ریلوے سٹیشن اوکاڑہ اور گندگی کے ڈھیر

ریلوے سٹیشن اوکاڑہ اور گندگی کے ڈھیر

  



گندگی وغلاظت کے بھیانک منظر اوکاڑہ شہر کے ریلوے سٹیشن کے ایک طرف علامہ اقبال روڈ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ گندگی اور غلاظت کے یہ ڈھیر گردو نواح کی رہائشی آبادیوں کے مکینوںکے لئے وبال جان بن گئے ہیں۔ راہ گیروں کے لئے غلاظت کے ان ڈھیروں سے ایک لمحے کے لئے گزرنا محال ہے۔ یہاں سے گزرنے والے اکثر و بیشتر افراد اپنے منہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھ کر گزرتے ہیں۔ کئی لوگ تو ریلوے سٹیشن کے ذمہ داران کو صلوٰتیں سنانا فرضِ سمجھتے ہیں، کیونکہ گندگی و غلاظت کے یہ ڈھیر ریلوے سٹیشن کی حدود میں واقع ہیں۔ ریلوے سٹیشن کسی بھی شہر کا مرکزی مقام ہوتا ہے۔ اوکاڑہ کا ریلوے سٹیشن عین شہر کے بیچ آبادی میں واقع ہے، جس کے ایک طرف بینظیر روڈ کی شہری آبادی ہے، تو دوسری طرف علامہ اقبال روڈ پر واقع گارڈن ٹاﺅن، گلشن فاطمہ اور باجوہ کالونی۔ گویا اس تعفن اور غلاظت سے پورا شہر متاثر ہو رہا ہے اور ذمہ داران کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

متعدد بار اخبارات میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، لیکن تاحال شنوائی نہیںہوئی۔ ریلوے سٹیشن کی حدود میں واقع گندگی کے ان ڈھیروں کا ذمہ دار کوئی سیاست دان نہیں، بلدیہ کا کوئی اہلکار ہے اور نہ ہی کوئی بیورو کریٹ، بلکہ اس ادارے، یعنی ریلوے سٹیشن کا سربراہ ہے، جسے سٹیشن ماسٹر کہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے، جیسے یہ شخص دُور دُور تک پھیلے بدبو کے ان بھبھکوں سے بالکل بے خبر ہے، جس سے مقامی آبادی میں کئی موسمی و ماحولیاتی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ متعدد بار یاد دہانی کے باوجود کسی قسم کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ کاروباری حضرات، دکاندار، قریبی ہسپتال کے مریض اور راہگیر، طلبہ و طالبات سمیت ہر طبقہءفکر اور مقامی آبادی کا ہر فرد غلاظت کے اِن ڈھیروں سے شاکی نظر آتا ہے، لیکن ریلوے سٹیشن کے حکام غفلت ، بے دھیانی اور عدم توجہی کا مجسمہ بنے بیٹھے ہیں۔

اعلیٰ حکام کی اِس بے التفاقی کے باعث اب یہاں خانہ بدوش آ کر آباد ہو گئے ہیں۔ گزشتہ چند روز سے انہوں نے یہاں اپنی مستقل آبادی قائم کر لی ہے، مگر حکام اب بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ اِس میں شک نہیں کہ خانہ بدوش بھی انسان ہیں، تاہم شہر کے بیچ ان کا پڑاﺅ ڈالنا گندگی اور غلاظت کے ڈھیر میں اضافے کا باعث بنے گا۔ جب سے اِن لوگوں نے یہاں قیام کیا ہے، کوڑا کرکٹ اب سڑک پر بھی بکھرا نظر آتا ہے اور یہ ریلوے حکام کی ”اعلیٰ ظرفی“ ہے کہ وہ کوڑا کرکٹ کے ہار گلے میں ڈال کر دفاتر میں براجمان رہتے ہیں۔ ریلوے سٹیشن کی حدود میں پولیس چوکی اور مسجد بھی واقع ہے۔ کیا ریلوے حکام کو اللہ کا گھر دیکھ کر خدا کے احکامات یاد نہیں آتے؟ جس ذات نے ایک عام آدمی کو ایک اہم ادارے کا سربراہ بنا کر مخلوق ِ خدا کی بھلائی اور فلاح کا کام سونپا، کیا اُس شخص سے روز ِ قیامت حساب نہیں لیا جائے گا کہ اللہ نے آپ کو عزت دی، اختیار دیا اور آپ نے روئے زمین پر گندگی کے ڈھیروں سے اِن کا خوب شکرانہ ادا کیا۔

اگر ریلوے حکام اپنے محدودوسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال میں لائیں تو اس مسئلے کا تدارک ممکن ہے۔ ایک طرف تو گندگی کے اِن ڈھیروں کی جلد از جلد صفائی کی جائے اور خانہ بدوشوں کو شہری آبادی سے باہر منتقل کیا جائے، دوسری طرف ریلوے پولیس کے ایک اہلکار کو مستقل طور پر اِس مقام پر تعینات کیا جائے تاکہ کوڑا کرکٹ پھینکنے والے افراد کو حراست میں لے کر فوراً تادیبی کارروائی کی جائے۔ اگر ضرورت پڑے تو بلدیہ، یونین کونسل یا سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے متعلقہ افسران سے رجوع کر کے اور مشترکہ کاوشوں سے کوئی لائحہ عمل تشکیل دیا جائے تاکہ گندگی کے اِن ڈھیروں سے چھٹکارہ حاصل کیا جا سکے، لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے، جب ریلوے حکام کے اندر کا انسان جاگ جائے اور ان کی فرض شناسی انہیں دفتر سے نکل کر گندگی کے اِس ڈھیر پر کھڑے ہو کر سانس لینے پر مجبور کر دے اور وہ سانس نہ لے سکیں۔ اللہ اِن حکام میں احساس ذمہ داری، فرائض کی ادائیگی اور خوف خدا کا احساس پیدا کرے، جس ذات نے ان کو عزت دی، لیکن وہ ذلت کو ترجیح دیتے ہیں۔   

مزید : کالم


loading...