مقبوضہ کشمیر: بھارتی مصالحت کاروں کو شدید مزاحمت کا سامنا

مقبوضہ کشمیر: بھارتی مصالحت کاروں کو شدید مزاحمت کا سامنا

  



جموں (اے پی پی) بھارتی حکومت کوکشمیر بارے پیش کی گئی رپورٹ پر مقبوضہ کشمیر میں سول سوسائٹی کے اراکین سے تاثرات جاننے کیلئے جموں میں سابق مصالحت کاروں دلیپ پڈگاﺅنکر اور راھا کمار کوانتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کے کارکنوں کی طرف سے شدید مزاحمت کے بعد جان بچا کر بھاگنا پڑا ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مصالحت کار اپنی رپورٹ بار ے سول سوسائٹی کے اراکین سے تاثرات جاننے کیلئے جب جموںکے ایک ہوٹل میں پہنچے تو ہوٹل کے باہر پہلے سے موجود بی جی پی یوتھ ونگ اور بھاجپایووا مورچہ کے کارکنوں اور جموں یونیورسٹی لا اسکول اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشن سے وابستہ ہندو طلبااور نوجوان وکلاءان کے ساتھ الجھ گئے،انہیںہوٹل جہاں اجلاس منعقد ہونا تھا میں داخل نہیں ہونے دیا اور ان کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ۔ تاہم بھارتی پولیس اہلکارواقعے کی اطلاع ملتے ہی فورا ً موقع پر پہنچ گئے اور انہوںنے دونوں مصالحت کاروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا ۔ پولیس نے ہندوانتہا پسندوں کو وہاں سے بھگانے کے بعد علاقے میںبھاری نفری تعینات کرنے کے بعد حالات کو دو بارہ پ±ر امن بنایا اور آدھ گھنٹے بعد سا بق مصا لحت کاروں کو سخت سیکورٹی کے حصار میں واپس ہوٹل میں لایا گیا جہاں انہوں نے سول سوسائٹی کے اراکین کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔قبل ازیںبھاجپا یووا مورچہ کے ریاستی صدر منیش شرما نے ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ مصالحات کاروں کی رپورٹ بھارت مخالف اور مقبوضہ کشمیر میں قوم پرستوںکے کیخلاف ہے جسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوںنے مصالحت کاروں کو دھمکی دی کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ علاقے سے نکل جائیں یا پھر سنگین نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔دریں اثنابھارت نوا ز سیاسی جماعتوں کانگریس ، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے کسی بھی لیڈر نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی جبکہ بھاجپا اور پینتھرز پارٹی نے پہلے ہی سے اس اجلاس کے بائیکاٹ کا علان کر رکھا تھا

مزید : عالمی منظر


loading...