امن کو موقع دیجئے

امن کو موقع دیجئے

  



پاکستان اس وقت انتہائی نامساعد حالات سے دوچار ہے۔ ایک طرف مملکتِ خداداد پر انتہا پسندی، دہشت گردی اور جارحیت کے گہرے سائے چھائے ہوئے ہیں تو دوسری طرف قوم اقتصادی، سیاسی، معاشرتی، علاقائی، گروہی اور مذہبی مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ سیاسی قائدین کی انا پرستی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اداروں میں تصادم بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے ماضی میں سرزد ہونے والی غلطیوں کو متواتر دُہرائے جا رہے ہیں۔ اس وقت سب سے اہم مسئلہ فساد فی الارض کو روکنا اور امن کی شمع روشن کرنا ہے۔

ملٹری اکیڈمی کاکول ایبٹ آباد میں پاکستان آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ماضی کو بھلا کر آگے کی سمت دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی شخص غلطیوں سے مبرا نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کی کامیابی عوامی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ بات اب روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ دہشت گردوں کو بیرون ملک سے مالی امداد مل رہی ہے، جبکہ انسانی وسائل ہماری اپنی سوسائٹی سے حاصل ہو رہے ہیں۔ یوم آزادی کے موقع پر جنرل اشفاق پرویز کیانی کی تقریر کا خلاصہ قابل غور ہے:

-1پاکستان کی خوشحالی کے لئے ریاست کے من جملہ اداروں، جن میں انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ شامل ہیں، کی ایکتا ضروری ہے۔

-2 اگر ریاست کے خلاف جنگجوو¿ں کا قلع قمع نہ کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ گھمبیر ہو سکتا ہے۔

-3 ریاست کسی متوازی حکومت یا مسلح طاقت کی متحکمل نہیں ہوسکتی۔

-4 فوج کے لئے سب سے مشکل کام اپنے ہی شہریوں کے خلاف بندوق اٹھانا ہے۔ یہ آخری حربہ ہوتا ہے۔ ہمارا مقصد متاثرہ علاقوں میں امن کی بحالی ہے تا کہ لوگ معمول کی زندگی گزار سکیں۔ بلاشبہ بات چیت کے ذریعے سیاسی حل ہی دیرپا ہو سکتا ہے۔

-5 انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جنگ میں ہم حق بجانب ہیں، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں....اگر ہم اس کے برعکس سوچتے ہیں تو ملک خانہ جنگی میں مبتلا ہو جائے گا۔

-6 اکیلی فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتی۔ پوری قوم متحد ہو کر ہمارے ساتھ تعاون کرے، تب ہی اس معاملے میں کامیابی ممکن ہے۔

-7 دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مخصوص قانون کی ضرورت ہے۔

-8 کوئی ملک عدمِ استحکام کی حالت میں نہیں رہ سکتا۔ ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ آئین کا احترام کرے اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھے۔

مندرجہ بالا تقریر عسکری قیادت کی متوازن سوچ اور فہم و فراست کی عکاس ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اپنے ہی لوگوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا ایک ناپسندیدہ عمل ہے، لیکن بدقسمتی سے جب کوئی گروہ یا فرد وطن عزیز کی سالمیت کے خلاف برسرِپیکار ہو تو اس کے لئے نرم گوشہ رکھنا گناہ کبیرہ ہے۔ ہزاروں مسلمان مردوں، عورتوں اور معصوم بچوں کا قتل عام کرنے والے اسلامی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ مسجدوں، امام بارگاہوں، مذہبی و سیاسی جلوسوں اور فوجی تنصیبات پر حملے کرنے والے کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں۔ تمام مذاہب میں اختلاف رائے کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اسلام بین الاقوامی سچائیوں کا دین ہے۔ اس کے اصولوں کے مطابق فکری جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک طرف آزادیءاظہار کا حق موجود ہے تو دوسری طرف کسی کی دل آزاری سے ممانعت کی تلقین کی گئی ہے۔

کامرہ ایئر بیس پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد حساس ادارے اور افواجِ پاکستان نے پاک افغان سرحدوں پر نگرانی سخت کر دی ہے۔ اس صورت حال کی تحریک طالبان پاکستان یہ تشریح کر رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی کارروائی ہونے والی ہے، جس کی تردید جنرل اشفاق پرویز کیانی کر چکے ہیں۔ امریکی دباو¿ کے باوجود افواج پاکستان حوصلے اور تحمل سے کام لے رہی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اگر ملٹری آپریشن ناگزیر ہو جاتا ہے تو اس کا دائرہ کار ٹی ٹی پی اور اس کے معاونین تک محدود ہوگا، لیکن یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک متنازعہ مسئلہ ہے، جس پر رائے عامہ تقسیم ہو چکی ہے۔ صائب الرائے ماہرین فوجی کارروائی کے حق میں بھی ہیں اور خلاف بھی۔ اختلاف رائے کے حامل رہنما یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ پاکستان کی جنگ نہیں ہے۔ طالبان بھی دو گرہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک گروہ پاکستان کے حق میں ہے تو دوسرا اس کے خلاف، لیکن اسلامی نظام کے نفاذ پر دونوں فریق اتفاق کرتے ہیں۔ امریکی دباو¿ میں آکر فوجی کارروائی کے ردعمل میں پورے ملک میں دہشت گردی کی لہر چل سکتی ہے جو ملکی سالمیت کے لئے خطرناک ہے۔

ڈرون حملوں میں دہشت گردوں کے علاوہ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس سے امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا۔ امن کو موقع دینا چاہئے۔ امریکہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تو پاکستانی قیادت کو بھی طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے میں تامل نہیں کرنا چاہئے۔ مندرجہ بالا پس منظر میں اس معاملے کو تین پہلوو¿ں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک زاویے سے دیکھا جائے تو یہ ایک علاقائی مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لئے فوجی حکمتِ عمل کی ضرورت پیش آئی۔ دوسری طرف یہ ایک داخلی دفاعی خطرے کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ تیسری بات اس سے بھی اہم ہے اور وہ ہے امت مسلمہ کی نظریاتی اور سیاسی سوچ....اسے وسیع تناظر میں ایک فکری ردعمل کی مذہبی تحریک سے بھی منسوب کیا جاسکتا ہے، جس کی کڑیاں ماضی میں مسلمانوں کی شوکت سے جا ملتی ہیں۔ یہ ایک فکری مغالطہ ہے۔ عصر حاضر کے بدلتے ہوئے تیور اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ زمانہءموجود کے مسائل کا حل ماضی میں تلاش کیاجائے۔ اس پر دو رائے ہو سکتی ہیں۔ 18 اکتوبر2011ءمیں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں اس بات پر تمام جماعتوں نے اتفاق کیا کہ ایک مرتبہ پھر امن کی فضا قائم کی جائے۔ جنگ سے تباہی و بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

اب ایک سوال سامنے آتا ہے کہ 13 بار عسکریت پسندوں کے ساتھ امن معاہدے کئے گئے، جن کی خلاف ورزی سے حکومت کو نقصان اٹھانا پڑا اور انتہا پسندوں کو فائدہ پہنچا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ معاہدے پرویز مشرف کی غیر نمائندہ حکومت کے ساتھ کئے گئے تھے، اس لئے یہ ناکامی سے دوچار ہوئے، لیکن ان میں سے دو معاہدے جنوبی اورشمالی وزیرستان میں اب بھی قائم ہیں۔ اس سے حکومت کی رٹ کمزور ہوئی اور دہشت گردوں کی اس علاقے میں گرفت مضبوط ہوئی۔ اس وقت طالبان کے تمام گروپ، جن میں ٹی ٹی پی اور پنجابی طالبان کے علاوہ حافظ گل بہادر اور مولوی نذیر کے ساتھی، ایک ہی چھتری تلے اکٹھے ہو چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ نفاذِ شریعت تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور غیر ملکی مجاہدین کی مدد کرتے رہیں گے۔ لشکر جھنگوی اور حقانی نیٹ ورک بھی ٹی ٹی پی کو تقویت فراہم کر رہے ہیں۔ اول الذکر حال ہی میں کراچی میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کی پیچیدگیوں سے بالاتر سوچا جائے تو سوات اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن کی کامیابی سے دہشت گردی کے حملوں میں 24 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس نازک صورت حال میں سیاسی بصیرت سے کام لینا بھی اتنا ہی اہم ہے، جتنا فوجی قیادت کے لئے فیصلہ کن کارروائی کرنا۔

چیف آف آرمی سٹاف نے واضح طور پر دہشت گردی کے خلاف قانون سازی پر زور دیا ہے۔ اس وقت رائج الوقت قوانین میں اتنے سقم ہیں کہ 900 سے زائد کیسوں میں دہشت گردی کے خطرناک مجرم عدم ثبوت کی بناءپر بری ہو چکے ہیں۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے قوانین وضع کئے جائیں، جن کے اطلاق سے کوئی بھی مجرم سزا سے نہ بچ سکے۔ اس سلسلے میں ہمارے دانشور، علماءاور میڈیا بھی اپنا مثبت کردار ادا کریں، تاکہ وطنِ عزیز میں تمام مکاتبِ فکر کے لوگ محبت اور بھائی چارے سے زندگیاں گزار سکیں.... پیغمبرِ اسلام کے اس قول پر عمل کرنا ہمارا فرض ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ”ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے“۔  ٭

مزید : کالم