موٹر سائیکل رکشوں کی بھرمار،دھویں اور شور سے شہری ذہنی مریض بن گے

موٹر سائیکل رکشوں کی بھرمار،دھویں اور شور سے شہری ذہنی مریض بن گے

  



لاہور(ج الف/جنرل رپورٹر) سستے سفر کے نام پر موٹر سائیکل رکشے موت کے پروانے بن گئے موٹر سائیکل رکشے کی بھرمار کی وجہ سے شہر میں حادثات میں اضافہ ہوگیا ہے دوسری طرف دھویں اور شور شرابے سے شہری ذہنی مریض بن رہے ہیں تفصیلات کے مطابق شہر میں لگ بھگ 2 لاکھ کے قریب موٹر سائیکل رکشے ہیں جو کہ مسافروں کے لئے چلتی پھرتی موت کا سامان بن چکے ہیں تفصیلات کے مطابق یہ رکشے لاہور کی اہم شاہراﺅں پر دوڑتے پھر رہے ہیں جبکہ ٹریفک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں الٹنے اور دیگر حادثات کا روزانہ کی بنیاد پر رونما ہونا معمول بن چکا ہے ٹو سٹروک انجن ہونے کے باعث یہ رکشے بے پناہ دھواں چھوڑتے ہیں جو کہ براہ راست پھیپھڑوں کو خراب کرتے ہیں دوسری طرف سائلنسر سے بفل کو نکال دیاجاتا ہے جس کی وجہ سے بے انتہا شور پیدا ہوتا ہے اس شور کے باعث لوگوں میں سمعی امراض جنم لے رہے ہیں تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ تقریباً50 ہزار کے قریب رکشے راوی ٹاﺅن میں چل رہے ہیں اس کے بعد دوسرا نمبر شالیمار ٹاﺅن کا ہے جہاں 30 ہزار کے قریب واہگہ ٹاﺅن تیسرے اور عزیز بھٹی ٹاﺅن چوتھے نمبر پر ہے یہ رکشے بغیر لائسنس کے چلتی پھرتی موت کے پروانے بن چکے ہیں دوسری طرف یہ رکشہ ڈرائیورز سڑکوں پر ریسوں کے مقابلے کرتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیںراوی ٹاﺅن میں رکشوں کی بھرمار سے اکثر ٹریفک کے بہاﺅ میں خلل رہتا ہے جبکہ دھویں اور شور جیسی لعنت کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پر رہا ہے راوی ٹاﺅن کے علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ان رکشوں سے وہ ذہنی مریض بن چکے ہیں حکومت کو چاہیے کہ ان رکشہ ڈرائیوروں کو مناسب متبادل روزگار فراہم کروا کر لوگوں کو ذہنی سکون مہیا کرے۔ اس حوالے سے حکومت پنجاب کی طرف سے ریپڈ بس منصوبہ بھی کارگر ہوتا نہیں لگتا واہگہ ٹاﺅن ، نشتر ٹاﺅن، عزیز بھٹی ٹاﺅن میں رکشوں کی تعداد میں بس منصوبے کی تکمیل سے کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ راوی روڈ پر چلنے والے رکشے ادھر منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔ 2010-11 کی رپورٹ کے مطابق ٹریفک وارڈنز کی کثیر تعداد کو اس دھویں اور دھول کی وجہ سے ہیپاٹائٹس کی بیماری لاحق ہوچکی تھی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1