مسلم لیگ کا پیپلزپارٹی سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ،نگران وزیراعظم چھوٹے صوبوں سے بنانے کا مطالبہ

مسلم لیگ کا پیپلزپارٹی سے مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ،نگران وزیراعظم چھوٹے ...

  



مری(اے پی اے ) مسلم لیگ (ن) کا پیپلز پارٹی سے کسی بھی قسم سے مذاکرات نہ کرنےکا فیصلہ ،نگران وزیر اعظم چھوٹے صوبوں سے اورنگران حکومت با کردار لوگوں پر مشتمل بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی سپیکر کو کمیشن بناے کا اختیار نہیں اگر حکومت مخلص اورسنجیدہ ہے توقومی کمیشن قائم کرے جو ملک بھرمیں انتظامی بنیادوں پرنئے صوبوں کے قیام کا جائزہ لے۔ مسلم لیگ ن نے اہم اجلاس میں نئے صوبوں سے متعلق پارلیمانی کمیشن کا بائیکاٹ جاری رکھنے اور اتفاق رائے سے قومی کمیشن کی تشکیل کے لئے حکومت پر دبا¶ بڑھانے کا فیصلہ‘ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے‘ نگران حکومت کی تشکیل کے لئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا‘ مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو صوبہ بنانے میں سنجیدہ نہیں اس معاملے کو انتخابی نعرہ بنانے کے لئے متنازع کمیشن تشکیل دیا گیا‘ حکومت نے 18 ویں ترمیم کے دوران خود کہا تھا کہ حالات سازگار نہیں صوبوں کی تشکیل کی تجویز موخر کی جائے‘ پیپلزپارٹی صوبے بنانے میں سنجیدہ ہوتی تو اتفاق رائے سے کمیشن تشکیل دے کر وسائل کی تقسیم کی جاتی‘ سالانہ بجٹ میں خصوصی گرانٹ مختص کی جاتی‘ مسلم لیگ (ن) نئے صوبوں کی حامی ہے‘ پنجاب میں نئے صوبوں کے حوالے سے متعلقہ صوبے کے بنیادی کردار کو نظرانداز کرنے پر تحفظات ہیں۔ گذشتہ روز مسلم لیگ (ن) کا غیرمعمولی مشاورتی اجلاس مری میں پارٹی کے صدر میاں نوازشریف کی صدارت میں ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف ‘ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان‘ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اسحاق ڈار‘ راجا ظفرالحق‘ سردار مہتاب عباسی‘ شاہد خاقان عباسی‘ سینیٹر پرویز رشید‘ پیر صابر شاہ‘ احسن اقبال‘ امیر مقام اور دیگر رہنما¶ں نے شرکت کی۔ نواز شریف نے اجلاس سے خطاب میں حکومت سے نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیر اعظم چھوٹے صوبوں سے ہونا چاہیے اور نگران حکومت با کردار لوگوں پر مشتمل ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی سپیکر کو کمیشن بناے کا اختیار نہیں اگر حکومت مخلص اورسنجیدہ ہے توقومی کمیشن قائم کرے جو ملک بھرمیں انتظامی بنیادوں پرنئے صوبوں کے قیام کا جائزہ لے، معام انتخابات کےلیے غیرجانبدارنگران سیٹ اپ کا قیام ناگزیرہے۔نواز شریف نے کہا کہ ملک میں کہیں بھی حکومت نظر نہیں آ رہی، ہم حکومت سے کس چیز پر مذاکرات کریں، حکمرانوں کو سوائے اپنی کرپشن چھپانے کے اور کسی چیز سے فرصت نہیں، نہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنی اصلاح کریں۔ ن لیگ کے قائد نے کہا کہ پہلے ہم نے پیپلز پارٹی پر اعتبار کر کے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے مگر پیپلز پارٹی نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیازرداری ٹولے نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا،اپنی کرپشن اور قوم کی لوٹی دولت چھپانے کے لئے عدالتی فیصلوں کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے،حکمرانوں نے ملک کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے،قوم کسی بھی صورت میں وزرات عظمیٰ کے منصب پر ایسے شخص کو نہیں دیکھنا چاہتی جو عدالتی فیصلوں کا احترام نہ کرے، انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام کو تکلیف کے سوا کچھ نہ دیا روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ کرنے والے نااہل حکمرانوں نے غریبوں سے روزمرہ کی ضرورتیں بھی چھیں لیں غیر مقبول فیصلے کرنا حکومتی ایجنڈ بن گیا ہے اور موجودہ حکومت بھی مشرف کی پالیسیوں پر گامزن رہنے کے لئے پر عزم ہے محض تجربات پر قومی خزانے کے کڑوڑوں روپے بغیر مثبت نتائج کے حصول کے بھینٹ چڑہائے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی پالےسےوں نے ملک وقوم کو تباہ کر دےاہے اےٹمی قو ت ہوتے ہوئے تارےکی مےں ڈوباہواہے ، انہوں نے مزید کہا کہ قوم کے اربوں روپے ہڑپ کرنے والوں سے قومی مفاد کی توقع نہیں کی جاسکتی ہر طرف کرپشن کا راج ہے دریں اثنا مشاورتی اجلاس میں نئے صوبوں کے امور پر غور کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) نئے صوبوں سے متعلق پارلیمانی کمیشن کا بائیکاٹ جاری رکھے گی اور حکومت پر قومی کمیشن کی تشکیل کے لئے دبا¶ ڈالا جائے گا۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ غیرجانبدار احتساب کمیشن کے قیام کے لئے حکومت پر دبا¶ ڈالا جائے گا اور نیا احتساب بل جلد اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ وسیع تر قومی کمیشن تشکیل دے جو یہ فیصلہ کرے کہ ملک کے کس صوبے میں مزید صوبے بنانے کی گنجائش ہے اور اس حوالے سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے سے کمیشن تشکیل دیا جائے۔ اجلاس میں نگران حکومت کے بارے میں بات چیت کی گئی اور اس حوالے سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے دیگر جماعتوں سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نگران حکومت کے بارے میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود جماعتوں کی مشاورت سے نگران وزیراعظم کے لئے نام حکومت کو پیش کئے جائیں گے۔ اجلاس میں ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتوں سے رابطوں اور بات چیت کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے کہاکہ اصولی طور پر جس صوبے میں نئے صوبے کا قیام عمل میں آتا ہے اس کا صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے بنیادی کردار ہوتا ہے اور وہی صوبہ وسائل کی تقسیم کے بارے میں بھی فیصلہ کرتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے نئے صوبوں کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے وہ صوبوں کے قیام کی تجویز پر نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے پنجاب کے بنیادی کردار کو نظرانداز کرنے کے معاملے پر ہیں اگر ہم حکومت کی بات کو تسلیم کرلیں تو پھر نئے صوبے بنانے کے حوالے سے چاہے وہ سندھ ہو یا کوئی اور صوبہ متعلقہ صوبے کا کردار ختم ہو جائے گا جس کے شدید مضمرات ہیں۔ ہمارا موقف اصولی ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے لئے حوالے سے پنجاب کے بنیادی کردار کو تسلیم کیاجائے اور اس حوالے سے بہاولپور اور جنوبی پنجاب سے متعلق پنجاب اسمبلی کی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔ وفاقی حکومت نے یکطرفہ طور پر کمیشن بنایا ہے جو صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے منافی ہے۔ اپوزیشن سے کوئی مشاورت پذیر کی گئی نہ اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر


loading...