250ڈینگی مریضوں کی جان لینے والے عطائیوں کے خلاف آپریشن شروع نہ ہوسکا

250ڈینگی مریضوں کی جان لینے والے عطائیوں کے خلاف آپریشن شروع نہ ہوسکا

  



لاہور(جنرل رپورٹر) صوبائی دارالحکومت میں 2011ءمیں ڈینگی بخار میں مبتلا ہو کر مرنے والے700سے زائد مریضوں میں سے250 کو موت کا این او سی دینے والے عطائیوں کے خلاف آپریشن شروع نہ ہوسکا۔وزیراعلیٰ پنجاب کو رپورٹ پیش کی گئی ۔2011ءمیں250 سے زائد ایسے ڈینگی بخار میں مبتلا مریض لقمہ اجل بن گئے تھے جن کے بخار کے کیسز لاہور کے مختلف علاقوں میں عطائیوں نے خراب کئے او راُن کا مرض پیچیدہ صورتحال اختیار کرگیا اور جو شہر کے اِن عطائیوں کے بعد نام نہاد ڈاکٹروں سے علاج کرواتے کرواتے ہسپتالوں میں لائے گئے تو وہ موت کے قریب جاچکے تھے اور اُن کے جسم کے مختلف حصوں سے خون رستا نظر آیا۔اُن کے کیسز عطائی ڈاکٹروں نے خراب کئے اور نا پختہ کاری کی بنیاد پر اُنہیں ڈینگی بخار میں وہ ادویات دیں جو ڈینگی کے مریضوں کیلئے زہر قابل کا باعث بنیں جن میں درد بند کرنے والی ادویات یعنی پین کلرز، اینٹی بائیوٹکس سمیت دیگر ایسی ادویات جنہیں ڈینگی بخار کے مریضوں کو دینے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔عالمی ادارہ صحت نے بھی ڈینگی بخار کے مریضوں کے لئے سلیفا گروپ کے علاوہ درد کم کرنے والی کسی قسم کی تمام ادویات کے علاوہ انفکیشن ختم کرنے کیلئے دی جانے والی ادویات کو انتہائی خطرناک قرار دینے کے علاوہ اُنہیں دینے پر پابندی کی سفارش کی جس کی تائید سری لنکن ماہرین نے بھی کی مگر شہر میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے عطائیوں نے یہ تمام نسخہ جات سمیت ڈینگی کے مریضوں کی کمزوری دور کرنے کیلئے طاقت کی ادویات بھی استعمال کرواتے رہے جس سے وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق2011ءکے اندر لاہور میں ڈینگی حملہ کے دوران250سے زائد مریض غلط علاج معالجہ کے باعث دم توڑ گئے جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے گذشتہ دنوں سیکرٹری صحت وسیکرٹری خوراک اور سیکرٹری انہار کو شہر میں عطائی ڈاکٹروں کے خلاف جنگی بنیاد پر بڑا آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ تینوں سیکرٹری صاحبان سمیت محکمہ صحت لاہور عطائیوں کے خلاف آپریشن شروع نہیں کرسکے جس کے باعث ماہرین صحت نے ایسے وقت میں جب شہر میں ڈینگی بخار کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ڈینگی حملہ آور ہونے کا موسم شروع ہوچکا ہے، مگر محکمہ صحت کو وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کے باوجود ہوش نہیں آیا اور تاحال شہر بھر میں 2لاکھ سے زائد ڈاکٹر” موت کے فرشتے“ بن کر مریضوں کے سر پر خطرے کی صورت میں منڈلا رہے ہیں۔ اِس حوالے سے سیکرٹری صحت کیپٹن عارف ندیم سے بات کی گئی تو اُنہوں نے کہا کہ عطائیت کے خلاف آپریشن شروع کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں ۔عمل نہ ہوا تو ایکشن کیا جائے گا۔اِس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ سب سے زیاد ہ ڈینگی بخار کے مریض عزیز بھٹی ٹاﺅن، کنٹوٹمنٹ بورڈ ،شالامار ٹاﺅن،راوی ٹاﺅن اور داتا گنج بخش ٹاﺅن،نالہ نشتر ٹاﺅن واہگہ ٹاﺅن میں تمام علاج معالجہ کے باعث اور غلط تشخیص کے باعث جاں بحق ہوئے تھے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...