لوک ورثہ میں صوفیانہ کلام کی گائیکی کے مقابلہ کا انعقاد

لوک ورثہ میں صوفیانہ کلام کی گائیکی کے مقابلہ کا انعقاد

  



اسلام آباد (اے پی پی) نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈ یشنل ہیریٹیج لوک ورثہ اورغیرسرکاری تنظیم مہر گڑھ کے باہمی تعاون سے لوک ورثہ میں صوفیانہ کلام کی گائیکی کا مقابلہ منعقد ہوا ۔ مقابلے کا مقصد صوفی ازم کو فروغ دے کر امن و امان کی فضاءقائم کرنا ہے ۔ مقابلے کے لئے 12بہترین گلوکاروں کو منتخب کیا گیا۔ جنہوں نے ججز اور لوگوں کے ساتھ سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی سیکرٹری قومی ورثہ و یکجہتی آصف غفور تھے جنہوں نے تین بہترین گلوکاروں میں انعامات اور ایوارڈز تقسیم کئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ برصغیر میں صوفیاءکرام نے اپنے پیغام کے ذریعہ محبت ‘ امن اور یکجہتی کو فروغ دیا اور ان کی وجہ سے خطہ میں اسلام تیزی سے پھیلا ‘ وہ اعلیٰ اقدار اور اخلاق کے مالک لوگ تھے جنہوں نے اپنے کردار اور رویے سے لوگوں کو بہت متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کے لئے صوفیاء کرام کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے ‘ اس سلسلہ میں اپنی نوجوان نسل تک صوفیاءاکرام کا پیغام پہنچانا بے حد ضروری ہے، قومی ورثہ و یکجہتی اس سلسلہ میں اپنا کردار احسن انداز میں ادا کررہی ہے۔ وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ لوک ورثہ میں منعقد ہونے والی تقریب اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ صوفیانہ گائیکی کے مقابلے کے انعقاد پر وفاقی سیکرٹری نے لوک ورثہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ یہ ادارہ ثقافتی ورثے کے فروغ و ترویج کے لئے بھر پور کردار ادا کررہا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک میڈیا خالد جاوید نے کہا کہ لوک ورثہ ملک بھر سے باصلاحیت فنکاروں اور گلوکاروں بالخصوص نوجوان گلو کاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے بھرپور اقدامات اٹھا رہا ہے اور ثقافتی تحقیق کے سلسلہ میں طالب علموں کو گرانٹس دینے کے علاوہ ‘ لوک ورثہ نے فوک لوور سوسائٹی تشکیل دی ہے اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کلچرل اسٹیڈیز قائم کیا گیا ہے جبکہ طالب علموں کو میوزیم کے دورہ پر خاص رعایت بھی دی جاتی ہے ۔

مزید : کلچر


loading...