بھائی کی قاتلا کو مدعی نے ملی بھگت سے بے گنا ہ کروالیا ایک سال بعد جائیداد کے بٹوارے پر جھگڑا دوبارہ تفتیش کیلئے عدالت میں درخواست

بھائی کی قاتلا کو مدعی نے ملی بھگت سے بے گنا ہ کروالیا ایک سال بعد جائیداد کے ...

  



لاہور (میاں رﺅف سے) کروڑوں روپے کی جائیداد ہتھیانے کے لئے بھائی کے قتل کی مبینہ مقدمہ بھاوج کو مقدمہ مدعی نے ملی بھگت کرکے بے گناہ کروا لیا ایک سال بعد دونوں کے درمیان جھگڑا ہونے پر دیور نے دوبارہ بھاوج کو بھائی کے قتل میں ملوث کروانے کے لئے عدالت میں رٹ دائر کردی، رٹ میں بھاوج اس کے سگا بھائی اور انویسی گیشن پولیس انچارج کو بھی الزام ٹھہرایا گیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مصری شاہ نے علاقہ سلطان پورہ میں رہائشی فرخ عمر جو شوگر کی دوائی بنانے کا کاروبار کرتا تھا سا کی ایک 10 سالہ بیٹی بیوی سائرہ فرخ اور 13 سالہ ملازم قدیر کے ساتھ رہتا تھا 6 مارچ 2011ءکی درمیانی شب گھر میں سوئے ہوئے فرخ عمر کے سر کے پیچھے پمپ ایکشن کا فائر مار کر قتل کیا گیا تھا مقتول فرخ عمر کے سگے بھائی فیصل احمد نے مصری شاہ پولیس میں مقدمہ درج کروایا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ میرے بھائی فرخ عمر کو اس کے ملازم 13 سالہ قدیر نے پمپ ایکشن کا فائر مار کر قتل کردیا پولیس نے ملازم قدیر کو حراست میں لے لیا پولیس نے مقتول کی بیوہ سائرہ فرخ پر شبہ ظاہر کیا کہ جس نے موقف ا ختیار کیا کہ میں سوئی ہوئی تھی مجھے فائر کی آواز سنائی نہ دی جبکہ دونوں ایک ہی کمرہ میں سو رہے تھے مصری شاہ پولیس کے انویسٹی گیشن انچارج محمد اکرم نے فرخ عمر کے قتل میں اس کی بیوی سائرہ فرخ کے ملوث ہونے کا مدعی کو کہا اسی دوران اس قتل کی تفتیش سی آئی اے کوتوالی کے سپرد ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بورڈ کے ذریعے کردی، یہ تفتیش مدعی کے کہنے کی بجائے قتل میں ملوث ہونے کے شبہ پر بیوہ سائرہ فرخ نے تبدیل کروائی تھی۔ سی آئی اے کوتوالی کے انسپکٹر طارق سجوار نے تفتیش کی زیر حراست ملازم 13 سالہ قدیر سے تفتیش کی گئی تو وہ بے گناہ تھا جبکہ قتل کی تمام کڑیاں اس کی بیوہ سائرہ فرخ کے گرد گھومتی تھیں، مقدمہ مدعی محمد فیصل نے سی آئی اے پولیس کو بتایا کہ اس کی بھاوج قاتل نہیں ہے جبکہ مرنے والے فرخ عمر کے نام کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد تھی مبینہ طور پر دونوں دیور بھاوج کے درمیان ملی بھگت ہوگئی مدعی نے سی آئی اے پولیس میں تحریری طور پر اپنے بھائی کے قتل تفتیش کو داخل دفتر کرنے کی سفارش کی، سی آئی اے پولیس نے قتل کی رپورٹ بنائی جس میں واضح طور پر تحریر کیا گیا کہ قاتل ملازم 13 سالہ قدیر نہیں ہے بلکہ قتل مقتول کی بیوہ سائرہ فرخ کے گرد ہے لیکن مقدمہ مدعی نے مزید کارروائی نہ کرنے پر داخل دفتر تفتیش کی جارہی ہے۔ دوسری جانب ایک سال بعد دونوں دیور بھاوج کے درمیان کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد کی حصہ داری میں تنازع کھڑا ہوگیا پہلے بھاوج نے دیور فیصل کے خلاف عدالت میں جائیداد پر قبضہ کرنے کی رٹ دائر کی بعد میں دیور فیصل نے ایک سال قبل بھائی کے قتل میں مبینہ ملوث بھاوج سائرہ فرخ کو بے گناہ قرار دلوایا تھا گزشتہ روز ایک سال بعد بھاوج سائرہ فرخ اس کے بھائیوں عمران، سفیان اور بہنوئی عبدالرحمان اور انویسٹی گیشن انچارج مصری شاہ محمد اکرم کے خلاف رٹ دائر کردی کہ میرے بھائی فرخ عمر کے اصل قاتل یہ ہے پولیس نے ملی بھگت کرکے اور میری رضا مندی کے بغیر مجھ سے سادہ کاغذوں پر زبردستی انگوٹھے لگوا کر انہیں بے گناہ کردیا تھا۔

مزید : ایڈیشن 1