زرداری کیس:عدالت کو پہلے اپنا دائرہ اختیار طے کرنا پڑے گا

زرداری کیس:عدالت کو پہلے اپنا دائرہ اختیار طے کرنا پڑے گا
زرداری کیس:عدالت کو پہلے اپنا دائرہ اختیار طے کرنا پڑے گا

  



چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی فل بنچ کل 5 ستمبر کو صدر مملکت آصف علی زرداری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کرے گا، یہ درخواست لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ کے اس فیصلہ پر صدر آصف علی زرداری کی طرف سے عمل درآمد نہ کئے جانے پر دائر کی گئی ہے، جس میں عدالت عالیہ نے قرار دیا تھا کہ آصف علی زرداری صدر کے ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ 2011ءمیں عدالت عالیہ نے اپنے اس فیصلے میں توقع ظاہر کی تھی کہ صدر آصف علی زرداری آئین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے جلد ازجلد پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کا عہدہ چھوڑ دیں گے، لیکن اس عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوا اور جون 2012ءمیں صدر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لئے درخواست دائر کی گئی جس کی عدالت عالیہ کے تین رکنی بنچ نے 27 جون 2012ءکو سماعت کی اور ہائیکورٹ کے 2011ءکے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے صدر کو 5 ستمبر تک کی مہلت دی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صدر مملکت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے؟ بظاہر اس حوالے سے صدر مملکت کو آئین کے آرٹیکل 248 کا تحفظ حاصل ہے۔ اس لئے 5 رکنی فل بنچ کے لئے توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے سے قبل اپنے دائرہ اختیار سماعت کا تعین کرنا ضروری ہوگا۔

آئین کے آرٹیکل 248 (2) میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی عدالت میں صدر مملکت کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی ہوسکتی ہے اور نہ ہی پہلے سے زیر التواءکسی فوجداری مقدمہ کی سماعت جاری رکھی جاسکتی ہے، اسی طرح آرٹیکل 248(3) کے تحت کوئی عدالت صدر کی گرفتاری کا حکم دینے یا انہیں قید کی سزا سنانے کی مجاز نہیں ہے، تاہم آرٹیکل 248(4) کے تحت صدر کے خلاف دیوانی نوعیت کی کارروائی ہوسکتی ہے لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ صدر کو کم ازکم 60 دن کا نوٹس دیا جائے۔

دوسری طرف توہین عدالت آرڈیننس مجریہ 2003ءکے تحت توہین عدالت کے تین اقسام ہیں، ایک فوجداری توہین عدالت، دوسری دیوانی توہین عدالت اور تیسری کو عدالتی توہین عدالت کا نام دیا گیا ہے۔ فوجداری توہین عدالت سے مراد انصرام عدل میں رکاوٹ ڈالنے کا اقدام ہے، جبکہ دیوانی توہین عدالت سے مراد عدالتی فیصلے اور آئینی اختیار کے تحت جاری کئے گئے کسی حکم کی خلاف ورزی کرنا ہے۔ اسی طرح عدالت یا اس کے جج کی سیکنڈ لائزیشن کے اقدام کو قانون میں عدالتی توہین عدالت کا نام دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت بھی اعلیٰ عدالتوں کو توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار دیا گیا ہے۔

صدر مملکت کے خلاف زیر نظر درخواست میں توہین عدالت کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ عدالتی توہین عدالت اور فوجداری توہین عدالت کے زمرہ میں نہیں آتا، تاہم اسے آئین کے آرٹیکل 204 اور دیوانی توہین عدالت کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے، لیکن ان کے تحت کی گئی کارروائی کا نتیجہ بھی توہین عدالت آرڈیننس کے تحت مقرر سزا کی صورت میں ہی نکلے گا، جبکہ آرٹیکل 248(3) کے تحت کوئی عدالت صدر کو گرفتار کرانے اور قید کی سزا سنانے کی مجاز نہیں ہے خواہ یہ تابرخاست عدالت قید کی سزا ہی کیوں نہ ہو۔ تاہم یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ موجودہ حکومت نے جو توہین عدالت ایکٹ مجریہ 2012ءجاری کیا تھا اس میں صدر، وزرائ، گورنرز، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کو آرٹیکل 248 کا تحفظ دیا گیا تھا اور عدالت عظمیٰ نے اس ایکٹ کو آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کردیا تھا، جس سے یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ ان آئینی عہدیداروں کو توہین عدالت کے معاملہ میں آئینی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کیس سمیت کئی دیوانی نوعیت کے مقدمات میں اعلیٰ عدالتیں صدر کو نوٹس جاری کرتی رہی ہیں، تاہم ان مقدمات کی نوعیت توہین عدالت کی کارروائی سے یکسر مختلف ہے، اب یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر صدر مملکت اپنی عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد سے انکاری ہیں تو پھر ان کے خلاف کیا کارروائی ہوسکتی ہے؟ کیا عدالت آئین اور عدالتی احکامات کی واضح خلاف ورزی پر صدر مملکت کو صدارت کے عہدے کے لئے نااہل قرار دے سکتی ہیں؟ اس حوالے سے بھی آئین عدالتوں کو بظاہر کوئی اختیار نہیں دیتا۔ آئین کی صریحاً خلاف ورزی پر صدر کے مواخذہ کا راستہ دستور میں دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں صرف آئین کے آرٹیکل 47 کے تحت دیئے گئے طریقہ کار کے تحت پارلیمینٹ ہی دو تہائی اکثریت سے صدر کو اس کے عہدہ سے الگ کرسکتی ہے۔ ان سوالات اور آئینی وقانونی نکات کے تناظر میں صدر مملکت آصف علی زرداری کے خلاف توہین عدالت کے اس کیس کی نوعیت انتہائی پیچیدہ ہے۔ عدالت کو سب سے پہلے ان سوالات کے جواب حاصل کرکے اپنے دائرہ اختیار کا تعین کرنا پڑے گا۔ عدالت میں یہ نکتہ بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ آصف علی زرداری کے خلاف صدر نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ایسی صورت میں ٹھوس وجوہات اور دلائل سے ثابت کرنا پڑے گا کہ آصف علی زرداری کو بحیثیت صدر جو آئینی استنثیٰ حاصل ہے اس کا اطلاق ان کی کسی دوسرے حیثیت پر نہیں ہوتا، جبکہ آرٹیکل 248 بظاہر واضح کرتا ہے کہ صدر کے خلاف کسی بھی حیثیت میں کوئی فوجداری مقدمہ چل سکتا ہے اور نہ ہی عدالت انہیں سزا دے سکتی ہے تا وقتیکہ وہ اپنے عہدہ سے الگ نہ ہوجائیں۔ اس کیس کے حوالے سے ایک اور سوال بھی اٹھ سکتا ہے جس کی نوعیت سیاسی ہے، وہ یہ کہ کیا عدالتوں کو سیاسی معاملات میں الجھایا جانا چاہئے؟ کیا درخواست گزاروں کی طرف سے ایسے ایشوز کو پنجاب کی عدالت عالیہ میں اٹھانا ملک کے سیاسی تناظر میں مناسب اقدام ہے؟ عدالتوں نے حالات وواقعات اور قانون وآئین کی روشنی میں فیصلے کرنا ہوتے ہیں، لیکن ایسے فیصلوں کی روشنی میں بدخواہوں کو پنجاب کے خلاف پروپیگنڈہ کا موقع مل جاتا ہے۔ خود اعلیٰ عدالتوں کے متعدد فیصلے موجود ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عدالتوں کو سیاسی اکھاڑہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، کیا ہی مناسب ہوتا کہ آئین وقانون کی حکمرانی چاہنے والے یہ درخواست گزار دیگر صوبوں کی ہائیکورٹس سے بھی رجوع کرتے اور لاہور ہائیکورٹ کے کاندھوں کا بوجھ کم کرنے کی دانستہ کوشش کرکے ملکی بھلائی کا ایک اور فرض ادا کرتے۔

مزید : تجزیہ


loading...