بقراط کی وصیت

بقراط کی وصیت
بقراط کی وصیت

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:34

 ”ترتیب الطب“ کے نام سے بقراط نے ایک وصیت کی تھی جس کا متن حسب ذیل ہے۔

 طب کے طالب علم کو اپنی ذات میں آزاد اور مزاج میں عمدہ ہونا چاہیے۔ کم عمر ہو قدوقامت متعدل اور اعضاءمتناسب ہوں۔ فہم و ادراک بہتر، گفتگو عمدہ اور اصابت رائے کا مالک، عفیف، پاک دامن اور بہادر ہو، زرپرست نہ ہو، غصہ کے وقت نفس پر قابو رکھتا ہو، غصہ حد سے زیادہ نہ کرتا ہو، بلید اور کند ذہن نہ ہو۔ مریض کا غمگسار اور اس کے حق میں مشفق ہو۔ گالی گلوچ برداشت کر سکتا ہو۔ کیونکہ کچھ لوگ ہمارے سامنے ایسے بھی آئے ہیں جو برسام اور سوداوی، وسوسہ کے مریض تھے ہمیں ان کو برداشت کرنا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ گالی گلوچ کرنا ان مریضوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔ ان میں یہ بات خارجی طور پر پیدا ہو گئی ہوتی ہے۔

 طب کا طالب علم سر منڈوائے تو اس میں اعتدال کو ملحوظ رکھے نہ اسے بالکل ہی منڈوا دے نہ اس طرح چھوڑ دے کہ گیسوبن جائیں۔ ہاتھ کے ناخن مناسب طور پر کٹوائے۔ کپڑے سفید، صاف ستھرے اور ملائم پہنے، رفتار میں عجلت نہ ہو، کیونکہ یہ طیش کی دلیل ہے۔ نہ سست رفتار ہو کیونکہ اس سے ضعف نفس کا پتہ چلتا ہے۔ مریض کے یہاں آئے تو آلتی پالتی مار کر بیٹھے اور سکون و وقار کے ساتھ اس کے حالات معلوم کرے۔ قلق اور اضطراب کی حالت میں نہ ہو۔ میرے نزدیک یہ پوشاک، یہ شکل و صورت اور ترتیب نہایت افضل ہے۔

 جالینوس کا کہنا ہے طبی علوم کےساتھ ساتھ بقراط کو علم نجوم بھی حاصل تھا۔ معاصرین میں کوئی بھی اس باب میں اس کا ہمسر نہ تھا۔ وہ ان عناصر و ارکان کا علم رکھتا تھا جس سے اجسام حیوانی مرکب ہیں۔ ان تمام اجسام کا کون وفساد بھی اسے معلوم تھاجوکون و فساد قبول کرتے ہیں۔ بقراط پہلا شخص ہے جس نے مذکورہ اشیاءکی حقیقت پر دلیل فراہم کی۔ اس نے دلیل کے ساتھ یہ بات کہی کہ تمام حیوانات اور نباتات میں صحت اور بیمار ی کیوں کر ہوتی ہے۔ اسی نے امراض کی اقسام اور ان کے علاج کی جہتیں دریافت کیں۔

 میرے نزدیک بقراط کی معالجاتی کوششوں کا جہاں تک تعلق ہے وہ ہمیشہ مریضوں کے علاج معالجہ اور انہیں فائدہ پہنچانے کے لیے سرگرداں رہتا تھا۔

 یہی پہلا شخص ہے جس نے شفاخانہ ایجاد کیا۔ اپنے گھر کے قریب ایک باغ میں اس نے مریضوں کےلئے ایک الگ جگہ بنائی اور یہاں ان کے علاج کی ضرورتوں کو پورا کرنے کےلئے ملازم رکھے۔ اس جگہ کا نام اس نے ”اخسندوکین“(بیماروں کا مجمع) رکھا تھا۔ فارسی زبان کے لفظ بیمارستان کا بھی یہی مفہوم ہے۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -