پاکستان میں اسلامی تحریکیں ناکام کیوں؟ (2)

پاکستان میں اسلامی تحریکیں ناکام کیوں؟ (2)

  



 بہر نوع جمعیت علمائے اسلام کے رہنماﺅں کی اپنی جماعت سے عدم دلچسپی کے باعث یہ جماعت کچھ عرصے تک طاق نسیاں کی نذر ہوگئی تاآنکہ یہ مذہبی جماعت 1956ءمیں ان شخصیات کی قیادت میں آ گئی ،جو برصغیر میں علمائے کرام کی دینی اور سیاسی تحریکات(تحریک آزادی، تحریک ریشمی رومال وغیرہ میں حصہ لینے کی وجہ سے تجربہ کار تھیں، ان میں سے شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری امیر انجمن خدام الدین لاہور)،مولانا غلام غوث ہزاروی، شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی، شیخ الحدیث مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک ، مولانا مفتی محمود شیخ الحدیث مدرسہ قاسم العلوم ملتان اور دیگر حضرات کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں،چنانچہ اب مولانا فضل الرحمن اورمولانا سمیع الحق اپنے والدین کے سیاسی وارث کی حیثیت سے (ف اور س) گروپوں میں تقسیم ہوگئے ہیں، نیز اسی جمعیت علمائے اسلام کے اب مزید گروپ بن گئے ہیں، ان میں سے مولانا عبدالرحیم نقشبندی چکوال اور جمعیت علمائے اسلام کوئٹہ کے گروپ الگ قائم ہوگئے ہیں۔ ان سب میں حصول چندہ و اقتداراگرچہ قدر مشترک ہے، لیکن جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کا حادثہ اور معصوم بچیوں کا لرزہ خیز قتل انہی ایام میں پیش آیا تھا،جب جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں مجلس عمل بھی زندہ تھی اور مولانا فضل الرحمن حزب اختلاف کے قائد اور برسراقتدار تھے، ان کی ”گرگٹ پالیسی“ آج بھی خوب رنگ دکھلا رہی ہے۔

دینی و مذہبی جماعتوں میں سے ختم نبوت کے مقدس نام سے پانچ چھ گروپ قائم ہیں،زیادہ موثر عالمی مجلس ختم نبوت اور انٹرنیشنل ختم نبوت ہیں، جن کی قیادت مولانا محمد علی جالندھری کے فرزند مولانا عزیر الرحمن سیکرٹری جنرل اور انٹرنیشنل ختم نبوت کی مولانا منظور احمد چنیوٹی کے فرزند مولانا محمد الیاس کے سپرد ہے۔ ان سب میں ”چندہ اور چودھراہٹ“ قدر مشترک ہے،جس کے باعث فتنہ ءقادیانیہ کو تقویت مل رہی ہے اور وہ اب جارحیت کی راہ پر آ گیا ہے....(چند واقعات اس کے شاہد ہیں) ....لیکن یہ جماعتیں متحد ہونے پر آمادہ نہیں۔جماعت اسلامی اور جمعیت اہل حدیث کے علاوہ دینی جماعتوں اور مدارس میں خاندانی وراثت کا نظام کارفرما ہے،نیز جماعت اسلامی واحد ایسی جماعت ہے،جو اپنے یوم تاسیس سے لے کر آج تک دیگر مذہبی جماعتوں سے عدم تعاون اور ترکِ موالات کی پالیسی پر قائم ہے۔سیاسی ضرورت کے تحت اگرچہ مجلس عمل کے محاذ پر چند برس یہ جماعت شامل رہی، مگر حسب روایت صوبہ سرحد میں شریک اقتدار رہنے کے بعد تنہا ہوگئی ہے۔

اس جماعت کے بانی امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی زندگی میں ہی مولانا امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد اور دیگر چند رہنما جماعت سے الگ ہوگئے تھے،چنانچہ مولانا مودودیؒکی وفات کے بعد مولانا قاضی حسین احمد نے جماعت کا ڈھانچہ دیگر سیاسی جماعتوں کے انداز میں استوار کیا اور ایک نئی جماعت وجود میں آ گئی،جس پر مولانا نعیم صدیقی نے ان سے اختلاف کرکے اپنا روائتی گروپ قائم کرلیا تھا۔ ان کی وفات کے بعد اب صرف قاضی گروپ ہی سرگرم عمل ہے، سابقہ اور نئی جماعت کی طرف سے کبھی دیگر مکاتب فکر کے علماءو مشائخ کو دعوت اتحاد نہیں دی گئی۔1953ءمیں پاکستان کے دونوں (مشرقی اور مغربی پاکستان ) حصوں کے علماءو مشائخ کا دستوری سفارشات کے سلسلے میں جو تاریخی اجلاس کراچی میں منعقد ہوا تھا، وہ حضرت امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی تجویز اور مولانا احتشام الحق تھانوی کی دعوت پر منعقد ہوا تھا،جس میں 23دستوری سفارشات مرتب ہوئی تھیں۔اس تاریخی اجلاس کے بعد کسی بھی دینی و مذہبی جماعت نے اس نوعیت کا اجلاس منعقد نہیں کیا۔

جماعت اسلامی کی جانب سے مختلف تحریکوں خصوصاً 1953ءکی تحریک ختم نبوت میں عدم تعاون اور علماءگریز پالیسی کے باوجود یہ جماعت دیگر مذہبی تنظیموں کی بہ نسبت آج بھی زیادہ منظم ہے ، اگر یہ اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرکے صحیح خطوط پر گامزن ہوجائے تو اس کا اپنا فائدہ ہے۔دیگر مذہبی جماعتوں میں سے جمعیت اہل حدیث کے بھی کئی گروپ ہیں۔ کراچی جیسے شہر میں ”غرباءاہل حدیث“ گروپ قائم ہے۔لاہوری گروپ”امراءاہل حدیث“ کا مرکز ہے۔ دیوبندی حلقے سے متعلق تھانوی گروپ الگ ہے، اس کا دائرہ کار صرف تصوف ہے،سیاسیات سے اس کا نہ کوئی تعلق رابطہ ہے اور نہ ہی کوئی سرگرمی ہے۔

جہاں تک مجلس احرار اسلام کا تعلق ہے، یہ جماعت برصغیر پاک و ہند میں نہایت منظم اور موثر مذہبی و سیاسی تنظیم تھی، لیکن مسلم لیگی حکمرانوں نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر چونکہ پاکستان میں کسی بھی مذہبی گروہ کو آزادی کے ساتھ سرگرم عمل نہیں رہنے دیا، اس کے خلاف قادیانیوں کے اشتراک سے نفرت انگیز پروپیگنڈہ کیا گیا، اسے خلاف قانون قرار دینے کے علاوہ اس کے رہنماﺅں اور کارکنوں کو کئی کئی سال جیل خانوں میں قید رکھا گیا، نتیجتاً اس جماعت کا دائرہ کار اب صرف تبلیغ اسلام اور تحفظ عقیدئہ ختم نبوت تک محدود ہو کررہ گیا ہے۔بہرنوع ان ناگفتنی حالات میں پاکستان اسلامی جمہوریہ قرار پانے کے باوجود دینی و مذہبی اعتبار سے کسی موثر قیادت سے محروم ہے۔ ملک بدامنی، غنڈہ گردی، قتل و غارت گری، معصوم بچیوں کی آبروریزی، گینگ ریپ، چوریوں، ڈکیتیوں اور ہمہ نوعیت کے اخلاقی جرائم کی آماجگاہ بن گیا ، ایسے ماحول میں معاشرے کی اصلاح کی بات کرنا اور نیک افراد کی قیادت بروئے کار لانے کا تصور، خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں کی ناکامی“ کا آج تک کسی جماعت نے جواب نہیں دیا اور نہ ہی اپنی پوزیشن واضح کی ہے۔علامہ اقبالؒ نے ٹھیک فرمایا تھا:

میَں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہوگا

مسائلِ نظری میں الجھ گیا ہے خطیب

     (ختم شد)    ٭

مزید : کالم


loading...