بلدیاتی انتخابات یا عام انتخابات؟

بلدیاتی انتخابات یا عام انتخابات؟

  



صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے اور عام انتخابات سے پہلے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کا مسودہ تیار کرکے آئندہ دو ماہ میں اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔یہ باتیں انہوں نے اتوار کو صدارتی کیمپ آفس بلاول ہاﺅس میں پیپلزپارٹی سندھ کی کورکمیٹی کے ارکان اور دیگر رہنماﺅں سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ اجلاس میں سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور وفاقی وزیرقانون فاروق اے نائیک اور کئی صوبائی وزراءبھی موجود تھے۔صدارتی ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس امر کی تردید کی ہے کہ صدر نے بلدیاتی انتخابات کے متعلق کوئی ایسی بات کہی لیکن خبررساں ایجنسیوں کی جاری کردہ یہ خبر ملک کے تمام اخبارات میں کم و بیش ایک ہی انداز میں شائع ہوئی اور ٹیلی ویژن چینلوں سے نشر ہوئی، اب اگر صدر آصف علی زرداری نے یہ بات اس طرح نہیں کہی تو معاملہ ہی سرے سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کا موضوع ایسا ہے کہ اس پر مسلسل اظہار خیال ہو رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت کی طرف سے بیانات آ رہے ہیں اور ان بیانات میں خاصا تنوع ہے۔ ایک ہی جماعت کے مختلف رہنما بھی اظہار خیال میں اتفاق رائے نہیں کرتے، بعض جماعتوں کو انتخابات ملتوی کرنے کی سازش بھی نظر آ رہی ہے ان حالات میں اگر صدر آصف علی زرداری نے بلدیاتی انتخابات کی بات اس انداز میں نہیں بھی کی جس طرح شائع یا نشر ہوئی تو بھی اس پر اظہار رائے ضروری ہے۔

پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ گواہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات عموماً فوجی حکومتوں نے ہی کرائے، البتہ یہ بات نوٹ کی گئی کہ ہر فوجی حکمران نے اپنا ہی بلدیاتی نظام متعارف کرایا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کا بلدیاتی نظام بنیادی جمہوریتوں کا نظام کہلاتا تھا، انہوں نے تو بنیادی جمہوریتوں کے ارکان کو الیکٹرل کالج بھی بنا دیا،ان ارکان کی تعداد80ہزار تھی(مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں چالیس چالیس ہزار) اور انہی ارکان نے ایوب خان کے عہد میں اسمبلیوں کے ارکان اور صدر کا انتخاب کیا، لیکن یہ مشق صرف ایک مرتبہ ہوسکی، ایوب خان رخصت ہوئے تو یہ نظام بھی غفرلہ‘ ہوگیا۔ان کا بنایا ہوا آئین جو بنیادی جمہورتیوں کی بنیاد پر کھڑا تھا بھی ختم ہو گیا، جنرل ضیاءالحق نے بھی اپنا بلدیاتی نظام متعارف کرایا اور بلدیاتی انتخابات بھی کرائے، لیکن ان کے بعدآنے والی سول حکومتوں نے اس نظام کو جاری نہ رکھا اور نہ ہی سرے سے کوئی بلدیاتی انتخاب کرایا،آخری فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کا بلدیاتی نظام سب سے جدا اور الگ تھلگ تھا۔ انہوں نے ایک نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو بنایا، جس نے اپنے تئیں بہت غوروخوض کے بعد ایک نیا بلدیاتی نظام وضع کیا، جسے مقامی حکومتوں کا نظام کہا گیا۔ وفاقی حکومت نے پورے ملک میں چار مرحلوں میں انتخابات کرائے،اگرچہ اس نظام کے مخالفین بھی تھے،لیکن جنرل پرویز مشرف کے متعارف کرائے ہوئے نظام کے تحت دوبار الیکشن ہوئے، لیکن ان کے بعد جو حکومت قائم ہوئی اس نے اب تک کسی بھی صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔

 اب اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبے بلدیاتی انتخابات کرانے میں بھی آزاد ہیں۔ صوبہ سندھ میں دونوں بڑی حکمران جماعتیں ابھی تک ا س بات پر متفق نہیں ہوسکیں کہ سندھ کے لئے کون سا نظام موزوں ہے۔ پیپلزپارٹی 1979ءوالا کمشنری نظام بحال کرنا چاہتی ہے جس میں بلدیاتی اداروں کے ارکان براہ راست ووٹ سے منتخب ہوتے تھے، جو جنرل ضیاءالحق کے عہد میں بھی نافذ رہا‘ جبکہ ایم کیو ایم جنرل پرویز مشرف کا سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا نظام بحال کرنا چاہتی ہے۔ اس مسئلے پر دونوں جماعتوں میں طویل عرصے سے مذاکرات جاری ہیںتازہ اطلاع کے مطابق کراچی میں اجلاس کے دوران پیشرفت ہوئی ہے اور کسی مسودے پر اتفاق بھی ہو رہا ہے اگر ایسا ہو گیا تو یہ مثبت پیشرفت ہو گی اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہو گی مزید برآں یہ بات بھی اہم ہے کہ کیا صدر زرداری صرف صوبہ سندھ کے بلدیاتی انتخابات کی بات کر رہے ہیں یا پورے ملک کے۔ بلدیاتی انتخابات چونکہ صوبوں کا موضوع بن گئے ہیں اس لئے ضروری نہیں کہ ہر صوبہ صدر کی خواہش کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرائے‘ پھر ایسے انتخابات ملک بھر میں ایک ہی وقت میں کرانا بھی ضروری نہیں‘ ہر صوبہ اپنی سہولت اور ضرورت کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرا سکتا ہے۔ ابھی تک تو صوبوں نے اس حوالے سے شاید یہ بھی طے نہیں کیا کہ جنرل پرویز مشرف کے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نظام کو بحال کرنا چاہتے ہیں یا وہ کوئی نیا نظام لانا چاہتے ہیں یا جنرل ضیاءالحق کے نظام کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تو اس حوالے سے شاید کچھ کام بھی نہیں ہوا، البتہ بلوچستان میں کوئی پیشرفت ضرور ہوئی ہے ان حالات میں عام انتخابات سے پہلے بلدیاتی انتخابات کرانا مشکل امر ہوگا اور یہ امکان بھی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کراتے کراتے عام انتخابات میں تاخیر ہوجائے چند روز قبل ایک وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ عام انتخابات سے پہلے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جاسکتے، نہ حکومت بیک وقت دونوں انتخابات کے اخراجات کی متحمل ہوسکتی ہے اب معلوم نہیں کہ ان کی اس معاملے پر صدر زرداری سے کوئی مشاورت ہوئی تھی یا انہوں نے اپنے طور پر ہی یہ اظہار خیال کر دیا تھا۔ حکومت کی مخالف جماعتیں بلدیاتی انتخابات پہلے کرانے کے امکان کو ذرا مختلف تناظر میں دیکھ رہی ہیں انہیں خدشہ ہے کہ حکومت اس طرح عام انتخابات ملتوی کرنا چاہتی ہے حالانکہ صدر زرداری کہہ چکے ہیں کہ عام انتخابات وقت مقررہ پر ہوں گے البتہ گزشتہ روز پیر پگاڑہ اور سید یوسف رضا گیلانی کی ملاقات کے دوران پیر صاحب نے کہا کہ عام انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے خود سید یوسف رضا گیلانی نے بھی انتخباات کے انعقاد پر تشکیک ظاہر کی، وہ جب سے وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹے ہیں انہیں اسی طرح کی باتیں سوجھ رہی ہیں کبھی وہ ملک کے وجود کے بارے میں ہی شک ظاہر کرنے لگتے ہیں تا ہم صدر زرداری کی بات پر اعتماد کیا جانا چاہیے تاہم سندھ کے ایک صوبائی وزیر نے 4 اپریل 2013ءکی تاریخ دے کر بھی کنفیوژن پھیلایا تھا جسے پیپلز پارٹی کے حلقوں نے ان کی ذاتی رائے قرار دیا۔

دنیا بھر میں نچلی سطح پر جمہوریت رائج ہے منتخب عوامی نمائندے لوگوں کے گھروں کی دہلیز پر ان کی تمدنی ضرورتوں کی تکمیل کرتے ہیں‘ اس لئے انہیں اس بات سے سروکار نہیں ہوتا کہ ان کے ملک میں حکومت کس کی ہے ان کی ہر ضرورت کی تکمیل ان کی مقامی حکومتیں کر رہی ہوتی ہیں اور انہیں سینکڑوں یا ہزاروں میل کا سفر کرکے اپنے کام کرانے کیلئے صوبائی یا مرکزی حکومت سے رجوع نہیں کرنا پڑتا۔ ہمارے ہاں جب مرکز کی سطح پر حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں تو نیچے تک ہر چیز بدل جاتی ہے اوپر بیٹھے ہوئے حکمران یہ چاہتے ہیں کہ گراس روٹ تک سارا نظام ان کی مرضی کا تابع ہو، جنرل پرویز مشرف نے یہی کیا تھا۔ انہوں نے اپنے طور پر ایک ایسا نظام متعارف کرایا جو ان کے خیال میں بڑا انقلابی تھا اور اس کے تحت انگریز کے متعارف کرائے ہوئے بیورو کریٹک سسٹم پر ایک کڑی ضرب لگائی گئی تھی لیکن یہ نظام بھی اچھا تھا یا برا ان کے ساتھ ہی رخصت ہوگیا کیونکہ جن برکات کا مشاہدہ ان کی عقابی نگاہوں نے اس نظام میں کیا تھا سیاستدان اس کا نظارہ نہ کر سکے۔ جنرل مشرف ناظمین کو اپنا ”انتخابی حلقہ “بنانا چاہتے تھے لیکن آخری دنوں میں وہ عدلیہ سے الجھ کر اپنی ساری گیم کو خراب کر بیٹھے، 2009ءمیں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات اب تک نہیں ہوسکے حالانکہ سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کو غیرآئینی قرار دیا تھا بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بہرحال ضروری ہے اس کے بغیر جمہوریت کی برکتیں عوام تک نہیں پہنچیں گی تا ہم بلدیاتی انتخابات جب بھی ہوں انہیں عام انتخابات میں تاخیر کا باعث نہیں بننا چاہیے کیونکہ عام انتخابات وقت کی ضرورت ہیں، ملک جن مسائل میں گھر چکا ہے ان کا حل تلاش کرنے کیلئے کوئی ایسی قیادت سامنے آنا ضروری ہے جسے عوام کا تازہ مینڈیٹ حاصل ہو، عام انتخابات میں تاخیر کی گئی تو اس سے خدشات اور قیاس آرائیوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگا جو جمہوری نظام کے کیلئے مضرت رساں بھی ہوسکتا ہے۔     ٭

مزید : اداریہ


loading...