جمہوریت اور مارشل لا ءکے تقابل پر بحث دل پسند مشغلہ

جمہوریت اور مارشل لا ءکے تقابل پر بحث دل پسند مشغلہ
جمہوریت اور مارشل لا ءکے تقابل پر بحث دل پسند مشغلہ

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:10 

اس اقتباس کے آخر میں صدیق سالک نے جمہوریت اور مارشل لا ءکے تقابل پر بحث کو اپنا دل پسند مشغلہ قرار دیا ہے اور اقتباس پڑھ کر باآسانی انداز ہ ہوتا ہے کہ انکاووٹ جمہوریت کے حق میں ہے۔ 1958ءکے مارشل لاءسے تو سالک کا عملی طو رپر زیادہ رابطہ نہیں رہا لیکن1969ءکے مارشل لاءکے خلاف سالک کا رویہ بہت غم انگیز ہے۔ایک تو ملک میں دوسری بار مارشل لا ءلگ رہا تھا دوسرے سالک مارشل لا ءلگنے کے عمل کے عینی شاہد تھے، اس بارے میں سالک نے کھل کر فوج کے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا ہے لکھتے ہیں:

”بالآخر25مارچ کی شام کو بلّی تھیلے سے باہر آگئی اور صدر مملکت ایک عدد الوداعی نشری تقریر کر کے اقتدار سے دستبردار ہو گئے۔ جاتے جاتے انہوں نے اپنے ہی تعینات کردہ کمانڈر انچیف جنرل آغا محمد یحییٰ خان کو چٹھی لکھ دی کہ آپ اپنی ”آئینی ذمہ داریاں“ پوری کریں۔ سچ پوچھئے تو اس وقت مجھے ہرگز علم نہ تھا کہ ایسی صورت حال میں فوج کی آئینی ذمہ داری کیا ہوتی ہے کیوں کہ آئین میں تو لکھا تھا کہ ایسی صورت میں اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر کو منتقل کیا جائے گا۔“ 

یعنی صدیق سالک نے مارشل لا ءکی مخالفت بہت واضح انداز میں کی ہے اور واوین میں آئینی ذمے داریاں لکھ کر اس لفظ کے غلط استعمال پر طنز کیا ہے۔ اس کے علاوہ اپنی کتابوں ”سلیوٹ“ اور ”میَں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ میں جابجا یحییٰ خان کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے

یحییٰ خان کی حکومت کے بعد 1977ءمیں جنرل ضیاءالحق نے ملک میں تیسرا مارشل لاءنافذ کیا اور ہمیشہ سے جمہوریت پسند صدیق سالک نے مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کو قوم کے نام پہلی تقریر لکھ کر دی۔ یہاں سے صدیق سالک کے قول و فعل میں تضاد کا آغاز نظر آتا ہے۔

اس سے آگے صدیق سالک کے کردار کو جانچنے کے لیے تحریر کے بجائے واقعات کا سہارا لینا پڑے گاکیونکہ اس دور کے متعلق سوائے ایک انگریزی کتاب کے سالک نے کچھ نہیں لکھاسالک فوجی ملازمت میں تھے اور کتاب شائع کرنے کے لیے حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے خصوصاً اسی دو ر کے بارے میں تجزیہ لکھنا سرکاری ملازم کے لیے مناسب نہیں ہوتا۔

ظاہری طورپر ہمیں نظر آتا ہے کہ صدیق سالک نے پہلے مارشل لاءکے 2حکمرانوں کی طرح اس مارشل لاءاور اس حکمران کے خلاف کچھ نہیں لکھا بہت عام سی بات ہے کہ کوئی ماتحت کتنا ہی حق گو ،بے باک ،نڈر کیوں نہ ہو اپنے حاکم کے خلاف لکھے اور اسی حاکم سے اس تحریر کو شائع کرنے کی اجازت طلب کرے پھر یہ اجازت مل بھی جائے یہ ممکن نہیں۔ سالک کو تقدیر نے اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ ملازمت سے فارغ ہو کر اس دور ملازمت کا تجزیہ کر سکتے۔ اس لیے اسے ان کی کم ہمتی یا مفاد پرستی کے بجائے ملازمتی مجبوری کہہ سکتے ہیں اس کے متعلق انہوں نے صرف اتنا لکھا ہے:

”ان 8برسوں کی روداد ایک الگ کتاب کا موضوع ہے-“

اس دور کے متعلق یہ بھی لکھا ہے:

”ایک مارشل لاءکے متعلق میں پہلے ہی (میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا) لکھ چکا ہوں اور دوسرے کے متعلق لکھنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں-“

ان دونوں اقتباسات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مارشل لاءسے ان کی وابستگی ”ایک الگ کتاب کا موضوع“ تو ضرور ہے لیکن ”فی الحال“ وہ اس پر لکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے گویا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ آگے اس پر لکھتے لیکن موت نے انھیں یہ مہلت نہیں دی کہ وہ غیر جانبدارانہ تجزیہ لکھ سکتے ۔صدیق سالک کے صاحبزادے ”سرمد سالک“ کے مطابق اس دور کی روداد وہ لکھ رہے تھے لیکن وہ روداد نا مکمل حالت میں بھی منظر عام پر نہ آسکی کیونکہ حادثے کے وقت وہ کاغذات ان کے ساتھ ہی تھے۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -