برطانوی حکمران اور پنجابی مجاہدین آزادی

برطانوی حکمران اور پنجابی مجاہدین آزادی
برطانوی حکمران اور پنجابی مجاہدین آزادی

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:64 

پنجاب نے ہندوستان کی جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ ہندوستان کی جدوجہد آزادی پر کوئی ایسی تاریخ نہیں لکھی جا سکتی جس میں پنجاب کے ان سورماﺅں کا سنہری حروف میں ذکر نہ کیا گیا ہو جنہوں نے ملک کی آزادی کی خاطر اپنے سروں کا نذرانہ پیش کیا۔ جان کی قربانیوں کی داستانیں اس قدر رنگین ہیں کہ اگر انہیں خارج کر دیا جائے تو تاریخ کا حسن ماند پڑ جائے گا۔

 پنجاب کی انگریز دشمن جنگ وجدل ایک طویل داستان ہے۔ ایک کہانی سے دوسری کہانی جنم لیتی نظر آتی ہے، ایک دیے سے دوسرا دیا روشن ہوتا ہے۔ آج پنجاب کی نئی نسل کے لیے اس کی آگہی ضروری ہے کیونکہ بیرونی حملہ آوروں کے خلاف جنگ کی تاریخ کے یہ صفحات ہماری درسی کتب میں سے پھاڑ کر پھینک دیئے گئے ہیں۔ اصلی ہیرو نکال کر جعلی ہیرو کتابوں میں ٹھونس دیئے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ آج پنجاب کے بچے بوڑھے احمد کھرل، کرتار سنگھ سرابھا، بھگت سنگھ اور سیف الدین کچلو کے ناموں تک سے ناآشنا ہیں۔ جو سلوک پنجابی زبان سے روا رکھا گیا وہی پنجاب کی تاریخ سے کیا گیا۔

 تاریخ جدوجہد کرنے والی قوموں کے لیے مشعل راہ بھی ہوتی ہے اور ان کا سہارا بھی بنتی ہے۔ کسی بھی قوم کی تاریخ میں سے وہ صفحات نکال دیئے جائیں جن میں ان کے ظلم و جبر کے خلاف کارناموں اور فتوحات کا ذکر ہے تو ان کے حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں۔ ان میں حالات سے پنجہ آزما ہونے کی جگہ مایوسی، بددلی اور حالات سے سمجھوتہ کرنے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ جن لوگوں نے پنجاب کے عوام کی بیرونی حملہ آوروں کے خلاف جدوجہد کے سنہری اوراق پھاڑ کر ضائع کرنے کی کوشش کی ان کا مقصد پنجابی قوم سے ان کا سرمایہ فخر چھین کر اسے بزدل بنانا اور جابر قوتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تھا۔ ان لوگوں نے یہ حقیقت چھپانے کی کوشش کی ہے کہ پنجابیوں کا اصل کردار آزادی کے محافظوں اور ہر آمر، ظالم اور لٹیرے کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جوانمردی سے جان قربان کرنے والوں کا رہا ہے۔

 انگریز سامراجی تمام ہندوستان فتح کرنے کے بعد پنجاب پر قابض ہوئے اور ان کا اس صوبے پر اقتدار 98 سال تک قائم رہا۔ ان 98 برسوں میں پنجاب کے عوام نے انگریزوں کے خلاف کئی جنگیں لڑیں اور ان لڑائیوں نے کئی رنگ اختیار کیے۔ ان کی انگریز دشمن جدوجہد نے کبھی مذہبی رنگ، کبھی طبقاتی اور گروہی شکل اختیار کی اور کبھی وہ سارے ہندوستان کی جدوجہد آزادی کا بھرپور حصہ بنی۔ اس کے مذہبی روپ نامدھاری کوکا تحریک1871-72، ببراکالی تحریک1921-22 اور ہجرت تحریک تھے۔1907-8 کی دیہاتوں میں چلنے والی کالونائزیشن بل کے خلاف تحریک جس میں ”پگڑی سنبھال جٹا“ کے گیت کو مقبولیت حاصل ہوئی کسان طبقے کی تحریک تھی۔ رولٹ ایکٹ کے خلاف تحریک(1919) نیز نوجوان بھارت سبھا(1921-31) کی سرگرمیاں اور آزاد ہند فوج کی بغاوت پورے ہندوستان میں جاری آزادی کی تحریک کا حصہ تھیں۔

پنجاب کی بدیسی حکمرانوں کے خلاف تحریکوں نے پرامن جدوجہد کا راستہ بھی اختیار کیا اور مسلح جدوجہد کا بھی۔ یہ کبھی عام جمہوری تحریک بن کر بپھرے ہوئے دریا کی طرح آگے بڑھی۔ کبھی اس نے اندر ہی اندر کاٹ کرتی ہوئی لہر کی طرح زیر زمین تحریک کا روپ اختیار کیا۔

 ان تحریکوں کی قیادت درمیانے اور نچلے درمیانے طبقے کے ہاتھوں میں تھی اور تحریکوں میں حصہ لینے والوں کی اکثریت کسانوں اور محنت و مشقت کرنے والوں کی تھی۔ یہی طبقے پنجاب میں98 سال تک انگریزوں کے خلاف جنگ کرتے رہے۔ ان کی قیادت کرنے والے ہمارے لیے روشنی کا مینار اور ہمارے فخر میں اضافہ کرنے والے ہیرو ہیں۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -علاقائی -سندھ -