تھانہ نولکھا کی حدود میں ڈکیتی اور رراہزنی کی وارداتوں میں خوفناک اضافہ تاجر برادری اور علاقہ مکین سراپا احتجاج

تھانہ نولکھا کی حدود میں ڈکیتی اور رراہزنی کی وارداتوں میں خوفناک اضافہ تاجر ...

  



لاہور(لیاقت کھرل) شہر کے سب سے پرانے اور تاریخی تھانہ نولکھا جہاں ڈکیتی اور راہزنی سمیت سرقہ عام کی وارداتیں، جیب تراشوں، نوسر بازوں نے ساتھ ساتھ اس تھانے کی حدود میں 100 سے زائد ہوٹلوں میں مشکوک افراد کی نقل و حرکت اور حلیے اور نام تبدیل کر کے ٹھہرنے کی مبینہ اطلاعات نے اس تھانے کی حدود میں مکینوں اور تاجروں میں جہاں خوف و ہراس کی فضا پھیلا رکھی وہاں پولیس کی لاکھوں روپے ماہانہ آمدنی کے باعث بڑھتے ہوئے جرائم سے شہر کے دیگر تھانوں کو اس تھانے نے مات دے رکھی ہے، پاکستان نے اس تھانے کی حدود میں بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام میں پولیس کی جانب سے ناکامی پر گزشتہ روز سروے کیا اور اس کے ساتھ تھانہ کے سامنے شہریوں کے مسائل سنے تو شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ اس تھانے کی حدود میں سرقہ عام کی وارداتوں نے مکینوں اور تاجروں کی نیندیں حرام کرکے رکھ دی ہیں، پولیس اس تھانے کی شاہراﺅں اور سڑکوں برانڈتھ روڈ، سرکلر روڈ اور ریلوے روڈ سے جرائم پیشہ افراد کریمینل افراد کو گرفتار تو کرتی ہے لیکن اس کے باوجود اس تھانے کی حدود میں جرائم کی شرح میں کمی آنے کی بجائے مسلسل بڑھ کر رہ گئی ہے، شہری محمد اسلم، محمد عنصر اور عمر رسیدہ شخص حق نواز خان اور اکرام سلیمی نے کہا کہ نولکھا جو کہ مغلیہ دور میں آمدن کو امارت کے اعتبار ایک اپنی الگ پہنچان اور شناخت رکھتا ہے اور ایسی عمارت میں تھانہ نو لکھا قائم ہے اور اس تاریخی عمارت میں تھانہ کے قائم ہونے کے باوجود اس تھانے کے ارد گرد شاہراﺅں اور سڑکوں پر روزانہ تین سے چار افراد کو لوٹ لیا جاتا ہے، جس کے باعث سرقہ عام کی وارداتیں زور پکڑ کر رہ گئی ہیں، پولیس اکاد کا ملزم کو پکڑ تو لیتی ہے لیکن اس کے باوجود اس تھانے کی حدود میں سڑکوں پر شہریوں نے چھینا چھپٹنے کی وارداتیں عام ہیں جبکہ اس کے علاوہ اس تھانے کی حدود میں جیب تراشوں کو نوسر بازوں نے الگ سے ڈیرے قائم کر رکھے ہیں، جس میں ریلوے اسٹیشن آنے والے یا پھر ریلوے اسٹیشن سے دیگر شہروں میں جانے والوں کو نوسر باز لوٹ لیتے ہیں اور نوسر بازوں اور جیب تراشوں نے اس تھانے سے تھانہ لاری اڈہ تک اپنے گروہوں کو پھیلا رکھا ہے اور ریلوے اسٹیشن پر آنے والے ہر10 ویں شخص کو جیب تراشی کی واردات کے دوران لوٹ لیا جاتا ہے یا پھر نوسر باز آنے والے شہری کو لوٹ لیتے ہیں، اس کے علاوہ سڑکوں پر ہونے والی وارداتوں مکینوں میں الگ سے ایک خوف و ہراس کی فضا پھیلا رکھی ہے ، اس موقع پر تھانے کے ریکارڈ میں درج کئے گئے 528 سے زائد مقدمات میں سے پولیس نے320 سے زائد ملزمان کی گرفتاری کرنے کی بجائے اشتہاری قرار دے رکھا تھا، جن کے خوف و ہراس اور اشتہاری ملزمان کے باعث مکینوں میں جہاں ایک خوف و ہراس وہاں اس تھانے کی حدود میں جرائم میں اضافہ میں بھی اشتہاری ملزمان سبب بن کر رہ گئے ہیں، اس موقع پر تھانے کے اے ایس آئی احمد نواز نے شکایت کرنے والے شہریوں جن میں دکاندار حاجی محمد افضل، حاجی رفاقت علی، حاجی نصیر احمد، مختار احمد خان اور دیگر کی موجودگی میں بتایا کہ اس تھانے کی حدود میں روزانہ ایک سے دو ڈکیتی یا راہزنی کی واردات ایک معمول ہے جبکہ نوسر بازی اور جیب تراشی کے واقعات نے کرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ کر کے رکھ دیا ہے جبکہ لڑائی جھگڑے کے معمولی واقعات جو کہ دشمنیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں اور اس کی زندہ مثال ہے کہ گزشتہ8 ماہ کے دوران قتل و غارت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس میں قتل کے 6 واقعات جبکہ سنگین نوعیت کے اقدام قتل کے چار درجن سے زائد واقعات پیش آ چکے ہیں جس میں پولس لڑائی جھگڑوں کے واقعات میں کی حد تک کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے قتل و غارت کے واقعات بڑھتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ اس تھانے کی حدود میں ایک سو سے زانئد ہوٹلز قائم ہیں جہاں آئے روز مشکوک افراد اپنے نام اور حلیے تبدیل کر کے آنے جانے کی اطلاعات کے باوجود پولیس نے آج تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے جبکہ اس کے علاوہ ہوٹلوں میں بد اخلاقی کے دھندے کی شکایات میں بڑھ جانے کے بارے پولیس کو متعدد شکایات کر چکے ہیں، اس کے باوجود پولیس اکا دکا کارروائی کر کے خانہ پری کے طور پر کارروائی کرتی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1