مصر و ایران سفارتی تعلقات کی بحالی کا غور نہیں ہوا

مصر و ایران سفارتی تعلقات کی بحالی کا غور نہیں ہوا

  



 قا ھر ہ(آن لائن)مصری ایوان صدر کے ترجمان یاسر علی نے کہا ہے کہ صدر محمد مرسی کے دورہ ایران کے دوران ان کی ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے کئی بار ملاقات ہوئی تاہم ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کی بحالی پر کوئی غور نہیں کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق دونوں صدور جب بھی ملتے ان کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے سوا دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا رہا ہے۔مصری ایوان صدر کے ترجمان نے قاہرہ میں صحافیوں اور اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر کے دورہ ایران پر انہیں بریفنگ دی۔ ترجمان نے کہا کہ "نام" سربراہ اجلاس میں دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان ایک سے زیادہ بار ملاقات ہوئی تاہم سفارتی تعلقات کی بحالی کا موضوع نہیں چھیڑا گیا۔خیال رہے کہ ایران اور مصر کے درمیان سنہ 1980ئ میں قاہرہ کے اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ امن معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے دونوں ملک بالواسطہ طور پر ایک تیسرے ملک کے ذریعے سفارتی امور چلا رہے ہیں۔ مصری صدر گذشتہ جمعرات غیر وابستہ ممالک کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے صدر نڑاد کی خصوصی دعوت پر تہران گئے تھے۔ سنہ 1979ئ کے بعد مصر کے کسی صدر کا یہ پہلا دورہ ایران ہے۔ادھر دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبدالحیان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شام کے بحران کے علاوہ دوطرفہ سفارتی تعلقات کا مسئلہ حل کرنے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی ہے سابق صدر حسنی مبارک کی معزولی اور انقلاب کے بعد مصر کی نئی حکومت تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گی۔

مزید : عالمی منظر


loading...