھ کپاس،ضلع ڈیرہ غازی خان میں 1لاکھ 12ہزار051گانٹھ کپاس، ضلع راجن پور میں 53ہزار192گانٹھ کپاس،ضلع لیہ میں 80 ہزار698گانٹھ کپاس،ضلع وہاڑی میں 67ہزار812گانٹھ کپاس، ضلع ساہیوال میں 96 ہزار499گانٹھ کپاس، ضلع رحیم یار خان میں 1لاکھ52ہزار923گانٹھ کپاس، ضلع بہاولپور میں 1لاکھ 88ہزار276گانٹھ کپاس، ضلع بہاولنگر میں 3لاکھ92ہزار900گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے۔ مذکورہ اعدادوشمارکے مطابق کاٹن بیلٹ کے اضلاع کی 44تحصیلوں میں کپاس کی پیداوار کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوئے ہیں۔اس ضمن میں سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کا کہنا ہے کہ ہم پرامیدہیں کہ ماہ اکتوبر میں حاصل ہونے والی پیداوار کاٹن زون کے سابقہ پیداواری اہداف کے مقابلہ میں پچاس فیصد تک زیادہ ہوگی جی کی بنیادی وجہ جبوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کے بعد یہاں بیٹھ کر حکومتی اقدامات پر عمل درآمد کرانا ہے۔جن کے نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)نے کپاس کی فیکٹریوں میں آمد کے اعدادو شمار جاری کر دیئے ہیں جسکے مطابق یکم اکتوبر2021تک ملک کی جننگ فیکٹریوں میں 38لاکھ 46ہزار463گانٹھ کپاس آئی۔یکم اکتوبر2020تک 19 لاکھ7ہزار518گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی تھی۔      گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 19لاکھ 38ہزار945گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں زائدآئی ہے۔ اضافے کی شرح 101.65فیصد رہی۔ صوبہ پنجاب کی فیکٹریوں میں 14لاکھ 95ہزار878گانٹھ کپاس آئی ہے جو گذشتہ سال کی اسی مدت میں فیکٹریوں میں آنے والی فصل7لاکھ36ہزار760گانٹھ کپاس سے 7لاکھ59ہزار118گانٹھ زائدہے۔ پنجاب میں اضافے کی شرح103.03 فیصد رہی۔صوبہ سندھ کی فیکٹریوں میں 23لاکھ 50ہزار 585گانٹھکپاس فیکٹریوں میں آئی ہے جبکہ گذشتہ سال11لاکھ70ہزار758گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی تھی۔صوبہ سندھ میں اضافے کی شرح 100.77فیصد رہی۔  یکم اکتوبر2021تک فیکٹریوں میں آنے والی کپاس سے34 لاکھ23ہزار329گانٹھ روئی تیار کی گئی۔ ملک میں 556جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں۔ ایکسپورٹرز نے رواں سیزن میں 3 ہزار600گانٹھ روئی خرید کی ہے جبکہ ٹیکسٹائل سیکٹرنے 33لاکھ 3ہزار500گانٹھ روئی خرید کی ہے۔  ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان(TCP)     نے کاٹن سیزن 2021-22میں خریداری نہیں کی ہے۔ صوبہ پنجاب میں 311جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں او ر13لاکھ76ہزار349گانٹھ روئی تیار کی گئی ہے۔ ضلع ملتان میں یکم اکتوبر2021تک24ہزار644گانٹھ کپاس،ضلع لودھراں میں 43ہزار371گانٹھ کپاس،ضلع خانیوال میں 1لاکھ56ہزار 791گانٹھ کپاس، ضلع مظفر گڑھ میں 43ہزار 736گانٹھ کپاس،ضلع ڈیرہ غازی خان میں 1لاکھ 12ہزار051گانٹھ کپاس، ضلع راجن پور میں 53ہزار192گانٹھ کپاس،              ضلع لیہ میں 80 ہزار698گانٹھ کپاس،ضلع وہاڑی میں 67ہزار812گانٹھ کپاس، ضلع ساہیوال میں 96 ہزار499گانٹھ کپاس، ضلع رحیم یار خان میں 1لاکھ52ہزار923گانٹھ کپاس،        ضلع بہاولپور میں 1لاکھ 88ہزار276گانٹھ کپاس، ضلع بہاولنگر میں 3لاکھ92ہزار900گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے۔                               ضلع سانگھڑمیں 11لاکھ34ہزار 028گانٹھ کپاس، ضلع میر پور خاص میں 64ہزار600 گانٹھ کپاس، ضلع نواب شاہ میں 1لاکھ37ہزار140گانٹھ کپاس، ضلع نو شہرو فیروز میں 1لاکھ72ہزار209 گانٹھ کپاس، ضلع خیر پور میں 1لاکھ97ہزار482گانٹھ کپاس، ضلع سکھر میں 2لاکھ84ہزار373گانٹھ کپاس، ضلع جام شورومیں 58 ہزار664گانٹھ کپاس اور ضلع حیدرآباد میں 1لاکھ19 ہزار194گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے۔ غیر فروخت شدہ سٹاک 5لاکھ39 ہزار363گانٹھ کپاس اور روئی موجود ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -