بحرین کا شام کی بجائے اس کا نام شامل کرنے پر ایران سے احتجاج

بحرین کا شام کی بجائے اس کا نام شامل کرنے پر ایران سے احتجاج

  



منامہ(آن لائن)خلیجی ریاست بحرین نے تہران میں غیر وابستہ تحریک "نام" کے سربراہ اجلاس کے دوران مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی تقریر میں ایران کے سرکاری ٹی وی پر شام کے بجائے ترجمے میں بحرین کا نام شامل کرنے پر سخت احتجاج کیا ہے۔منامہ وزارت خارجہ نے قائم مقام ایرانی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے ایرانی ٹی وی کے اقدام پر اپنی تشویش سے اگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ تہران، صدر مرسی کے خطاب میں شام کی جگہ دانستہ طور پر بحرین کا نام شامل کرنے پر منامہ سے معافی مانگے۔خیال رہے کہ "نام" سربراہی اجلاس 30 اور 31 اگست کو ایران کی میزبانی میں تہران میں ہوا۔ ۔ کانفرنس کے دوران ایران کے سرکاری ٹی وی پر مصری صدر کے خطاب کے براہ راست ترجمے میں مبینہ رد وبدل کیا گیا۔ خاص طور پر جب انہوں نے عرب ممالک میں انقلابی تحریکوں کا حوالہ دیتے ہوئے انقلاب سے گذرنے والے ملکوں میں شام کا نام لیا تو سرکاری ترجمان نے شام کے بجائے بحرین شامل کر لیا تھا۔ ترجمے میں اسی نوعیت کی کئی دیگر من پسند تبدیلیاں بھی کی گئی تھیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا پر مصری صدر کی تقریر کو توڑ مروڑ کرپیش کرنے کے اقدام کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ منامہ حکومت کی جانب سے ایران کے اس اقدام پر سخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ہاں متعین قائم مقام سفیر سید مہدی الاسلامی کو دفتر خارجہ طلب کر کے انہیں حکومت کی جانب سے ایک احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ احتجاجی مراسلے میں ایران کے سرکاری ٹی وی پر صدر مرسی کی تقریر کے غلط ترجمے بالخصوص شام کے بجائے بحرین کا نام شامل کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔ وزارت خارجہ نے ایرانی سفارت کار سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی حکومت کو ہماری تشویش سے ا?گاہ کرے اور باضابطہ طور پر معافی مانگے۔ادھر بحرین کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں صدر محمد مرسی کے خطاب کو مسخ کر کے نشر کرنے پر تہران کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے مصری صدر کی تقریر کے من پسندترجمے کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ تہران جھوٹ کی سیاست کر رہا ہے۔ صدر مرسی کی تقریر میں شام کے بجائے بحرین کا نام شام کرنا منامہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ بحرین اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران سے معافی کا مطالبہ کرتا ہے۔

مزید : عالمی منظر