پتہ مروڑ وائرس کے خاتمے کے لئے مربوط کاوشوں کی ضرورت ہے: زرعی سائنسدان

پتہ مروڑ وائرس کے خاتمے کے لئے مربوط کاوشوں کی ضرورت ہے: زرعی سائنسدان

  



اسلام آباد(اے پی پی)زرعی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ پتہ مروڑ وائرس (سی ایل وی سی) کے خاتمے کے لئے مربوط کاوشوں کی ضرورت ہے ۔ پتہ مروڑ وائرس اوردیگر خطرناک بیماریوں کے حملوں سے دنیا بھر میں کپاس کی فصل کو 60ارب ڈالر کا سالانہ نقصان ہوتا ہے ۔ زرعی اجناس پر مختلف بیماریوں کے حملے کے خاتمے کےلئے اگر سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو غذائی قلت جیسے خدشات بڑھ جائیں گے۔ پیر کو قومی زرعی تحقیقاتی کونسل (این اے آر سی) میں انٹرنیشنل کاٹن ورکشاپ کے پہلے دن خطاب کرتے ہوئے زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ پتہ مروڑ وائرس نہ صرف کپاس بلکہ دیگر غذائی اجناس کی فصلوں کو بھی بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کپاس سمیت زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے کے لئے فصلوں پر بیماریوں کی حملوں کی روک تھام، تصدیق شدہ بیجوں کی فراہمی اور کاشتکاروں کی سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری ٹیکسٹائل انڈسٹری شاہد رشید نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی اداروں این اے او، یو ایس ایڈ اور آئی سی اے ٓر ڈی اے کے تعاون سے فصلوں پر مختلف بیماریوں کے حملوں کی روک تھام کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پتہ مروڑ وائرس کے اثرات کم کرنے کے لئے نئی اقسام کے بیج متعارف کروائے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیج کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے 1ارب ڈالر فصلوں کا سالانہ نقصان بچایا گیا ہے ۔ امریکی ایگریکلچر کونسل توڑڈرینسن نے کہا کہ چھوٹے کاشتکار معیشت میں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں امریکہ محکمہ زراعت نے پاکستانی کسانوں کی فلاح وبہبود اور ترقی کے لئے خصوصی توجہ دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانچ امریکی سائنسدانوں نے پاکستانی سائنسدانوں اور کاشتکاروں کو کپاس کی فصل کی ان بیماریوں کا خاتمہ کرنے میں مدد دینے کے لئے پاکستان کا دورہ کیا، جو ملک بھر میں کپاس کی پیداوار اور کاشتکاروں کی آمدنیوں کو خاطر خواہ کم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت سی زندگیوں کا دارومدار زراعت پر ہے اور یہ ملکی معیشت کا ایک اہم جزو ہے ۔ امریکہ پاکستان میں زراعت کے شعبے کی ، خاص طور پر چھوٹے کاشتکاروں کے لئے پیداوار میں اضافہ کرنے میں مدد فراہم کرنے کا خواہاں ہے ۔ کپاس کی فصل کے حوالے سے امریکی اور پاکستانی سائنسدانوں کے درمیان یہ تعاون اس عزم کی ایک مثال ہے ۔ اس ورکشپ کے انعقاد کے ساتھ امریکی تکنیکی ٹیم کا دس روزہ دورہ مکمل ہو گیا جس نے کرل وائرس پر تحقیق کے نتائج پر بات چیت کی غرض سے پاکستانی سائنسدانوں سے ملاقات کی ۔ ٹیم نے فیصل آباداور ملتان میں کپاس کی پیداوار کے مراکز کا بھی دورہ کیا۔ ٹیم نے امریکہ کی مالی معاونت سے حاصل کی جانے والی اس آزمائشی پیداوار کے نتائج کے حوالے سے خوشخبری دی ہے کہ کپاس کی بعض نئی اقسام میں کرل وائرس کے خلاف مزاحمت کی ابتدائی علامات موجود ہیں۔

مزید : کامرس


loading...