بنگالیوں سے رعونت اور بالادستی کا مظاہرہ کیا جا ئے تو وہ بچھو بن جاتے تھے

بنگالیوں سے رعونت اور بالادستی کا مظاہرہ کیا جا ئے تو وہ بچھو بن جاتے تھے
بنگالیوں سے رعونت اور بالادستی کا مظاہرہ کیا جا ئے تو وہ بچھو بن جاتے تھے

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:9 

الطاف حسن قریشی نے اپنے مضمون میں بھی اس قسم کے واقعات لکھے ہیں کہ وہ کسی کے خلاف محاذ نہیں بناتے تھے مثلاً ان سے پہلے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر تفصل حسین صدیق سالک سے عداوت رکھتے تھے لیکن سالک نے کبھی ان کے خلاف کچھ نہیں لکھا ”سلیوٹ“ میں ایک دو جگہ ان کا ذکر کیا ہے لیکن عام سے لہجے میں جس سے کہیں یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ شخص ان کے لیے اچھے جذبات نہیں رکھتا تھا.

صدیق سالک ایک انسان دوست اور ہمدرد انسان تھے قیام ڈھاکہ کے دوران وہ اعلیٰ فوجی افسروں کے بر خلاف بنگالیوں سے محبت کا برتاﺅ رکھتے تھے ان کا خیال تھا کہ ہماری حکومت اور ارباب اختیار کے رویئے نے بنگالیوں میں نفرت پیدا کر دی ہے۔ ان کی محبت کے جواب میں بنگالی ان سے بہت محبت کرتے تھے خود لکھتے ہیں :

”اس خیر سگالی میں میرا کوئی کمال نہ تھا‘ دراصل وہ خود بڑے محبت کرنے والے لوگ تھے‘ اگر میں یہ کہوں توبے جانہ ہو گا کہ وہ محبت کے پیاسے تھے‘ اگر ان کی محبت کا جواب محبت سے دیا جاتا تو وہ بچھ جاتے تھے اور اگر ان سے رعونت اور بالادستی کا مظاہرہ کیا جا ئے تو وہ بچھو بن جاتے تھے۔“

مارشل لاءسے وابستگی:

یہ صدیق سالک کی زندگی کا سب سے متنازعہ پہلو ہے جو ان کی شخصیت کے ساتھ ان کی ادبی ساکھ پر بھی اثر انداز ہوا۔ ایک تعلیم یافتہ‘ روشن خیال ‘ حق پرست جمہوریت پسند اور سب سے بڑھ کر ادیب ہوتے ہوئے آمریت کا ساتھ دینا قابل تحسین نہیں تھا لیکن اس الزام کی صداقت جاننے کے لیے جب ان کی زندگی اور تحریروں کا جائزہ لیں تو مختلف جواب سامنے آتا ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات منظر اور پس منظر میں بہت فرق ہوتا ہے:

درحقیقت صدیق سالک نے ہمیشہ آمریت کو نا پسند کیا-1958ءکے مار شل لا ءکے وقت ایوب خان کا دور حکومت تھا مجموعی طور پر بحیثیت حکمران وہ انھیں نا پسند کرتے تھے اور اس کی سب سے بڑی وجہ آمریت تھی۔1964ءکے صدارتی انتخاب میںصدر ایوب کے مقابل محترمہ فاطمہ جناح تھیں،صدیق سالک محترمہ فاطمہ جناح کے زبردست حامی تھے اس کے متعلق لکھتے ہیں:

”میَں تازہ تازہ سویلین زندگی سے آیا تھا فوجی آداب سے واقف نہ ہونے کی بناءپر موضوع پر کھل کر اظہار خیال کرنے لگتا پچھلے6 برسوں میں فیلڈ مارشل کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر سیر حاصل تبصرہ کرتا، محترمہ فاطمہ جناح اور بانی پاکستان سے ان کے قریبی رشتے پرروشنی ڈالتا اور مستقبل کے بارے میں خاصے وثوق سے پیش گوئی کرتا کہ اگر محترمہ فاطمہ جناح جیت نہ بھی سکیں تو بھی فیلڈ مارشل کو ناکوں چنے چبوائیں گی- دراصل یہ میرا دل پسند موضوع تھا جس طرح خالص فوجی شمالی افریقہ میں فیلڈ مارشل رو میل کی لومڑانہ جستوں پر روانی سے بولتے تھے اسی طرح میں جمہوریت اور مارشل لا کے محاسن ونقائص پر رواں تبصرہ کرتا۔“( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -