برطانیہ حسنی مبارک کی حکومت کے اثاثے منجمد کرنے میں ناکام

برطانیہ حسنی مبارک کی حکومت کے اثاثے منجمد کرنے میں ناکام

  



لندن(بیورورپورٹ)سابق مصری صدر حسنی مبارک کی حکومت کے اثاثہ جات منجمد کرنے کے عزم میں برطانوی حکومت ناکام ہو رہی ہے ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق صدر حسنی مبارک اور ان کے قریبی ساتھیوں کی جائیداد اور کمپنیوں پر پابندیوں کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے مصر کی حکومت نے برطانوی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ چوری کی گئی دولت کو چھپا رہی ہے اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے تاہم برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے گیارہ فروری کو انقلاب کے ذریعے حسنی مبارک کی حکومت ختم ہوئی تھی اور اس سے پہلے حسنی مبارک اور ان کے قریبی ساتھیوں نے اربوں ڈالر چوری کئے صدر مبارک کی حکومت ختم ہونے کے تین روز بعد برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ برطانیہ سابق حکومتی اہلکاروں کے اثاثہ جات منجمد کرنے کی مصری حکومت کی درخواست پر تعاون کرے گی تاہم اس اعلان کے 37 روز کے بعد برطانیہ اور یورپی یونین نے پابندیاں عائد کیں مصری حکومت کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں حسنی مبارک اور ان کے قریبی ساتھیوں نے اپنے اثاثہ جات کہیں اور منتقل کر دیئے برطانیہ نے صدر حسنی مبارک، ان کی اہلیہ، دو بیٹوں اور دیگر پندرہ مصری افراد کے اثاثہ جات منجمد کیے ہیں جن کی مالیت 135 ملین ڈالر ہے ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...