آشوب چشم اور پروفیسر محمد معین یقین کی آگاہی 

       آشوب چشم اور پروفیسر محمد معین یقین کی آگاہی 
       آشوب چشم اور پروفیسر محمد معین یقین کی آگاہی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مدثر قدیر

 اندرون شہر لاہور کا اپنا ہی طلسم ہے جو مجھے روزانہ کی بنیاد پر اپنی طرف کھینچ لیتا ہے میں جب ذہنی دباؤ محسوس کرتاہوں تو اپنی موٹرسائیکل کا رخ بھاٹی گیٹ کی طرف کردیتا ہوں جہاں پر مجھے لوگوں کا ہجوم نظرآتا ہے کئی شناسا لوگ ملتے ہیں ڈاکٹر ارشد محمود مرحوم کے کلینک پر وحید ملتا ہے جو میرا بھائی ہے اس کے پاس جاکر چائے پینے کے بعد پرانی کچہری بازار سے ہوتے ہوئے بازار حکیماں،اندرون موری گیٹ منڈی اور لوہاری گیٹ سے ہوتا ہوا چوک متی اور وہاں سے پھر میں پنساری مارکیٹ نیا بازار سے گزرتا ہوا شاہ عالمی چوک نکلتا ہوں اس کچھ کلو میٹر کے فاصلے میں آپ کو انسانی زندگی کی ریل پیل نظر آتی ہے ہر طرح کی خلقت سے واسطہ پڑتا ہے مگر کچھ دنوں سے یہاں پر لوگوں کے ہجوم میں مجھے کئی خوبصورت چہرے اور لوگ عینک استعمال کرتے نظر آرہے ہیں جو آشوب چشم کا پیش خیمہ ہے یعنی میں کہہ سکتا ہوں کہ اندرون لاہور اس وباء نے شدت اختیار کررکھی ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں بچے،بوڑھے اور جوان اس کا شکار ہیں اور ان کی آنکھیں سرخی کی طرح ہوچکی ہیں مگر جذبہ،سرگرمی اور شہر کی زندگی اس وباء کے ساتھ چل رہی ہے جو صدیوں سے جاری ہے اور لوگ اس کو بھی ایک طرح کا موسم تصور کرتے ہیں جو شدت کے ساتھ آتا ہے اور اپنے محسوس وقت پر چلا جاتا ہے مگر اس بار یہ وباء اپنی روٹین سے ہٹ کر ستمبر میں آئی ہے جبکہ اس کا محمور ہمیشہ جولائی یا پھر اگست ہوتا ہے۔ آشوب چشم نئی چیز نہیں یہ ہر سال حبس کے موسم کے باعث پھیلتی ہے اور بے احتیاطی کی وجہ سے وبائی صورت اختیار کرلیتا ہے اس کی وجہ سے ابتدائی طور پر آنکھوں کا سرخ ہونا، آنکھوں میں جلن، چبھن کا احساس ہونا، آنکھوں سے پانی آنا، روشنی میں آنکھوں میں درد کا احساس ہونا اور روشنی میں آنکھوں کا بند ہونا، آنکھوں کی سوزش کی علامات ہیں مگر اچھی بات یہ کہ یہ لاعلاج نہیں ہے۔اب تک اعداد و شمار جو سامنے آئے ہیں ان کے مطابق پنجاب کے 36 اضلاع میں آشوب چشم کے کل تین لاکھ 94 ہزار سات سو 95 مریض رپورٹ ہوئے جبکہ لاہور میں آشوب چشم کے 23,397 مریض رپورٹ ہوئے ہیں جس میں اتوار کا ڈیٹا شامل نہیں۔

آشوب چشم کے موضوع پر گزشتہ روز میں نے پرنسپل کالج آف افتھمالوجی پروفیسر ڈاکٹر محمد معین یقین سے گفتگو کی جس میں انھوں نے لوگوں کو آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ڈاکٹر سے رجوع کرکے احتیاطی تدابیر کا اپنا لینا چاہیے۔پروفیسر محمد معین یقین نے بتایا کہ آشوب چشم میں آنکھوں کی بیرونی جھلی پر سوزش ہو جاتی ہے اور جب آشوب چشم وائرس کی وجہ سے ہو تو یہ ایک وبائی مرض میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ آشوب چشم کے مریض بار بار آنکھوں کو اپنے ہاتھوں سے خارش کرتے ہیں، آنکھوں کا پانی صاف کرتے ہیں جس سے ان کے ہاتھوں کو وائرس لگ جاتے ہیں جب یہ وائرس والے ہاتھ کسی بھی چیز کو لگیں گے تو یہ وائرس اس چیز پر موجود ہوں گے جب کوئی دوسرا شخص اس چیز کو ہاتھ لگائے گا تو اس کے ہاتھ سے وہ اس کی آنکھوں میں  بیماری منتقل کر دیں گے اس لیے ہاتھوں کو روزانہ بار بار صابن سے دھوئیں۔اس مرض میں مبتلا مریض دوسروں سے ہاتھ نہ ملائیں، گلے نہ ملیں، اپنا صابن، تولیہ، عینک، کنگھا، موبائل، کیلکولیٹر، کتاب اور خواتین اپنی میک اپ کٹ کسی کو استعمال نہ کریں دیں۔پروفیسر معین نے مزید بتایا کہ آشوب چشم کے مریض دوا ڈالتے وقت آئی ڈراپس کی نوزل کو نہ ہاتھ لگائیں اور نہ آنکھ سے چھونے دیں اور اس کے بعد صابن سے ہاتھ دھوئیں۔

آشوب چشم کے مریض آنکھ کی رطوبت ٹشو سے صاف کریں اور اس کو ڈسٹ بن میں ڈال کر ڈھکن بند کر دیں اور صابن سے ہاتھ دھوئیں۔اگر کوئی بچہ یا بڑا آشوب چشم میں مبتلا ہو تو سکول، کالج، دفتر،کارخانہ یا دکان سے اس کی چھٹی کروا دیں اور وہ کچھ دن اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے دور رکھے اور احتیاط کرے۔ یاد رکھیں! آشوب چشم کا وائرس علامات ظاہر ہونے سے دس دن پہلے اور علامات کے ساتھ دس دن جسم میں موجود ہوتا ہے اور دس دن علامات ختم ہونے کے بعد موجود رہتا ہے اور دوسرے لوگوں کو بیماری منتقل کر سکتا ہے۔اگرآپ کوآنکھوں میں شدید درد، نظر میں کمی یا روشنی سے شدید درد محسوس ہوتو فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوا استعمال کریں۔پروفیسر محمد معین یقین کی آگاہی گفتگو بلاشبہ بڑی اہمیت کی حامل تھی مگر دوسری جانب میں اندورن لاہور کے باسیوں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس بیماری کے ساتھ چلنا سیکھ لیا ہے وہاں پر ہر دوسرے گھر میں آشوب چشم کا مریض موجود ہے اور گزشتہ 30سال میں کوئی فرد ایسا نہیں جو اس کا شکار نہ ہوا ہو مگر یہاں لوگ رنگ برنگی عینکیں پہن کر زندگی کو رواں رکھے ہوئے ہیں۔ان کے پیش نظر آشوب چشم خطرناک نہیں اور نہ ہی اس سے بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے یہ ایک موسم کی طرح آتا ہے اور کچھ دن رہ کر آگے نکل جاتا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -