جنوبی کوریا پاکستان کے ساتھ زرعی سیکٹر میں تجارت کو فروغ دینا چاہتاہے

جنوبی کوریا پاکستان کے ساتھ زرعی سیکٹر میں تجارت کو فروغ دینا چاہتاہے

  



اسلام آباد (پ ر) جنوبی کوریا سے سرمایہ کاروں کے ایک وفد نے لی جائے ہو کے قیادت میں اسلام آباد چیمبر آف کارمرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور مختلف باہمی سیکٹرزمیں تعاون کو فروغ دینے کے لئے پاکستانی تاجروں سے بزنس ٹوبزنس میٹنگز کا انعقاد کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لی جائے ہو نے پاکستان اور جنوبی کوریا کے مابین مختلف سیکٹرز میں موجود باہمی تجارت کی گنجائش سے آگاہ کیا اور کہا کہ دونوں ممالک میں باہمی تجارت کے بے شمار مواقع موجود ہیں لیکن دونوں ممالک کے مابین تجارتی والیوم صرف 1.5 بلین ڈالر ہے جوکہ موجود صلاحیتوں سے بہت ہی کم ہے۔ جنوبی کوریا کے سرمایہ کاروں نے پاکستان کے زرعی سیکٹر میں باہمی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا چونکہ پاکستانی آم کی جنوبی کاریا کی مارکیٹوں میں بہت مانگ ہے انہوںنے کہا کہ پاکستان اور جنوبی کوریا کو اپنے تجارتی اور معاشی تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو ترقی دیں تاکہ دونوں ممالک موجود تجارتی مواقعوں سے بھر پور استفادہ کر سکیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے صدر یاسر سخی بٹ نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی زراعت ملک کے معاشی فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور اس کے علاوہ زرعی مصنوعات کی برآمدات کی مد میں ملک کو اچھا خاصابیرونی زر مبادلہ مل رہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ جنوبی کوریا پاکستان کا تجارتی پارٹنر ہے اور زرعی سیکٹر میں اچھے ماہرین کا حامل ملک ہے جوکہ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سرمایہ کاروں کی جدید زرعی پریکٹسسز دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں مدد کر سکتی ہیں ۔ صدر آئی سی سی آئی یاسر سخی بٹ نے کہا کہ پاکستان سیاحوں کے لئے ایک پرکشش جگہ ہے جہاں بہت سی خوبصورت وادیاں، انڈیس ویلی اور گندھارا میں موجودپرانی تہذیب کے علاوہ بدھا بت تراشی جیسی ثقافت بھی موجود ہے جو کہ سیاحوں کے لئے بہت دلچسپی کا باعث ہیں اس لئے بیرونی سرمایہ کاروں کو چائیے کہ وہ سیاحت کے سیکٹر میں سرمایہ کاری کر کے استفادہ کریں ۔انہوںنے کوریا کے سرمایہ کاروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ سرمایہ کاری کرتے ہوئے اپنے سرمایہ اور ٹیکنالوجی کو پاکستان منتقل کر نے کے ساتھ ساتھ اپنا تجربہ اور ماہرین کی خدمات بھی پاکستان کو فراہم کریں تاکہ دونوںممالک کے مابین مستحکم بنیادوں پر باہمی تجارتی اور معاشی تعلقات استوار ہو سکیں۔

مزید : کامرس