یہ تو میرے مخالفوں کی سازش ہے!

یہ تو میرے مخالفوں کی سازش ہے!

  



بہت دنوں سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں شمالی وزیرستان میں آپریشن پر کافی بحث مباحثہ ہو رہا ہے ۔ اگر تھوڑی سی گہرائی میں جاکر صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو ہم جیسے عام شہری کے لئے یہ سمجھنا بڑا مشکل ہے کہ اگر یہ آپریشن ہو بھی جائے تو بھی کیا فرق پڑے گا؟پچھلے چار پانچ سال میں ہم نے باجوڑ،جنوبی وزیرستان میں آپریشنوں سے کیا حاصل کرلیا؟کیا باجوڑ،جنوبی وزیرستان میں حکومتی رٹ مکمل طور قائم ہوگئی،کیا مُلک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگئی؟دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اِن تمام آپریشنوں کے باوجود دہشت گردوں نے جب اور جہاں چاہا حملہ کِیا۔ظاہراََ تو یہ تمام حملے نہایت منظم اورکوآرڈی نیشن کے ساتھ کئے گئے ۔آپریشن ہونے یا نہ ہونے سے قطع نظر میرا خیال ہے کہ ہم ایک نہایت بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔اِن تما م تر دہشت گرد حملوں سے ایک بات بخوبی واضح ہے کہ ان دہشت گردوں کو ہر موقع پر لوکل سپورٹ حاصل تھی،جس نے اِن کو اِس قابل بنایا کہ وہ یہ حملے کرسکیں۔اگر دہشت گرد شمالی یا جنوبی وزیرستان میں بیٹھے میزائل پھینک رہے ہوتے تو یقیناََ آپریشنز Operationsہی مسائل کا حل تھے ، لیکن ایسا نہیں ہے ۔ یہ تو ایک کینسر کی طرح ہمارے پورے مُلک میں پھیلے ہوئے ہیں۔جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا کہ اِن حملوں سے بخوبی ظاہر ہے کہ جہاں قبائلی ایجنسیاں مکمل طور پر اِن دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں، اِن کا مُلک کے اندر بھی خاصا مضبوط اور مربوط نیٹ ورک موجود ہے ۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن سے ہچکچاہٹ کی ایک اور وجہ جو سامنے آئی ہے ، وہ یہ ہے کہ اِس آپریشن کے نتیجے میں دہشت گرد شہریوں یا تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے اور عوام کے جان و مال کا نقصان ہوگا۔میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہوگا کہ بجائے اِس کے کہ ہم ایجنسیوں میں آپریشن کریں، ہم اندرونی طور پر اُس نیٹ ورک کو توڑیں جو دہشت گردی کی وارداتوں کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔جب تک یہ نیٹ ورک قائم ہے جتنے مرضی آپریشن کرلئے جائیں، نتیجہ وہی رہے گا جو اِس سے پہلے کئے گئے آپریشنوں کا رہا ہے ۔

میرا خیال ہے کہ اب قوم کو یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے ؟پچھلے 65سال میں جتنے بھی ہمارے حقیقی یا تصوراتی دشمن ہیں، اُن میں سے کِسی نے ہم کو اِس قدر نقصان نہیں پہنچایا، جس قدر ہمارے گھر کے اپنے چراغوں نے ہمارا بیڑہ غرق کِیا ہے ۔14اگست کو جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی اپنی تقریر میں اِس جانب اِشارہ کِیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف تقریریں مسئلے کا حل ہیں؟ابھی تک کوئی ایسا قدم، جس سے یہ واضح ہو کہ ہماری دورُخی سوچ میں کوئی تبدیلی آئی ہے ، سامنے آنا باقی ہے ۔مزید برآں اب یہ مسئلہ صرف ایک ادارے کانہیں ، بلکہ پوری قوم کا ہے اور اگر ہم ذرا گہرائی سے صورت حال کا جائزہ لیں تو اِس کی جڑیں ہمارے سماجی اور معاشرتی رویوں میں پیوست ہیں۔ہم من حیث القوم کِسی بھی چیز کی ذمہ داری قبول کرنے سے عاری ہوچکے ہیں۔چاہے کسی ٹی وی پروگرام کی ویڈیو ہو یا مہران بیس پر حملہ، ہمارے Responsesیکساں ہیں۔کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔

یہ دو انتہائی مختلف واقعات ہیں، لیکن دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ریسپونس( Response)ایک ہی ہے ۔” یہ میرے مخالفوں کی سازش ہے“....آج تک ہماری سماجی اور معاشرتی زندگی میں ہمارے پاس کتنی ایسی مثالیں ہیں، جہاں کِسی نے ذمہ داری قبول کی ہو اور جس میں اپنی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کا حوصلہ ہو۔اگر ہر چیز ہمارے خلاف سازش ہے تو اِس کا ایک ہی مطلب ہے کہ ہم بالکل صحیح ہیں،ہم میں کوئی خامی نہیں ہے ۔یا تو یہ گردش حالات ہے یا یہ دشمنوں کی سازش۔ہم کب تک اِس طرز عمل پر کاربند رہیں گے۔ہم جس دلدل میں دھنس رہے ہیں، وہ صرف آصف علی زرداری کی بنائی ہوئی نہیں ہے ، یہ ہماری خود کی تخلیق کردہ ہے ۔اگر ہم اپنی ناکامیوں کوقبول نہیں کرسکتے تو بھول جائیں کہ ہم ترقی کرسکتے ہیں یا کوئی باعزت مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ظاہر ہے پہلے یہ مانیں گے کہ ہم ناکام ہوئے ، تب ہی کسی بہتری کا سوچیں گے، ورنہ اگر ستاروں کی چال یا سازشوں میں ہی پھنسے رہنا ہے تو اِس کا نتیجہ تو یہی نکلے گا۔

کچھ روز پہلے ایک اخبار میں پاکستان سے متعلق مختلف ممالک کے عوام کی آراءکے اُوپر ایک خبر تھی۔ دلچسپ پہلو یہ ہے، جن ممالک کو ہم اپنا بڑا دوست تصور کرتے ہیں، اُن تمام ممالک کے عوام میں ہماری حمایت میں واضح کمی ہوئی ہے ۔یاد رہے کہ یہاں ہم حکومتوںکی نہیں، بلکہ عوام کی رائے کے بارے بات کر رہے ہیں، لیکن اب اِس کو ہم کیا کہیں گے بُرا یا سی آئی اے کی سازش۔سچ یہ ہے کہ ہم نے جو طرزِ عمل اختیار کِیا ہے ، اِس کے بعد ہم کو سازشوں کی ضرورت ہے کیا۔

خواص اور عوام دونوں کو بہت تحمل سے سوچنے اور غور و خوض کی ضرورت ہے ۔ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ہم کتنی دیر شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن دبائے رہیں گے۔ہم کو نہایت سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے ؟ویسے جو ہمارے حالات ہیں، ہم کو کِسی دشمن کی کیا ضرورت ہے ۔ہم اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی قبر کھود رہے ہیں۔جب تک ہم اپنی آنکھیں اور دماغ کھول کر پہلے اپنے آپ اور پھر اپنے دشمنوں کو نہیں پہچانیں گے، تب تک یہی ہوگا۔آپریشن بھی ہوں گے اور دہشت گردی بھی بڑھے گی۔جمہوریت بھی ہوگی اور اِ س جمہوریت کے لبادے میں ہم بدترین آمریت کا شکار ہوں گے اور اِسی طرح کے بونے ہمارے حکمران ہوں گے اور ساری دُنیا ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہوگی۔     ٭

مزید : کالم


loading...