بھارتی گاﺅں جہاں مردوں نے کئی شادیاں کررکھی ہیں لیکن ازدواجی تعلقات سمیت ان کا شوہر پر کوئی حق نہیں ہوتا، حیران کردینے والی کہانی 

بھارتی گاﺅں جہاں مردوں نے کئی شادیاں کررکھی ہیں لیکن ازدواجی تعلقات سمیت ان ...
بھارتی گاﺅں جہاں مردوں نے کئی شادیاں کررکھی ہیں لیکن ازدواجی تعلقات سمیت ان کا شوہر پر کوئی حق نہیں ہوتا، حیران کردینے والی کہانی 

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) ہندومذہب میں دوسری شادی ممنوع ہے مگر بھارت کے ایک گاﺅں میں پانی کی کمی نے لوگوں کو اس ممنوعہ کام پر مجبور کر دیا ہے۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق اس گاﺅں کا نام ’ڈینگن مل‘ہے جو ریاست کے دارالحکومت ممبئی سے 185کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پہاڑی علاقے میں واقع اس گاﺅں کی آبادی 500نفوس پر مشتمل ہے۔

اس گاﺅں کا پانی کا واحد ذریعہ ایک دریا پر بنایا گیا بھاستہ ڈیم ہے اور اس ڈیم تک آنے جانے میں 12گھنٹے لگتے ہیں۔ گاﺅں کے لوگوں کا پیشہ کھیتی باڑی ہے۔ چنانچہ مرد کھیتوں میں کام کرتے ہیں جبکہ خواتین گھر چلاتی اور گھر میں استعمال کے لیے ڈیم سے پانی لاتی ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق ایک بیوی کے لیے بیک وقت ڈیم سے پانی لانا اور گھر کے دیگر کام کاج کرنا ممکن نہیں ہوتا لہٰذا یہاں کے مردوں میں ایک سے زائد شادیوں کی روایت پڑ چکی ہے۔ ایک خاتون گھر میں بچوں کو سنبھالتی اور کام کاج کرتی ہے جبکہ دوسری ڈیم سے پانی لینے جاتی ہے۔

چونکہ بھارت میں ہندوﺅں کے لیے ایک شادی ہی قانوناً جائز ہے، لہٰذا اس گاﺅں کے مردوں کی صرف ایک ہی شادی قانونی ہوتی ہے۔ باقی شادیوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی اور ان بیویوں کا واحد مقصد گھر میں استعمال کے لیے پانی لانا ہوتا ہے۔ گاﺅں میں کئی مردوں نے تو چار تک شادیاں کر رکھی ہیں۔ ان بیویوں کو مقامی لوگ ’پانی بائی‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

گاﺅں کے باسی شیکھرم بھگت نے تین شادیاں کر رکھی ہیں، اس کی فیملی اس وقت گاﺅں میں سب سے بڑی ہے۔ اس کی دوسری اور تیسری بیویاں پینے اور کھانے پکانے کے لیے پانی لاتی ہیں اور پہلی گھر سنبھالتی ہے۔ شیکھرم بھگت نے بتایا ہے کہ میری پہلی بیوی کو بچوں سے ہی فرصت نہیں ملتی تھی، چنانچہ میں نے دوسری شادی کر لی۔ چند سال بعد دوسری بیوی بیمار پڑ گئی تو پانی لانے کے لیے مجھے تیسری شادی کرنی پڑی۔ اب دوسری بھی صحت مند ہو چکی ہے اور تیسری کے ساتھ مل کر پانی لاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پانی کے لیے کی گئی ایک سے زائد شادیوں کی چونکہ کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی لہٰذا ان بیویوں کو بھی شوہر پر کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ ازدواجی تعلق بھی قائم نہیں کرتی ، لہٰذا ان کی اولاد بھی نہیں ہوتی۔ نہ ہی گھر کے معاملات اور فیصلوں میں انہیں دخل اندازی کی اجازت ہوتی ہے۔ 

آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ پھر یہ پانی بائیاں اس طرح کی شادیاں کیوں کرتی ہیں؟ اس کا جواب ہے کہ صرف سماج میں عزت کے لیے ایسا کرتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق پانی بائیاں صرف وہی خواتین بنتی ہیں جو بیوہ ہوتی ہیں اور اکیلی اپنے بچے پال رہی ہوتی ہیں۔ بیواﺅں کو چونکہ ہندومعاشرے میں کوئی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا، لہٰذا یہ خواتین ایک بار پھر سماج میں عزت پانے کے لیے پانی بائی بننے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔اس طرح اگر ان کے بچے ہوں تو انہیں بھی کفیل میسر آ جاتا ہے۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -