بقراط۔۔۔حیات ، فلسفہ اور نظریات

بقراط۔۔۔حیات ، فلسفہ اور نظریات
بقراط۔۔۔حیات ، فلسفہ اور نظریات

  

مین سرخی:عہد نامۂ بقراط

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:33

 حیات و موت کے مالک، صحت بخشنے والے اور شفاءاور ہر علاج کے خالق کی قسم کھا کر کہتا ہوں، اسقلیبوس کی قسم اٹھاتا ہوں، مردوں اور عورتوں میں اللہ کے جو اولیاءپیدا ہوئے ان سب کی قسم کھاتا ہوں اور انہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں اس قسم اور شرط کو پورا کروں گا اور جس نے مجھے اس فن کی تعلیم دی ہے اسے اپنے آباءکے بمزلہ تصور کروں گا۔ اپنی معاش سے اس کی مدد کروں گا، اسے مال کی ضرورت ہوگی تو اپنی دولت سے اس کی خدمت کروں گا۔ اس کی نسل کو اپنے بھائیوں کے برابر سمجھوں گا۔ اگر ضرورت ہوگی تو یہ فن انہیں بغیر کسی اجرت اور شرط کے سکھاﺅں گا۔ اپنی اولاد، اپنے معلم کی اولاد اور ان تلامذہ کو جن پر شرط فرض ہو چکی ہو اور جنہوں نے طبی ناموس کی قسم کھالی ہو، وصیتوں علوم و مصارف اور جو کچھ کہ اس فن کے اندر ہے ان سب میں شریک کروں گا، ان کے علاوہ دوسروں کے ساتھ یہ سلوک نہ کروں گا۔

 امکان کی حد تک تمام تدابیر میں مریضوں کے فائدے کا خیال رکھوں گا، جو اشیاءان کے حق میں مضر اور ان پر ظلم و زیادتی کے مترادف ہوں گی، اپنے خیال کی حد تک انہیں ان سے محفوظ رکھوں گا۔

 اگر کوئی مریض مہلک دوا کا طالب ہوگا تو نہ دوں گا نہ ہی اسے اس قسم کا کوئی مشورہ پیش کروں گا۔

 عورتوں کے حوالے سے پاکیزگی پر ثابت قدم رہوں گا۔

 جس مریض کے مثانہ میں پتھری ہوگی اس پر گراں نہ بنوں گا بلکہ اسے اس شخص کےلئے چھوڑ دوں گا جس کا یہ پیشہ ہوگا۔

 میں جس گھر میں داخل ہوں گا اس میں محض مریضوں کو فائدہ پہنچانے کی خاطر داخل ہوں گا۔

 میں تمام باتوں میں عورتوں اور مردوں، خواہ آزاد ہوں خواہ غلام ،کے باب میں ہر ظلم و ستم اور بدنیتی سے پاک رہوں گا۔

 مریضوں کے معالجہ کے وقت جو چیزیں دیکھوں گا یا سنوں گا یا لوگوں کے تعرفات میں جو باتیں مریضوں کے معالجاتی اوقات کے علاوہ نظر آئیں گی کہ انہیں خارج میں کہا نہ جا سکے، ان سے باز رہوں گا اور یہ سمجھوں گا کہ اس طرح کی باتیں نہیں کہی جاتی ہیں، جو اس قسم کو پورا کرے گا اور اس میں سے کسی چیز کی خلاف ورزی نہ کروں گا، اسے یہ حق پہنچے گا کہ اس کی تدبیر اور اس کا فن نہایت خوب صورتی اور افضل طریقہ پر کمال پر پہنچے اور لوگ آنے والے زمانے میں اس کے فن کی نہایت خوبصورتی سے ہمیشہ تعریف کریں گے۔

 مگر جو اس سے تجاوز کریں گے، اس کا حال برعکس ہوگا یہ ناموس طب کا وہ نسخہ ہے جسے بقراط نے تیار کیا تھا۔ اس نے کہا ہے کہ طب تمام فنون کے اندر ایک اعلیٰ اور اشرف فن ہے اسے اختیار کرنے والے کی کوتاہ فہمی اس بات کا سبب بن جائے گی کہ لوگ اس فن کو چھین لیں گے۔

 کیونکہ تمام دنیا میں اس کے علاوہ کوئی اور عیب نہیں ہے کہ دعویٰ تو فن طب کا کیا جائے مگر اس کی اہلیت نہ ہو۔

 اس کی مثال سراب کی ہے جسے لوگوں کی تفریح کی خاطر داستان گو حضرات پیش کرتے ہیں۔ جس طرح سراب کی محض صورتیں ہوتی ہیں، حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا، اسی طرح نام کے اطباءتو زیادہ ہیں لیکن بالفعل بہت کم ہیں۔

 فن طب حاصل کرنے والے کے لیے مناسب ہے کہ عمدہ اور ساز گار طبیعت، شدید سچی طلب اور مکمل رغبت رکھتا ہو۔ ان تمام باتوں میں سب سے افضل طبیعت کا مسئلہ ہے۔ یہ ساز گار موافق ہو تب ہی تعلیم کی جانب متوجہ ہونا چاہیے۔ طالب فن گھبراہٹ اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے تاکہ اس کے فکر کے پردہ پر فن کی تصویریں چھپ سکیں اور بہتر نتائج برآمد ہوں۔

مثال کے لیے زمین کا پودا پیش نظر رکھو۔ طبیعت مثل مٹی کے تعلیمی عفت مثل کھیتی کے اور تعلیمی تربیت عمدہ زمین کے اندر بیج پڑنے کی مثل ہے۔

 فن طب کے بارے میں جب ان باتوں پر توجہ مبذول کی جائے گی تب جو طلباءفارغ ہوں گے وہ محض نام کے نہیں بلکہ کام کے اطباءہوں گے۔ علم طب عالم طب کا ایک عمدہ خزانہ اور شاندار ذخیرہ ہے، کھلے اور چھپے طور پر وہ اسے خوشیوں سے بھر دے گا۔ مگر پیشہ طب اختیار کرنے والا اگر جاہل ہے تو اس کا فن برا ہے اس کا ذخیرہ خراب ہے وہ خوشی نہیں پا سکتا بے صبر ضعف کی علامت اور فن طب سے کم واقفیت کی دلیل ہے۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -