حکیم سرو سہارنپو ری:ایک روشن چراغ تھا نہ رہا

حکیم سرو سہارنپو ری:ایک روشن چراغ تھا نہ رہا

  



جناب حکیم سید محمود احمد سرو سہارن پوری سے پہلی ملاقات کالج کے زمانے میں ہوئی۔ گورنمنٹ ڈگری کالج اصغر مال راولپنڈی میں ہمارے ایک استاد محترم جناب سجاد حیدر ملک کے بھانجے مقبول الرحیم میرے ہم جماعت اور دوست تھے، انہیں ہم مفتی امین الحسینی کہا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے ایک شعر سنایا:

گو مَیں نے سرابوں کے سوا کچھ نہیں پایا

پھر بھی مرا وجدان یہ کہتا ہے، خدا ہے

یہ جنون ووارفتگی کا وہ دور تھا کہ ایک لائبریری میں حضرت الشاہ عارف اللہ قادری کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ”عارف“ میں یہ نعتیہ قطعہ دیکھا تو رسالہ ”پار“ کر لیا:

حُسنِ خورشید و قمر، نور و حنا کچھ بھی نہیں

بُوئے گُل کچھ بھی نہیں، رنگِ حنا کچھ بھی نہیں

ایک ماحول کی تخلیق ضروری تھی فگار

ورنہ دنیا میں محمد کے سوا کچھ بھی نہیں

پھر شاعر جناب فگار میرٹھی کو ڈھونڈ نکالا، ان سے مل کر دل کی تسکین حاصل کی اور اپنی ”واردات“ سنائی۔ بہت حیران بھی ہوئے اور دعائیں بھی دیں، جن میں ایک دعا اس ”چوری“ کا مواخذہ نہ ہونے کی تھی۔ جناب حکیم سرو سہارن پوری سے ملاقات کا شوق حد سے بڑھ گیا تو جناب مقبول الرحیم کے توسط سے ان سے ملاقات ہوئی۔ ریلوے روڈ پر ان کے مطب میں جا کر ملاقات کی۔ وہ ایک درویش منش انسان تھے۔ اپنے ظاہر سے نہ وہ شاعر دکھائی دیتے تھے، نہ حکیم ، نہ حکمت و طبابت کا کوئی اظہار، نہ شاعرانہ رنگ ڈھنگ، لیکن ان کی سادگی میں ایک عجیب رعب تھا ۔ گزرتے وقت کے ساتھ یہ حصار عقیدت میں ڈھل گیا۔ ایک عرصے تک ذہن اور طبیعت پر اس شاعر وجدان سے ملاقات کا سرور طاری رہا ۔

پھر بھی مرا وجدان یہ کہتا ہے، خدا ہے

کالج سے فارغ ہو کر قانون کی تعلیم کے لئے لاہور گیا تو پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ لاہور کی یہی خاصیت ہے، ملکہ ہند نور جہاں نے اسی لئے تو کہا تھا :

لاہور را بجان برابر خریدہ ایم

جاں دادہ ایم و جنت دیگر خریدہ ایم

ضیاءالحق نے انتخابات ”مثبت نتائج“ حاصل کرنے کے لئے ملتوی کر دیئے تو جناب حنیف رامے نے روز نامہ ”حیات“ بند کر دیا اور بے روز گار ہو کر پھر راولپنڈی آگیا۔ جناب حکیم صاحب سے دوبارہ ملاقاتیں ہونے لگیں۔ حکیم صاحب مشاعروں کے شاعر نہیں تھے، لیکن ریڈیو، ٹی وی کے مشاعروں اور نعتیہ مشاعروں میں اہتمام سے اور شاید یوم آزادی کے مشاعروں میں بھی اسی اہتمام سے شرکت کیا کرتے تھے۔ ریڈیو سے وہ طبی مشورے بھی دیتے تھے۔ ”دل دل پاکستان“ والے نثار ناسک کی وجہ سے میرا بھی ریڈیو پاکستان میں آنا جانا لگا رہتا تھا ۔ وہاں بھی حکیم صاحب سے ملاقات ہو جاتی تھی، اگرچہ یہ ملاقاتیں مختصر ہوتی تھیں، لیکن ان کی حلاوت بڑی دیر پا ہوتی تھی۔

وہ بہت اعلیٰ پائے کے شاعر تھے۔ ان کے شاعرانہ کمال کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ انہوں نے علامہ اقبالؒ کے فارسی کلام کا منظوم ترجمہ کیا ہے۔ اگر وہ صرف شاعری کو اپنی پہچان بناتے تو اپنے دور ہی کے نہیں، اُردو شاعری میں سنگِ میل قرار پانے والے شاعروں میں ہوتے۔ ان کی شخصیت، ان کی مختلف حیثیتوں اور کیفیتوں کا ایک حسین امتزاج تھی۔ انہوں نے گوناگوں ذمہ داریوں کے بوجھ اٹھا رکھے تھے، اس لئے شاعرانہ لاابالی پن کے وہ متحمل ہی نہیں ہو سکتے تھے۔ شاعرانہ تعلق اور ہر کسی کو ہر وقت شاعری سنانے کی ”شاعرانہ ہوس“ سے وہ کوسوں دور تھے۔ اپنے رہن سہن میں وہ متشرع تھے، لیکن زاہد خشک بھی نہیں تھے۔ وہ ”مذہبی“ لوگوں کی طرح اپنی دین داری کا ڈھنڈورہ پیٹنے والے بھی نہیں تھے اور علمیت جھاڑنے کا شوق بھی نہیں رکھتے تھے۔ حد اعتدال میں رہنے والی طبیعت کی شگفتگی ان کی طبیعت کا خاصہ، خلوص اور محبت ان کا طرز گفتگو اور تواضع ان کا نصب العین تھا ۔

انہوں نے اپنی شخصیت کے کسی بھی پہلو کو اپنی شخصیت پر حد سے زیادہ مسلط نہیں ہونے دیا۔ وہ بناوٹی لگاوٹ اور لگاوٹی بناوٹ سے کوسوں دور تھے۔ ان کی طبی مہارت اور حذاقت کا مَیں خود گواہ ہوں۔ امریکہ آنے کے بعد پہلی بار واپس پاکستان گیا تو بعض وجوہ کی بناءپر مخلص احباب نے اصرار کیا کہ اب مَیں پاکستان میں ہی رہوں۔ ایک جریدہ میرے ذمے لگایا گیا، تاکہ اپنی روزی روٹی کما سکوں۔ جرائد کی روایت کے مطابق طب و صحت کے ایک مستقل کالم کے لئے میرے ذہن میں جناب سرو سہارن پوری کا خیال نہ آنا محال تھا ۔ اس غرض کے لئے ان کے مطب میں حاضر ہوا، آپ موجود نہیں تھے۔ صاحبزادے نے بتایا کہ کسی کے جنازے میں گئے ہوئے ہیں۔ اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود وہ احباب کی غمی خوشی میں شرکت کا اہتمام کرتے تھے۔ واپس تشریف لائے، تپاک سے ملے، زحمت انتظار پر معذرت کی، ایک دفعہ اور چائے پلائی اور آمد کا سبب پوچھا۔ مَیں نے کالم کی فرمائش کی۔ کہنے لگے، مصروفیات بہت زیادہ ہیں اور وقت بالکل نہیں ملتا۔ پھر بڑی شفقت اور اپنائیت سے کہا، لیکن آپ کو انکار نہیں کر سکتا، اس لئے لکھوں گا۔

 مَیں نے کام بنتے دیکھ کر فوراً دوسری فرمائش کر دی، ایک کالم فوری طور پر چاہیے، وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ کہنے لگے اگر تازہ لکھنا پڑا تو آپ کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ موسم سرما کی بیماریوں کے حوالے سے ایک کالم ریڈیو پر پڑھا تھا ۔ سرما کا آغاز ہو رہا ہے، آپ فی الوقت اس کالم سے کام چلالیں۔ مَیں نے کہا لائیے۔ فوراً مسودات کے ڈھیر میں سے ایک مسودہ نکالا، اس پر نظر ڈالی توکسی قدر مایوسی سے کہا، اسے صاف کرکے لکھنا پڑے گا۔ آپ سے پڑھا نہیں جائے گا، قلم برداشتہ لکھا تھا ، بلکہ ریڈیو پاکستان جاتے ہوئے راستے میں کچھ نکات لکھ ڈالے تھے۔ ایسا کریں،مَیں اسے آج کل میں صاف کردوں گا، آپ آکر لے جائیے گا۔ مجھے اپنی سب ایڈیٹری اور ”جناتی تحریریں“ پڑھنے کی استعداد پر اعتماد تھا ۔ مَیں نے کہا آپ بے فکر رہیں، مَیں پڑھ لوں گا۔ لائیے مَیں آپ کو پڑھ کر دکھا د وں۔ انہوں نے مسودہ میرے حوالے کر دیا۔ یہ موسم سرما کی بیماریوں، نزلے زکام، کھانسی، گلے کی خرابی اور ٹانسلز کے بارے میں تھا ۔

مجھے ایک مدت سے ٹانسلز کی تکلیف تھی۔ شروع شروع میں تو بیماری کی سمجھ ہی نہیںآئی۔ اندر ہی اندر بخار کی کیفیت، لیکن چھو کر دیکھنے یا تھرما میٹر سے بخار معلوم نہیں ہوتا تھا ۔ بدن میں درد اورشدید کسل مندی اور کمزوری کا احساس رہتا تھا ۔ احباب اسے میری فطری اور روایتی ”کام چوری“ پر محمول کرتے تھے۔ اطباءتشخیص نہیں کر پاتے تھے۔ میرے خُسر سید احمد حسین مرحوم مجھے اپنے جاننے والے ایک بنگالی ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے۔ ڈاکٹر نے میری تمام شکایات کی تصدیق کی اور ماتھے پر ایک پٹی نما تھرمامیٹر لگا کر دکھایا کہ بخار ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ”ٹانسلز“ ہیں، جنہیں جراحی کے ذریعے نکلوانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ وقتی آرام کے لئے ڈاکٹر نے بہت تگڑی قسم کے اینٹی بائیوٹک کیپسول تجویز کئے۔ ان کیسپولوں سے مجھے فائدہ ہوا تو مرتا کیا نہ کرتا۔ مَیں نے اسی کو معمول بنا لیا۔ چند روز کے استعمال سے چند روز آرام سے گزر جاتے۔ یہ چکر یوں ہی چل رہا تھا ، حتیٰ کہ امریکہ آکر بھی اس منحوس چکر سے نجات نہیں ملی۔ حکیم صاحب کے مرحمت کردہ کالم میں ”ٹانسلز“ کے لئے املتاس کی پھلی سے علاج تجویز کیا گیا تھا ۔

کالم کو صاف کرکے لکھنے کے بعد مَیں نے پہلا کام یہ کیا کہ بازار سے املتاس کی پھلی لے آیا اور حسب ہدایات استعمال کی۔ پہلی خوراک سے ایسا لگا، گلے میں آسودگی کا لیپ کر دیا گیا ہے۔ مزید چند روز استعمال سے ”ٹانسلز“ کی شکایت کا نام و نشان تک نہ رہا۔ بغیر آپریشن کرائے بفضلہ تعالیٰ اب تک دوبارہ تکلیف نہیں ہوئی۔ مَیں نے یہ نسخہ کئی لوگوں کو بتایا اور ہر ایک نے تیربہدف پایا۔ مجھے طب و صحت کے معاملات سے ہمیشہ سے شغف رہا ہے۔ یہاں امریکہ آکر بھی یہ شوق قائم رہا ، بلکہ یہاں جڑی بوٹیوں سے علاج یا فطری علاج کے بارے میں مَیں نے کچھ تعلیم بھی حاصل کی۔ پاکستان کے طبی کالجوں میں پڑھائی جانے والی ”کتاب المفردات“ اس وقت بھی میرے پاس موجودہے، لیکن مَیں نے کہیں بھی ”ٹانسلز“ کا یہ علاج نہیںدیکھا، حتیٰ کہ املتاس کے خواص میں بھی اس کی اس خاصیت کا کوئی تذکرہ نہیں پایا۔ اللہ جانے جناب حکیم سروسہارن پوری نے کسی سے حاصل کیا تھا یا یہ ان کے اپنے تجربے کا نچوڑ تھا ، لیکن اس کے مو¿ثر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔

امریکہ آجانے سے مَیں پاکستان میں حاصل ہونے والی بہت سی سعادتوں سے محروم رہا ہوں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حکیم صاحب سے فیض صحت حاصل نہیں کر سکا۔ حال ہی میں جناب سعود ساحر سے بعد مدت کے رابطہ ہوا تو ان سے حکیم صاحب کے بارے میں پوچھا۔ معلوم ہوا طویل عرصے سے صاحب فراش ہیں۔ اطباءاکثر مزمن بیماریوں کے لئے پہلے تنقید کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے طویل علالت کے ذریعے انہیں تنقید کے عمل سے گزار کر رمضان المبارک کے جمعہ کی نیک ساعتوں میں اپنے پاس بلا لیا۔ حق مغفرت کرے۔ اگرچہ وہ معروف معنوں میں ”آزاد“ مرد نہیں تھے، وہ تو عاشقِ پاک طینت تھے۔ عشق پاک طینت بھلا ”آزادی“ کہاں دیتا ہے۔

خدا رحمت کنداین عاشقانِ پاک طینت را

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)

مزید : کالم


loading...