عمر کوٹ میں اقلیتی تاجر رہنماسے ڈکیتی اور حملے کے ملزمان تاحال آزاد، سیاسی دباؤ کی وجہ سے ملزم گرفتار نہیں ہوئے : لال چند مالہی

عمر کوٹ میں اقلیتی تاجر رہنماسے ڈکیتی اور حملے کے ملزمان تاحال آزاد، سیاسی ...
عمر کوٹ میں اقلیتی تاجر رہنماسے ڈکیتی اور حملے کے ملزمان تاحال آزاد، سیاسی دباؤ کی وجہ سے ملزم گرفتار نہیں ہوئے : لال چند مالہی

  

عمرکوٹ(سید ریحان شبیر  سے)عمرکوٹ پولیس 10 روز گزر جانے کے باوجود اقلیتی تاجر رہنما اشوک کمار اور اس کے بیٹے پر قاتلانہ حملہ اور ڈکیتی میں ملوث ملزمان کو گرفتار نہ کرسکی ۔ تحریک انصاف کے مستعفی ایم این اے لال چند مالہی کاکہناہےکہ پولیس شہریوں کو خصوصاً اقلیتی برادری سے وابستہ تاجروں کو  تحفظ دینے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے، پولیس سیاسی پریشر کےباعث ملزمان کوگرفتار نہیں کررہی ہے  ۔

عمرکوٹ میں بدامنی اپنے عروج پر ہے اور آئے روز چوری و دیگر جرائم کی وارداتوں میں دن  بدن اضافہ دیکھا جارہاہے،  10 روز گزر جانے کے باوجود راہزنی اور قاتلانہ حملہ میں زخمی ہونے والے اقلیتی تاجر رہنما اشوک کمار اور سنتوش کے  ملزمان کو گرفتار نہیں کرسکی ۔پولیس نے  ملزمان کا سراغ لگا لیا مگر بااثر ملزمان کا تعلق مبینہ طورپر ایک سیاسی  جماعت سے بتایا جاتا ہے جس کی وجہ سے  پولیس کوئی ایکشن لینے سے قاصر ہے۔ یادرہے کہ  23  ستمبر کو  تھر بازار میں آٹے کی فلور مل میں4ملزمان نے داخل ہوکر کرتاجر رہنما اشوک کمار اور سنتوش کمار کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اشوک کمار کےبیٹے سنتوش  کو گولی مار دی تھی ۔عمرکوٹ پولیس کو جائے واردات سے 1 موٹر سائیکل  اور 2 پستول ملےتھےجو ملزمان  کے نام پر رجسٹر تھے، کرائم سین کی ایک ویڈیو بھی پولیس کے پاس موجود ہے۔

پی ٹی آئی کے مستعفی رکن قومی اسمبلی  لال چند    مالہی کاکہنا ہے کہ عمرکوٹ انتہائی پرامن علاقہ ہے اور اس طرح کی واردات سے علاقے میں خوف پھیل گیا ہے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -عمرکوٹ -