الجزائر حکومت نے سفارت کار طاہر تواتی کے قتل کی تصدیق کر دی

الجزائر حکومت نے سفارت کار طاہر تواتی کے قتل کی تصدیق کر دی

  



 مالی(آن لائن) الجزائر کی وزارت خارجہ نے شمالی مالی کے ایک شہر میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ہاں یرغمال بنائے گئے سفارت کار طاہر تواتی کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومت دیگر مغویوں کی جانیں بچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔دوسری جانب کئی ماہ سے القاعدہ کے ہاں یرغمالی سفارت کاروں کی جان بچانے میں حکومت کی ٹال مٹول کی پالیسی اور ناکامی پر عوام سخت برہم ہے۔ سفارت کار طاہر کے قتل کی اطلاع ملتے ہی الجزائر کے کئی شہروں میں حکومت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے گئے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الجیرین دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حکومت اور شمالی مالی میں یرغمالیوں کے درمیان رابطے بدستور قائم ہیں۔ القاعدہ کی جانب سے سفارتکار طاہر تواتی کے قتل کی اطلاع درست ہے تاہم دیگر مغوی ابھی بہ قید حیات ہیں اور حکومت ان کی زند گیاں بچانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔بیان میں مغوی سفارت کاروں کے اہل خانہ کو تسلی دی گئی ہے کہ وہ پریشان نہ ہوں حکومت جلد تمام مغویوں کو القاعدہ کی قید سے ازاد کرا لے گی تاہم مغوی سفارت کاروں اور دیگر شہریوں کے اہل خانہ کو حکومت کی اس یقین دہانی پر اعتبار نہیں ہے کیونکہ حکومت کی طرف سے پہلے بھی اسی طرح کی کئی بار یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں۔ اس کے باوجود القاعدہ عناصر نے ایک سفارت کار کو قتل کر دیا ہے اور کئی دیگر ابھی تک شدت پسندوں کے نرغے میں ہیں۔ادھر سفارت کار طاہر تواتی کے قتل کی خبر عوامی حلقوں پر بجلی بن کر گری ہے۔ طاہر نے چند روز قبل ایک ویڈیو میں حکومت سے جان بچانے میں مدد کی اپیل کی تھی۔ طاہر کا کہنا تھا کہ القاعدہ نے فرانس سمیت کئی دوسرے ملکوں کے شہریوں کو بھی اغوائ کیا لیکن کسی ملک نے اپنے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں نہیں ڈالی ہیں۔ الجزائر حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ہماری جانیں بچانے کے لیے اغوائ کاروں کے مطالبات پورے کرے۔خیال رہے کہ الجزائر کے شمالی مالی کے ایک شہر سے کئی سفارت کار اور سفارتی عملے کے اہلکاروں کو القاعدہ کے جنگجوو¿ں نے اس سال اپریل میں اغوائ کر لیا تھا۔ مغویوں کی تعداد سات تھی، جن میں سے تین کو پہلے ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔ ایک کو قتل کر دیا گیا ہے تین اب بھی القاعدہ کی تحویل میں ہیں۔ جنگجوو¿ں نے مغویوں کو چھوڑنے کے لیے پندرہ ملین یورو تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ف

مزید : عالمی منظر