مصری شاہ ، ملازمہ کے ہاتھوں مبینہ قتل ہونے والے ڈاکٹر کا معمہ حل نہ ہو سکا

مصری شاہ ، ملازمہ کے ہاتھوں مبینہ قتل ہونے والے ڈاکٹر کا معمہ حل نہ ہو سکا

  



لاہور(کر ا ئم رپورٹر)تھانہ مصری شاہ کے علاقہ میں بیوی ، ملازم قدیر کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونے والے حکیم ڈاکٹر فرخ ایس ملک کے قتل کا معمہ تاحال پولیس حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔تاہم پولیس کی ملی بھگت سے مقتول کے قاتل تاحال آزاد گھوم رہے ہیں۔بتایاگیا ہے کہ مصری شاہ سلطان پورہ کا رہائشی فرخ ایس ملک جو حکمت کا کام کرتاتھا ڈیڑھ سال قبل اس کو رات کے وقت گھر میں سوتے ہوئے اسکی بیوی کے سامنے قتل کردیا گیا واقع کا علم ہونے پر پولیس موقع پرپہنچ گئی پولیس نے موقع پر پہنچ کر تمام شواہد اکٹھے کیے تو معلوم ہوا کہ مقتول کے ملازم قدیر اور اسکی بیوی سائرہ نے قتل کیا ہے پولیس نے دونوں کو گرفتار کرلیا بعدازاں پولیس نے دونو ں کو رہا کردیا۔مقتول کے بھائی محمد فیصل احمد ملک نے پولیس کو بتایا ہے کہ اسکی بھابی سائرہ اور اس کے دوست قدیر نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے کیونکہ جس رات یہ وقوعہ ہوا تھا اس دن ملزم قدیر پستول تان کر سامنے کھڑا تھا اور اسکی بھابی سائرہ نے اسے قتل کرتے ہوئے دیکھا ہے مقتول کو ایک گولی لگی ہوئی تھی مقدمہ کے مدعی فیصل احمد کے مطابق قتل میں ملزم قدیر اس کا بھائی اشرف بھی شامل ہے۔پولیس نے تفتیش کی تو معلوم ہوا ہے کہ اس میں مقتول کی بیوی سائرہ بھی شامل ہیں مقدمہ کے مدعی کے مطابق ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کرسکی ہے اور اب سائرہ کے بھائی بھی مجھے کیس کی پیر وی سے باز رہنے کے لیے قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں فیصل احمد ملک نے وزیر اعلی پنجاب، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سے اپیل کی ہے کہ قتل میں ملوث خاتون سمیت ملزمان کو فوری گرفتار کرکے تفتیش کی جائے تاکہ اصل حقائق منظر عام پر آسکیں۔مقتول کے بھائی نے الزام عائد کیا ہے کہ سائرہ کے ملزم قدیر سے تعلقات تھے اور اس نے ہی میرے بھائی کو قتل کروایا ہے ۔مجھے ڈیڑھ سال ہوگئے ہیں در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے مگر ابھی تک مجھے انصاف نہیں مل سکا ہے میری ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...