کیا یہ کوئی انہونی بات تھی کہ انھوں نے تھوڑے سے سکون کی تمنا کی تھی ! 

کیا یہ کوئی انہونی بات تھی کہ انھوں نے تھوڑے سے سکون کی تمنا کی تھی ! 
کیا یہ کوئی انہونی بات تھی کہ انھوں نے تھوڑے سے سکون کی تمنا کی تھی ! 

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:35

 سارا موسم ِ گرما وہ جی جان سے مشقت کرتے رہے تب سردیوں میں کہیں جاکر وہ اتنے پیسے جوڑنے کے قابل ہوئے کہ اونا اور یورگس کی شادی اپنے ریت رواج کے مطابق کر سکیں۔ نومبر کے آخر پر انھوں نے ایک ہال کرائے پر لیا اور اپنے سب نئے جاننے والوں کو مدعو کیا۔ وہ سب آئے اور جاتے ہوئے انہیں 100 ڈالر سے زیادہ کا مقروض کر گئے۔

یہ بہت تلخ اور برا تجربہ تھا جس نے انہیں مایوسی کی اذیّت میں مبتلا کردیا۔ایسے وقت میں جب ان کے دل محبت سے لبریز تھے اور وہ اپنی نئی زندگی شروع کر نے لگے تھے، یہ اچھی بات نہیں تھی۔ انہیں ایک دوسرے سے کتنی محبت تھی، انھوں نے کس طرح ان تھک کام کیا تھا۔ یہ ایسا وقت تھا کہ انہیں خوش ہونا چاہیے تھا۔ ان کے دل میں خوشیاں ہمک رہی تھیں۔ اپنی محبت کو مجسم حقیقت کے روپ میں دیکھ کر ان کی روح تک سرشار تھی تو کیا یہ کوئی انہونی بات تھی کہ ایسے میں انھوں نے تھوڑے سے سکون کی تمنا کی تھی ! ابھی تو ان کے دل بہار کے پھولوں کی طرح کِھلے ہی تھے کہ بے رحم سرما نے انہیں کمھلا دیا۔ انھوں نے سوچا۔۔۔ کیا دنیا میں کسی کی محبت کا پھول اتنی بے رحمی ساتھ بھی کچلا مسلا گیا ہوگا ! 

شادی سے اگلی صبح ضرورت اور مجبوری کا سفّاک اور بے رحم کوڑا ان کی نیند کی کمر پر پڑا اور انہیں مونھ اندھیرے کام کے لیے گھر سے نکال باہر کھڑا کیا۔اونا اتنی تھکی ہوئی تھی کہ اس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جارہا تھا لیکن اگر مالکوں نے اس کی جگہ کسی اور کو رکھ لیا تو وہ برباد ہوجائیں گے۔ اور اگر اسے کام پر پہنچنے میں دیر ہوئی تو نوکری سے چھٹی یقینی تھی۔ان سب ہی کو کام پر پہنچنا تھا حتیٰ کہ ننھے سٹینس کو بھی جس کی طبیعت زیادہ کھانے کی وجہ سے خراب تھی۔سارا دن وہ مشین پر کھڑا جھولتا، اونگھتا رہا۔ اس کی آنکھیں بند ہوئی جاتی تھیں۔ لیکن نوکری تو پھر بھی جاتی رہی کیوں کہ فورمین نے دو بار ٹھوکرمار کر اسے جگایا تھا۔

انہیں معمول پر آنے میں پورا ہفتہ لگا۔ اور اس دوران روتے بچوں اور ناراض بڑوں کے ساتھ یہ گھر کوئی ایسی جگہ نہیں تھا جسے رہنے کے حوالے سے خوش گوار کہا جا سکے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود یورگس خود پر قابو رکھتا تھا۔ اس کی وجہ اونا تھی جس کی ایک جھلک ہی اس کے غصے کو فرو کر دیتی تھی۔ وہ بہت حسّاس تھی اور اس طرح کی زندگی کے لیے تو قطعی ناموزوں۔ دن میں جب بھی یورگس کو اس کا خیال آتا، وہ مٹھیاں بھینچ لیتا اور کام پر جُٹ جاتا۔وہ بار بار خود سے کہتا کہ اونا اس کی حیثیت سے زیادہ اچھی ہے اور وہ اس کے کھونے کے خیال سے خوفزدہ رہتا۔ اس نے کتنی شدت سے اسے اپنانا چاہا تھا، اور اب جب وہ وقت آگیا تھا تو وہ سوچتا کہ اس میں اونا کی سادگی اور بھولپن تھا ورنہ یورگس میں تو کوئی خوبی نہیں تھی۔ اس نے فیصلہ کیا تھا کہ اونا کو کبھی اپنی بے ما ئیگی کا پتا نہیں چلنے دے گا۔ وہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی خامی کا دھیان رکھے گا۔ یہ جو اس کی کسی بھی غلط کام پر بات بے بات گالی دینے کی عادت ہے وہ اس پر بھی قابو رکھے گا۔ اونا کی آنکھوں میں آنسو تو بس یوں ہی آجاتے تھے۔ ایسے میں وہ ہمیشہ یورگس کی طرف ملتجیانہ نظروں سے دیکھتی تھی اور یورگس فوراً خود سے عہد کرنے لگتا تھا۔ یہ بھی سچ تھا کہ ان حالات میں یورگس کے دماغ میں اتنے مسائل کا انبار تھا جن کا اس سے پہلے اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

اسے اونا کی حفاظت کرنا تھی۔ اسے ان مشکلوں سے بچانا تھا جن کا وہ ہر روز مشاہدہ کرتا تھا۔ ایک وہی تو تھا جس کی طرف وہ دیکھتی تھی اور اس نے بھی اونا کو مایوس کر دیا تو وہ بکھر جائے گی۔ وہ اسے اپنی بانھوں میں سمیٹ کر دنیا سے چھپا لے گا۔ اب اسے اپنے اردگرد کے کاموں کی سمجھ آنے لگی تھی۔ یہ فرد کی گروہ کے ساتھ جنگ تھی جس میں پیچھے رہ جانے والا بری موت مارا جاتا تھا۔ یہاں آپ لوگوں کو دعوت نہیں دیتے تھے بلکہ انتظار کرتے تھے کہ لوگ آپ کو مدعو کریں۔ ہر آدمی کے دل میں شک اور نفرت کا زہر بھرا ہوا تھا۔یہاں ہر قوّت آپ کی جیب کاٹنا چاہتی تھی اور نیکی صرف دوسروں کو پھا نسنے کا ایک پھندا تھی۔ دکاندار سادہ لوح گاہک کو پھانسنے کے لیے اپنی کھڑکیوں پر دنیا جہان کی جھوٹی باتیں لکھ دیتے تھے۔ دیواروں، کھمبوں اور باڑوں پر ہر جگہ جھوٹ ٹنگا نظر آتا تھا۔ جو کمپنی آپ کو ملازم رکھتی تھی وہ آپ سے ہی کیا پورے ملک سے جھوٹ بولتی تھی۔ اوپر سے نیچے تک سب کچھ ایک دیوقامت جھوٹ تھا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -