آئندہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی مسلم لیگ ق سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا امکان

آئندہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی مسلم لیگ ق سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا امکان
آئندہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی مسلم لیگ ق سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا امکان

  



پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات کے لئے بھی اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ ان کے مطابق یہ حکومت کا آخری سال ہے اور اب کارکنوں کو انتخابات کی تیاری کرنا چاہیے ۔ آصف علی زرداری سے یہ بات بھی منسوب کردی گئی کہ وہ عام انتخابات سے قبل بلدیاتی انتخابات کروانا چاہتے ہیں، اس خبر کی تردید یا وضاحت بھی کردی گئی اس کے باوجود اسے وہ جگہ نہیں ملی جو ان سے منسوب خبر کومل چکی تھی۔ دراصل صدر زرداری نے پیپلزپارٹی سندھ اور متحدہ قومی موومنٹ کی کور کمیٹی کے اجلاس میں سندھ میں بلدیاتی نظام کے سلسلے میں پیدا ہونے والے اختلافات کے حوالے سے بات سنتے اور مسائل حل کرنے کے لئے یہ ہدایت کی تھی کہ اختلافی مسائل کو مل کرکے دو ماہ کے اندر اندر مسودہ قانون منظور کرایاجائے۔ بریفنگ کے دوران شاید اسی حوالے سے یہ تصور کرلیاگیا کہ بلدیاتی انتخابات عام انتخابات سے پہلے کرائے جائیں گے حالانکہ بلدیات اب وفاقی نہیں صوبائی شعبہ ہے اور صوبائی حکومتیں ہی ان انتخابات کے انعقاد کی ذمہ دار ہیں اور اس کے لئے ان کو قانون سازی کرنا ہوگی۔

پنجاب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تو پرانا کمشنری نظام رائج کردیاگیا جو چل بھی رہا ہے تاہم سندھ میں تنازعہ ہوگیاتھا، پیپلزپارٹی پرانے نظام جبکہ متحدہ قومی موومنٹ جنرل پرویز مشرف والے نظام (ضلعی حکومت) کے حق میں ہے ۔ پیپلزپارٹی نے جلدی میں قانون منظور کراکے سندھ میں کمشنری نظام کو بحال کردیاتھا جو اب تک چل تو رہا ہے لیکن متحدہ والے مسلسل مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں، اور یہ وجہ تنازعہ ہے۔ پیپلزپارٹی کے علاوہ سندھ کے دوسرے اتحادی فنکشنل لیگ اور اے این پی بھی پرانا نظام چاہتی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ وفاق میں 25 نشستوں کی وجہ سے سودا بازی کی پوزیشن کا بھرپور فائدہ لگا رہی ہے۔ گزشتہ روز اس کے وفد نے صدر زرداری سے ملاقات کی تو آج مسلم لیگ ن سے بھی مذاکرات ہوں گے۔ یوں متحدہ اپنی پوزیشن کو پابندی سے آزاد رکھے ہوئے ہے۔

جہاں تک صدر زرداری کا تعلق ہے تو وہ خود ایک تنے ہوئے رسے پر چل رہے ہیں اور بڑی ہوشیاری سے سنبھل بھی رہے ہیں لیکن یہ اعصاب شکن کام ہے جو وہی کر رہے ہیں، شاید کسی اور کے بس میں نہ ہو۔

جہاں تک آئندہ عام انتخابات کا تعلق ہے تو اتوار کو لاہور میں پیر صبغت اللہ راشدی پیر پگارا ہفتم نے سید یوسف رضا گیلانی کو آگاہ کیا کہ اگر پیپلزپارٹی نے اپنی یہی روش برقرار رکھی تو اس کے ساتھ چلنا مشکل ہوجائے گا ۔ پیر پگارا نے یوسف رضا گیلانی کو اعتماد میں لے کر بتا دیا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف ایک بڑا اتحاد بھی بننے جارہا ہے جس میں فنکشنل لیگ بھی شامل ہوسکتی ہے، اس لحاظ سے پیپلزپارٹی کو دشواری بھی ہوسکتی ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے اپنی رشتہ داری کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پیر پگارا کو یقین دلایا کہ ان کے تحفظات سے صدر کو آگاہ کریں گے اور ان سے بہتری کی بھی توقع ہے۔

جہاں تک عام سیاسی اور معاشی حالات کا تعلق ہے تو معروضی حالات میں یہ تصور کہا جاتا ہے کہ پیپلزپارٹی عوام کے سامنے خسارے میں جائے گی لیکن آٓصف علی زرداری مطمئن ہیں اور وہ جیتنے والے امیدواروں کی تلاش میں ہیں آئندہ عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کی سیٹ ایڈجسمنٹ مسلم لیگ ق ہی سے ہوتی نظر آرہی ہے۔ اور اس سے مسلم لیگ ق کو فائدہ ملنے کا امکان ہے۔ مسلم لیگ (ق) نے ابھی سے امیدوار نامزد کردنا شروع کردیئے ہیں، اور قصور سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پر امیدواروں کا اعلان بھی کردیا ہے یہ اعلان قمر زمان کائرہ کے معتمد اور سابق رکن قومی اسمبلی چودھری منظور احمد کے لئے چونکا دینے والا ہے مزید یہ بھی طے ہے کہ لاہور میں بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) باہمی طور پر امیدوار نامزد کریں گی۔

مزید : تجزیہ