زرداری کو ڈیرہ میں ”وننگ ہارس “کی تلاش ،سیاسی شخصیات سے رابطے تیز کردئیے

زرداری کو ڈیرہ میں ”وننگ ہارس “کی تلاش ،سیاسی شخصیات سے رابطے تیز کردئیے

  



ملتان(خصوصی رپورٹر ) صدر مملکت آصف علی زرداری نے ڈی جی خان میں پیپلز پارٹی کی گرفت کو مضبوط کرنے کےلئے وہاں کی سیاسی اثرو رسوخ رکھنے والی شخصیات سے رابطے تیز کر دئیے ہیں اوران کی کوشش ہے کہ اس علاقے کے سیاست کے میدان میں ”وننگ ہارس“ کہلائی جانے والی شخصیات آئندہ انتخابات میں ان کی پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑیں۔ اس سلسلہ میں صدر مملکت نے اپنے قریب ترین تین وفاقی وزراءکو یہ خصوصی ٹاسک سونپا ہے۔ صدر زرداری کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ ڈی جی خان میں اس وقت پیپلز پارٹی کا وجود نہیں ہے اور اس تاثر کو ختم کرنے کےلئے وہ ڈی جی خان سے تعلق رکھنے والی ان سیاسی شخصیات سے رابطے کروا رہے ہیں جن کا ذاتی ووٹ بینک زیادہ اور آئندہ الیکشن میں بھی ان کی جیت یقینی ہے جس کےلئے وہ کسی بھی شرط کو پورا کرنے کو تیار ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے پر انہیں فنڈز یا مراعات بھی دی جائیں۔ اس تناظر میں صدر زرداری کے قریبی حلقے سردار سیف الدین کھوسہ جو کہ مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 173 سے منتخب ہوئے تھے ان سے بھی رابطے میں ہیں اور وزیراعظم کے انتخاب میں ووٹ دینے کےلئے ان کا اسلام آباد جانا بھی یہ تاثر دے رہا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر چکے ہیں اور وہ اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بھی اسی ماہ کر لیں گے۔ دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی لغاری خاندان سے بھی اپنے رابطوں کے تسلسل کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق جعفر خان لغاری اور مینا لغاری اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کر چکے ہیں۔ اس ملاقات میں صدر زرداری نے انہیں سابقہ اختلافات بھلا کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت بھی دی ہے لیکن ابھی ان کی طرف سے ہاں یا نہ کا جواب ابھی باقی ہے۔ سابق سینیٹر سردار جمال خان لغاری اور سابق وفاقی وزیرسردار اویس احمد خان لغاری کے بارے میں بھی تحریک انصاف کو خیر باد کہہ دینے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں لیکن انہوں نے ان اطلاعات کو رد کیا ہے لیکن باوثوق ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ لغاری خاندان کو یکجا کرنے اور آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کےلئے صلاح مشورے بھی جاری ہیں اور یہ افواہیں بھی گردش کر ہی ہیں کہ عام انتخابات سے قبل شاید کوئی لغایر اتحاد گروپ کے نام سے کوئی نیا گروپ وجود میں آ جائے۔ صدر زرداری کے قریبی ساتھی باضابطہ طور پر ان دونوں لغاری برادران کو اپنی پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے سکتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کا ایک دھڑا اس کا سخت مخالف ہے کیونکہ پیپلز پارٹی نے سردار فاروق خان لغاری کو صدر مملکت بنایا تھا تو انہوں نے ہی محترمہ کی حکومت کو چلتا کیا تھا اس لئے پیپلز پارٹی کا ایک دھڑا سخت مخالف ہے کہ لغاری خاندان کو اپنی پارٹی میں لیا جائے لیکن صدر زرداری صرف ڈی جی خان میں اپنی گرفت کےلئے انہیں لانے کےلئے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔

مزید : صفحہ اول