یہ پیشکش محدود مدت کے لئے ہے!

یہ پیشکش محدود مدت کے لئے ہے!

  



ایک آدمی پر قتل کا مقدمہ بن گیا۔ اس کے لواحقین کیس لڑنے کے لئے ایک وکیل کے پاس گئے تو اس نے بطور فیس ایک ہزار طلب کئے ۔ لواحقین نے آپس میں مشورہ کیا کہ جس کی فیس اتنی کم ہے ،وہ ضرور کوئی نالائق وکیل ہوگا۔سو وہ دوسرے وکیل کے پاس گئے ۔ اس نے پانچ لاکھ فیس طلب کی تو لواحقین نے فوراً اس کو منتخب کرلیا،لیکن مقدمہ ہار گئے اور ان کا آدمی پھانسی چڑھ گیا۔ نماز جنازہ کے موقع پر لواحقین سے پہلا وکیل ملا اور شکایت کی کہ جس کام پر آپ نے پانچ لاکھ خرچ کئے ،وہی مَیں نے ایک ہزارمیں کرا دینا تھا۔ جب ہمارے محترم یوسف رضا گیلانی پر وزارت عظمٰی کے دوران توہین عدالت کا مقدمہ بنا تو انہوں نے ایک سو روپے کے عوض جناب اعتزاز احسن کو اپنا وکیل کرلیا۔ ہمیں اندازہ ہوگیا کہ مقدمہ کا انجام کیا ہوگا....ہم نے فوری طور پر پارٹی کے ضلعی صدر سے رابطہ کیا اور پیشکش کی کہ پارٹی لیڈر سے کہیں کہ وہ ہمیں وکیل کرلیں ، ہم ان کا مقدمہ آدھی فیس، یعنی پچاس روپے کے عوض لڑیں گے ،لیکن ہماری پیشکش کو سنجیدگی سے نہیں لیاگیا.... جس روز مقدمے کا فیصلہ آیا تو ہم نے ضلعی صدر سے گلہ کیاکہ یہی کام ہم نے آدھی فیس پر کردینا تھا.... جب اعتزازصاحب سینٹر بنے تو ضلعی صدر نے ہمیں جوابی فون کیا کہ اصل فیس تو اب ادا کی گئی ہے ۔ ہمیں سمجھ نہ آئی کہ مقدمہ، بلکہ مقدمات ہارنے کی فیس بھی اس طرح ادا ہوتی ہے ۔

 بہرحال ہم مزید تبصرہ اس لئے نہیں کرتے کہ جناب اعتزاز احسن ہماری تحریر سے کوئی نکتہ نکال کر ہمیں ” قنون دی مار“ نہ دے دیں ،لہٰذا ”مٹی پاﺅ“ .... لیکن ہم پیشکشیں کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ۔ پرویز مشرف دور میں جناب پرویز مشرف نے اپنے بہنوئی یا ہم زلف، بہرحال قریبی رشتہ دار کوجو برطانیہ میں مقیم تھے، ہزروں پاﺅنڈ ماہانہ مشاہرے پر مشیر مقرر کیا تھا ۔ ان صاحب نے قومی خزانے سے لاکھوں پونڈ بھی وصول کرلئے اور مشورہ بھی کوئی نہ دیا۔ ہم بھلے ”کردار کے غازی“ نہ سہی ”گفتار کے غازی“ تو ہیں، شور مچاتے رہے کہ جب یہ سہولت صرف چند پونڈ کے عوض مقامی طورپردستیاب ہے توصاحب ،اتنی دور کیوں جاتے ہو؟ اگر پرویز مشرف صاحب ہمارے قیمتی مشوروں سے مستفیذ ہوجاتے تو یقینا ہمارے پاس ہی رہتے ،اپنے اس رشتہ دار مشیر کے پاس برطانیہ نہ بھاگتے .... ایک قیمتی مشورہ تو ہم نے یہ دیناتھا کہ جب ایک کلو وزن آپ سے اٹھایا نہیں جارہا تو پلڑے میں کس احمق کے مشورے سے آپ پچاس کلو کا باٹ رکھ رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ ایک چیف جسٹس کا مسئلہ آپ کے گلے پڑا ہوا ہے تو آپ مزید پچاس جج صاحبان کو اپنے خلاف کررہے ہیں؟

 حال ہی میں ہماری مایہ ناز کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی یکے بعد دیگرے صفر پر آﺅٹ ہو ہوکر پویلین میں واپس لوٹنے لگے تو ہم نے بورڈ والوں کو فون کرکے اپنی پیشکش یاد دلائی کہ کروڑوں روپے ان لوگوں کی تربیت اور معاوضے پر لگا کر یہی رزلٹ لینا تھا تو میرے محلے کی ٹیم میں کیا خرابی تھی؟ ہم لوگ تو ”تیر تکے“ سے چوکا چھکا بھی لگا لیتے ہیں ، ہمارے تو نخرے بھی نہیں ہیں ۔ فائیو سٹار ہوٹل کی بجائے ہم سنگل یا ہاف سٹار ہوٹل میں بھی رہنے کو تیار ہیں، معاوضہ بھی جو آپ نے دیناتھا ،وہ ہم نے آنکھیں بند کرکے لے لینا تھا۔ اسی قسم کی بات ہم نے ہاکی بورڈ والوں کوبھی فون کرکے کی کہ اولمپک مقابلوں میں جب آخری نمبرہی لینا تھا تو یہ نمبر بھی ہمارے ہائی سکول کی ٹیم بڑی آسانی سے لے سکتی تھی، بہرحال آئندہ خیال رہے ۔حالیہ اولمپک مقابلوں میں ہماری ایک قومی ہیروئن دوڑ کے مقابلے میں پیچھے رہنے میں اول آئیں ۔ ہمیں پہلے ہی اس کارنامے کااندازہ تھا ،اسی لئے ہم نے اس مقابلے کے لئے اپنی بیگم کا نام پیش کیاہوا تھا۔ اس بار ہم بڑے پُر امید تھے ،اسی لئے ہم نے وافر مقدار میں بیگم کو کیلشیم کی گولیاں بھی کھلائیں ۔ شربت فولاد اور خمیرہ گاﺅ زبان عنبری بھی کھلایا،مگر حسب سابق ہمیں پھر نظر انداز کردیا گیا۔ جب ہماری خاتون کھلاڑی چالیس کھلاڑیوں کے ساتھ دوڑ مقابلے میں چالیسویں نمبر پر آئیں تو ہم رہ نہ سکے۔ ہم نے پھر فون کرکے بورڈ والوںکو طعنہ دیا کہ یہ نمبر تو ہماری بیگم ،بلکہ ان کی اماں اور دادی ،نانی بھی لے سکتی تھیں ، تم نے کیا شور مچایا ہوا تھا۔

شور تو ہم نے جب بھی مچایا تھا،جب سید یوسف رضا گیلانی صاحب نے ایک ” میٹرک پاس“ کو ایک ادارے کا سربراہ بنایا تھا۔ ہم نے خبر سن کر وزیر اعظم ہاﺅس دوڑ لگا دی تھی، مگر سیکیورٹی والوں نے ہمیں راستے ہی میں روک لیا۔ ہم نے بہتیرا کہاکہ صاحب تک پیغام پہنچادوکہ ہمارے پاس میٹرک سے بڑی ڈگری ہے ، ڈویژن بھی بڑی مناسب ہے ،مگرہماری نہ سنی گئی ۔ اگر ہماری پیشکش قبول کرلی جاتی تو نہ کامران خان کے کانوں میں کوئی بھنک پڑتی اور نہ سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لیتی ،بلکہ سپریم کورٹ کسی بھی معاملے میں ایکشن نہ لیتی ،اگر سبھی ادارے اوگرا اور نپیراسمیت ہماری نگرانی میں دے دیئے جاتے ،کیونکہ ہم نے کبھی بھی توقیرصادق کی طرح اربوں روپے لے کر بھاگنا نہیںتھا۔ واحد وجہ اس کی یہ ہے اور کسی حد تک درست ہی کہا جاتا ہے کہ ہر انسان کی کوئی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے ۔ سو ہم نے بھی اپنے تئیں اپنی قیمت سکہ رائج الوقت مبلغ ایک لاکھ مقرر کی ہوئی ہے ۔سپریم کورٹ تو ایکشن اربوں یا کھربوں کی کرپشن کا لیتی ہے ۔ ہمارے ایک لاکھ کی کرپشن کا اس کو پتہ ہی نہیں چلناتھا۔

ملک کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت نا اہلیت اور کرپشن ہے ۔ نااہلیت کا عالم یہ ہے کہ وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے ببانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ بجلی بحران کے خاتمے کے لئے حکومت سنجیدہ نہیں اور نہ ہی کوئی منصوبہ بندی ہورہی ہے ۔جب نااہلیت ہی ”اہلیت“ کا معیار ہے تو ہم بھی کسی سے کم نہیں اورجناب توقیر صادق کی طرح اپنے آپ کو انٹرویو کے لئے پیش کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ توقیر صادق کا انٹرویو موجودہ وزیراعظم جناب پرویز اشرف نے لیا تھا اور تقرر ی سابقہ وزیر اعظم جناب سید یوسف رضا گیلانی نے کی تھی، تبھی بڑی مشکل سے اس” دیدہ ور“کا ہمارے چمن میں ظہور ہواتھا....جو ہوا سو ہوا، زندہ قومیں آگے کی طرف دیکھتی ہیں ۔انٹرویو لینے والے مقتدر حلقے اگر ہمیں صدر بنادیں تو ہم کچھ اور کریں نہ کریں ،کم از کم ” نوٹس “ لینے کے ورلڈ ریکارڈ ضرور بنادیں گے اور اگر ہمارا انتخاب بطور گورنر ہوجائے تو پھر بھی مضائقہ نہیں ۔ ہم ہر معاملے میں کمیٹی بٹھانے کے ریکارڈ بنانے کی کوشش کریں گے ۔ کمیٹی پر کمیٹی ۔ بیٹھی ہوئی کمیٹیوں کو اٹھائیں گے اور اٹھی ہوئی کمیٹیوں کو بٹھائیں گے۔

ہمارے محلے میں ایک لال بالوں والی مائی کمیٹیوں والی مشہور ہے ، سرکاری کھاتے سے اس کے پاس بھی دس بارہ کمیٹیاں ڈال دیں گے ۔ اگر ہمیں ریلوے، سٹیل مل یا پی آئی اے کا سربراہ بنادیا جائے تو یقین مانئے کہ اربوں کا خسارہ ہم لاکھوں میں لے آئیں گے ، دلیل اس کی وہی ناقابل چیلنج ہے کہ ہماری اپنی قیمت اربوں، کھربوں نہیں، بلکہ ایک لاکھ ہے ۔ ہم درویش قسم کے ”کرپٹ“ ہیں، جب تک ایک لاکھ ختم نہ ہوجائے گا ۔دوسرے لاکھ کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گے ۔ مزید نااہلیت، یعنی اہلیت کی ایک خصوصیت یاکوالٹی ہمارے اندر یہ ہے کہ ہم سنگدلی کی حدتک خود غرض انسان ہیں ۔ کرپشن کے لاکھ ہماری ہی ذات پر صرف ہوں گے ،یعنی ہم اپنی اولاد کے لئے اربوں، کھربوں نہیں چھوڑیں گے ۔ ہم ” گناہ بے لذت“ کے قائل نہیں کہ اربوں کی کرپشن کے ذمہ دار ہم بنیں اور اولاد کی ” انجوائے منٹ“ کا گناہ بھی ہمارے کھاتے میں جائے ۔

ضرورت سے زیادہ پیسہ نیک آدمی کو بھی گمراہ کرسکتا ہے ۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے بیٹے جو اچھی بھلی نیک راہوں پر چل رہے ہیں ، اگر ان کے اکاﺅنٹ میں اربوں کی کرپشن کے پیسے پہنچ گئے تو سو فیصد امکان ہے کہ یہ پیسہ وہ ” تھا تھا،تھیا تھیا“ جیسے ضروری کاموں پر لٹا دیں گے ، اس قسم کی سہولتیں چونکہ ہمارے کرپشن کے پیسے سے ان کو ملیں گی، سو اس”گناہ جاریہ“ کا ستر اسی فیصد تو ہمارے اکاﺅنٹ میں ضرور جائے گا ۔ کہتے ہیں کہ بڑی برائی سے چھوٹی برائی بہتر ہے ، سو ”چھوٹی برائی “ کے طور پر ہم مقتدر حلقوں کو اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ سو دیر نہ کی جائے اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ پیشکش محدود مدت کے لئے ہے ۔اگردیر کی گئی تو اس بات کا امکان موجود ہے کہ قدرت کا دائمی قانون حرکت میں آجائے اور نیک نیت رکھنے والوں کا کوئی گروہ ” بھل صفائی“ کرنے پہنچ جائے ، ہماری صفائی ہوجائے اور آپ کا صفایا!      ٭

مزید : کالم


loading...