مقبوضہ کشمیر: 2011کے بعد سے 120سے زائد کم عمر لڑکے نظربند

مقبوضہ کشمیر: 2011کے بعد سے 120سے زائد کم عمر لڑکے نظربند

  



سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں قابض انتظامیہ نے 2011کے بعد سے 120سے زائد کم عمر کشمیری لڑکوں کو نظربند کیا ہے ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق انتظامیہ کے عہدے داروں نے ایک مقامی روزنامے کو بتایا کہ 12سالہ فیضان صوفی سرینگر کے نواحی علاقے ہروان میں 2011میں کم عمر لڑکوں کی نظربندی کیلئے قائم کئے گئے حراستی مرکز کا 124واں کم عمر قیدی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ حراستی مرکز میں نظربند کم عمر قیدیوں میں سے بیشتر کا تعلق سرینگر سے ہے ۔ حراستی مرکز کے سپریٹنڈنٹ نے روزنامے کو بتایا کہ اس مرکز کے قیام سے قبل کم عمر لڑکوں کی نظربندی کا کوئی ریکارڈ مرتب نہیں کیا جاتا تھا اور بیشتر لڑکوں کو متعلقہ پولیس اسٹیشنوں میں ہی نظربند رکھا جاتا تھا۔ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ 2008اور2010میں عوامی انتفادہ کے دوران پتھراﺅکرنے کے الزامات پر بہت سے کم عمر لڑکوں کو گرفتار کیا گیا تاہم اس کا کوئی ریکارڈ تیار نہیں کیا گیا ۔واضح رہے کہ بھارتی پولیس نے حال ہی میں عید کے دن پولیس کی گاڑی پر پتھراﺅکرنے کے جھوٹے الزام کے تحت 12سالہ فیضان کو گرفتار کیا ہے ۔ اس پر بھارت کے خلاف جنگ کرنے اور اقدام قتل جیسے متعد د سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

مزید : عالمی منظر