ایسے بہت سے خطرے تھے جن کے سامنے وہ بے بس تھے

 ایسے بہت سے خطرے تھے جن کے سامنے وہ بے بس تھے
 ایسے بہت سے خطرے تھے جن کے سامنے وہ بے بس تھے

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:36

 تو یورگس کا کہنا تھا کہ وہ سب سمجھ گیا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ کچھ نہیں سمجھا تھا کیوں کہ ہر کام نا منصفانہ تھا۔ ابھی تو وہ گھٹنوں پر جھکا عہد کر رہا تھا کہ وہ اونا کو ہر تکلیف سے بچائے گا اور ایک ہی ہفتے کے بعداونا دکھ اور اذیت سہنے پر مجبور ہو گئی تھی اور وہ بھی ایک ایسے دشمن کے ہاتھوں جس کا یورگس کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ بعضے بعضے دن بارش کے ڈونگرے برستے اور اگر اوپر سے مہینا بھی دسمبر کا ہوتو گیلے کپڑوں کے ساتھ براو¿ن کے ٹھنڈے یخ تہہ خانے میں سارا دن بیٹھ کر کام کرنا کوئی مذاق نہیں تھا۔ وہ ایک مزدور تھی اور اس کے پاس پانی اور نمی سے بچاؤ کے لیے کچھ نہیں تھا، چنانچہ یورگس نے اسے کام پر جانے کے لیے گاڑی میں سفر کرنے کو کہا، اب یہ اتفاق کی بات تھی کہ یہ گاڑیاں جن معززین شہر کی تھیں وہ دولت کمانے کی کوشش کر رہے تھے، اور شہری انتظامیہ نے آرڈیننس پاس کیا تھا جس کی رُو سے انہیں مسافروں کو رعایت کی سہولت دینا تھی جس پر گاڑیوں والے بہت ناراض تھے۔ پہلے تو انھوں نے یہ اصول بنایا کہ صرف اس مسافر کو رعایت دی جائے گی جو پورا کرایہ ادا کرے گا، بعد میں اس میں مزید یہ تبدیلی کی گئی کہ مسافر کو یہ سہولت خود مانگنا پڑے گی، کنڈکٹر اپنے آپ سے کسی کو رعایت کی پیش کش نہیں کرے گا۔ اونا کو بتایا بھی گیا تھا کہ وہ رعایت مانگ لے لیکن اس کے تو مونھ میں زبان ہی نہیں تھی چناں چہ وہ نظروں سے کنڈکٹر کا تعاقب کرتی رہی کہ اسے کب اس کا خیال آتا ہے۔ بالآخر جب اترنے کا وقت آیا تو اس نے ڈرتے ڈرتے رعایت کا سوال کیا جس کا جواب انکار میں ملا۔ اس نے بحث شروع کر دی اور وہ بھی اس زبان میں جس کا کنڈکٹر کو ایک لفظ بھی نہیں آتا تھا۔ کئی بار اسے دھمکانے کے بعد کنڈکٹر نے گھنٹی بجا کر گاڑی چلوا دی جس پر اونا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اگلے سٹاپ پر وہ گاڑی سے اتری۔ اس کے پاس کوئی پیسا نہیں بچا تھا۔ برستی بارش میں اسے یارڈز تک پیدل جانا پڑا۔ سارا دن وہ کپکپاتی رہی اور رات کو گھر آئی تو اس کے دانت بج رہے تھے اور سر اور کمر میں شدید درد تھا۔ وہ 2ہفتے تک یہ اذیت سہتی اور اسی حال میں ہر روز کام پر جاتی رہی۔ فور وومن اس پر زیادہ ہی سختی کرتی تھی۔ اس نے اونا کو شادی سے اگلے دن بھی چھٹی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اونا کا خیال تھا کہ وہ مزدور لڑکیوں کی شادی کو پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ خود بوڑھی، بدصورت اور غیر شادی شدہ تھی۔

ایسے بہت سے خطرے تھے جو ان کو لاحق تھے اور جن کے سامنے وہ بے بس تھے۔ ان کے بچوں کی صحت ویسی نہیں تھی جیسی اپنے گھر میں ہوا کرتی تھی۔ انہیں اس کا علم بھی نہیں تھا کہ اس مکان میں نکاسی کا کوئی بندوبست نہیں ہے اور پچھلے 15سال کا فضلہ گھر کے نیچے ایک گڑھے میں جمع ہے۔ انہیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ جو پیلا سا دودھ وہ بازار سے خریدتے ہیں اس میں پانی کے علاوہ مردے محفوظ رکھنے والی دوائی فارمیلڈی ہائیڈ formaldehyde))بھی ملائی جاتی ہے۔ پہلے جب اپنے گھر میں بچے بیمار ہوتے تھے تو آنٹ الزبیٹا جڑی بوٹیاں اکٹھی کر کے ان سے علاج کر لیتی تھی۔ اب اسے بازار سے عرق خریدنے پڑتے جنہیں دیکھنے سے بالکل پتا نہیں چلتا تھا کہ ان میں کتنی ملاوٹ ہے۔ انہیں یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کی چائے، کافی، آٹا، چینی۔۔۔ ہر چیز میں ملاوٹ تھی۔ ڈبے میں بند مٹروں کو رنگ کیا جاتا تھا۔ پھلوں کے جیم کو کیمیکل ڈال کر رنگین بنایاجاتا تھا۔ بالفرضِ محال انہیں پتا بھی ہوتا تو وہ کیا کر لیتے ! یہاں میلوں تک اور کوئی دکان نہیں تھی جہاں سے چیز خریدی جا سکتی۔ سردیاں سر پر کھڑی تھیں اور انہیں گرم کپڑے اور بستر خریدنے کے لیے زیادہ پیسے بچانے کی ضرورت تھی، لیکن وہ جتنے پیسے بھی بچا لیتے پھر بھی ایسے کپڑے خریدنے سے معذور تھے جو انہیں سردی سے بچا سکیں۔ دکانوں سے جو کپڑے ملتے تھے وہ یا تو سوتی تھے یا شاڈی (shoddy)۔ شاڈی کپڑا بنانے کا طریقہ یہ تھا کہ پرانے کپڑوں اور چیتھڑوں کی مشین سے دھنائی کر کے ان سے دھاگا بنایا جاتا جس سے دوبارہ کپڑا بنا لیا جاتا۔ اگر وہ پیسے زیادہ خرچ کرتے تو اس بات کا امکان تھا کہ دھوکے کی شکل میں زیادہ خوش نما کپڑے لے لیتے لیکن اصل چیز ملنے کا کوئی امکان نہ پیار سے تھا نہ پیسے سے۔ شوِیلاس کا ایک دوست حال ہی میں بیرونِ ملک سے آیا تھا اور ایش لینڈ ایو نیو میں ایک سٹور پر کلرک لگا تھا۔ اس نے ہنستے ہوئے انہیں بتایا کہ اس کا باس کس طرح لوگوں سے ہاتھ کرتا ہے۔ ایک گاہک نے اس سے الارم کلاک مانگا۔ مالک نے 2بالکل ایک جیسی گھڑیاں دکھائیں اور گاہک سے کہا کہ ایک گھڑی کی قیمت1 ڈالر ہے اور دوسری کی پونے دو ڈالر۔ گاہک نے اس فرق کی وجہ پوچھی تو مالک نے ایک گھڑی کو آدھی چابی دی اور ایک کو پوری اور پھر اسے دکھایا کہ کس طرح ایک کا شور زیادہ ہے اور ایک کا کم۔ گاہک نے فوراً مہنگی گھڑی خرید لی۔

وہ جس اذیّت میں جی رہے تھے اس کی کوئی حد نہیں تھی۔ ان میں اپنی عزت اور احترام کا احساس ہی ختم ہو گیا تھا۔ ان کے مصائب کا بیان کسی شاعر کے قلم کے بس کی بات بھی نہیں تھی۔ کسی شاعر کے گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ ایک کنبہ ایسا بھی ہو سکتا ہے جو ایسے گھر میں رہتا ہے جو حشرات الارض سے پٹا ہوا ہے اور ان کی آمدنی کا زیادہ حصہ ان کھٹملوں اور کیڑوں سے جان چھڑوانے میں لگ جاتا ہے۔ کافی غور و خوض اور ہچکچاہٹ کے بعد انھوں نے 25 سینٹ کا کیڑے مار پاؤڈر کا ڈبّا خرید لیا جس میں 95 فی صد جپسم تھا۔ یعنی بے اثر مٹی جس پر لاگت شاید 2 سینٹ آئی ہوگی۔اس کا کو ئی اثر نہیں ہوا سوائے ان کھٹملوں کے جنہوں نے یہ مٹی کھا کر بد قسمتی سے پانی پی لیا ہوگا جس سے ان کے اندر پلاسٹر آف پیرس کا پلستر ہوگیا ہوگا۔ گھر والوں کو نہ تو اس کا اندازہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے مزید پیسے تھے چنانچہ انھوں نے دوسرے مسائل کی طرح اس کے سامنے بھی ہتھیار ڈال دئیے۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -