آج اسلام آباد میں مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے مذاکرات ہورہے ہیں

آج اسلام آباد میں مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے مذاکرات ہورہے ہیں
آج اسلام آباد میں مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے مذاکرات ہورہے ہیں

  



کیا پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سندھ میں بلدیاتی نظام پر متفق ہوگئی ہیں؟ اور اس سلسلے میں کوئی متفقہ مسودہ تیار کرلیاگیا ہے؟ یہ سوال اس وقت اہمیت اختیار کرگیا جب کراچی میں دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس ہوا جس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد بھی شریک ہوئے۔ دونوں جماعتیں طویل عرصے سے وقتاً فوقتاً اس معاملے پر غور کرتی رہی ہیں اور یہ اطلاعات بھی آتی رہی ہیں کہ وہ کسی نتیجے پر پہنچ گئی ہیں لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ جب دو چار ہاتھ لب بام رہ جاتا ہے تو کمند ٹوٹ جاتی ہے جس کے بعد مذاکرات ایک بار پھر شروع ہوجاتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایسی اطلاعات آئی تھیں کہ 80 فیصد اتفاق رائے ہوگیا ہے لیکن باقی 20 فیصد بھی خاصا مشکل مرحلہ ہے۔ اس دوران یہ اطلاع بھی آئی کہ ایم کیو ایم کا ایک وفد 4 ستمبر کو اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کی قیادت سے ملے گا۔ اگرچہ دونوں جماعتوں میں ذہنی فاصلے بہت ہیں لیکن پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم نے بھی مفاہمت کی سیاست شروع کررکھی ہے۔ پچھلے دنوں ایک آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے لئے ایم کیو ایم نے تمام جماعتوں سے رابطے کئے۔ کئی شہروں کے دورے کرکے سیاسی رہنماﺅں سے ملاقاتیں کیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما منصورہ بھی گئے اور جماعت اسلامی کے رہنماﺅں سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں کے باوجود کوئی اے پی سی تو منعقد نہ ہوسکی لیکن اتنا ضرور ہوا کہ رابطے شروع ہوگئے اور پرانی تلخیاں بھلانے کی کوشش کی گئی، اب آج کی ملاقات بھی ایسی ہی کوشش نظر آتی ہے عین ممکن ہے کہ اس کا مثبت اثر کراچی کے مذاکرات پر بھی پڑے اور بلدیاتی نظام کے سلسلے میں جو اتفاق رائے اب تک نہیں ہوسکا تھا وہ اب ممکن ہوجائے بلدیاتی نظام کے علاوہ ایم کیو ایم کے بعض دوسرے مطالبات بھی ہیں جو اس نئی صورتحال میں منظور ہوسکتے ہیں۔

مزید : تجزیہ