چند ماہ کے دوران 500 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کر لی جائے گی :چیف ایگزیکٹو متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ

چند ماہ کے دوران 500 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کر لی جائے گی :چیف ایگزیکٹو ...

  



اسلام آباد(اے پی پی) متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ کے چیف ایگزیکٹو عارف علاﺅالدین نے کہا ہے کہ ملک میں توانائی بحران پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے کئی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے، توقع ہے کہ آئندہ چندہ ماہ کے دوران قومی گرڈ میں 500 میگاواٹ بجلی شامل کر لی جائے گی، ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی صنعتی، زرعی اور گھریلو ضرویات کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے کئی سولر پاور یونٹ شروع کئے ہیں جن سے بجلی کی قلت دور کرنے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے کئی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جس سے عوام کوریلیف ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ بورڈ کو صرف نجی شعبہ کی سرمایہ کاری کی ترغیب کا اختیار ہے جبکہ سرکاری شعبہ اس عمل کو باقاعدہ بناتا اور سہولت فراہم کرتا ہے، پاکستان توانائی کی ضرویات پوری کرنے کیلئے زیادہ تر فوسل فیول پر انحصار کرتا ہے اور قوم پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کیلئے ہر سال 11 ارب ڈالر سے زائد کے اخراجات کرتی ہے، 2015ءتک یہ اخراجات 38 ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2003ءمیں بورڈ کے قیام کے بعد پاکستان نے اس شعبہ میں نمایاں ترقی کی ہے، پاکستان متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ نے حال ہی میں پورٹ قاسم کے قریب 400 میگاواٹ کے ونڈ پراجیکٹ کے نیو پارک انرجی فیز I کی منظوری دی ہے اور چائنا 3 گارجز کارپوریشن کے تعاون سے سندھ میں جھمپر کے مقام پر 50 میگاواٹ کا ونڈ انرجی منصوبہ اگلے سال مکمل ہو جائے گا جبکہ دامن کوہ اسلام آباد میں ایک ونڈ ٹربائن کی تنصیب کے ساتھ پائلٹ ونڈ پاور پراجیکٹ نے کام شروع کر دیا ہے۔ بورڈ کے چیئرمین نے بتایا کہ حال ہی میں 550 میگاواٹ گنجائش کے ونڈ انرجی پراجیکٹس کے قیام کیلئے پاک چائنہ جائنٹ انرجی گروپ دو روزہ اجلاس کے دوران مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے۔ اس کے علاوہ حکومت نے ملک میں متبادل توانائی ٹیکنالوجیز پر عملدرآمد کیلئے ایک فنڈ بھی قائم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ونڈ سے 3 لاکھ 40 ہزار میگاواٹ، شمسی توانائی سے 29 لاکھ، پن بجلی کے بڑے منصوبوں سے 50 ہزار میگاواٹ، چھوٹے منصوبوں سے 3100 میگاواٹ، بائیو گیس سے 1800 میگاواٹ، فضلہ سے 500 میگاواٹ جبکہ جیو تھرمل سے 550 میگاواٹ بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد ممالک نے شمسی، پون، بائیو ماس، جیو تھرمل، سمندری لہروں اور بائیو فیولز کے ذریعے متبادل توانائی ذرائع کو کامیابی سے فروغ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 556 میگاواٹ گنجائش کے 11 ونڈ پراجیکٹس تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ گئے ہیں جن میں سے کچھ اس سال دسمبر تک بجلی کی سپلائی شروع کر دیں گے جبکہ دیگر 2013ءتک کام کرنا شروع کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کا عزم کر رکھا ہے اور ماضی میں کئی اقدامات کئے اور اب بھی متعدد اقدامات پر عمل پیرا ہے تاکہ عام آدمی کوریلیف حاصل ہو اور صنعتی ترقی میں مدد ملے۔ عارف علاﺅ الدین نے کہا کہ حکومت نے نجی شعبہ کے ذریعہ اضافی 1582.4 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کیلئے ایک فاسٹ ٹریک سکیم شروع کی ہے جو دسمبر 2013ءتک مکمل ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ 228 میگاواٹ گنجائش کے شمسی توانائی کے دیگر 9 منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے شمسی توانائی کے فروغ کیلئے بھی کئی اقدامات کئے ہیں جن میں سولر سسٹم، سولر واٹر ہیٹر، سولر واٹر پمپ شامل ہیں، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں سولر پاور پلانٹس قائم کئے جا رہے ہیں، ان منصوبوں کیلئے بین الاقوامی متبادل توانائی ادارہ چین اور پاکستان کی نجی توانائی کمپنیاں تعاون کر رہی ہیں۔ عارف علاﺅ الدین نے کہا کہ شوگر مل مالکان کو گنے کے چھلکوں کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کیلئے قائل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اس سلسلہ میں 34 میگاواٹ کے دو یونٹ پہلے ہی کام کر رہے اور جبکہ تین دیگر یونٹ تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

مزید : کامرس


loading...