دہشت گرد حملوں کا خطرہ،بھارتی جوہری تنصیبات کی سکیورٹی ہائی الرٹ

دہشت گرد حملوں کا خطرہ،بھارتی جوہری تنصیبات کی سکیورٹی ہائی الرٹ

  



نئی دہلی(آن لائن)بھارت کی مختلف ریاستوں میں انسدادِ دہشت گردی دستوں کے چھاپوں اور متعدد مشتبہ نوجوانوں کی گرفتاری کے بعد ملک کی تمام جوہری تنصیبات کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ،بھا رتی میڈیا کے مطا بق تنصیبات کے تحفظ کی ذمہ دار، سینٹرل انڈیسٹریل سکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) نے یہ شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہ جوہری تنصیبات مشبتہ دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں، یہ اقدام اٹھایا ہے۔یہ کارروائی گرفتار مشتبہ نوجوانوں سے کرناٹک پولیس کے ذریعے پوچھ گچھ کا دائرہ بڑھانے اور مہاراشٹر کے شہر ناڈیڈ سے چار اور حیدرآباد سے ایک مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بعد کی گئی ہے۔ادارے کے ڈائرکٹر جنرل نے میڈیا کو اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اپنی تمام تنظیموں کو ’جنرل الرٹ ‘ جاری کیا ہے۔اِس سے قبل وزارتِ داخلہ نے اِس بات کی تصدیق کی تھی کہ دفاعی اور جوہری تنصیبات کرناٹک کے مشتبہ دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں، بنگلور سے 500کلومیٹر دور کائیگا ایٹومک پاور اسٹیشن کی سکیورٹی سب سے پہلے بڑھائی گئی۔ مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی دستے نے ناڈیڈ سے چار مسلم نوجوانوں اور حیدرآباد سے ایک مسلم طالب علم کو دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار کیا ہے، جب کہ جمعرات کے روز بنگلور اور ہ±بلی سے 11مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جِن میں ڈفنس ریسرچ اینڈ ڈولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کا ایک سائنس دان اور ایک انگریزی روزنامہ اخبار کا نامہ نگار بھی شامل ہے۔ا±ن پر الزام ہے کہ ا±نھوں نے اراکینِ پارلیمنٹ و اسمبلی، صحافیوں اور وشو ہندو پریشد کے لیڈروں پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ذرائع کے مطابق، پولیس نے ا±ن کے قبضے سے غیر ملکی ساخت کا ایک پستول اور 14راو¿نڈ اورایک لیپ ٹاپ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔انسدادِ دہشت گردی کے دستوں اور حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار شدگان کا تعلق ’لشکرِ طیبہ‘ اور ’حرکت الجہاد اسلامی‘ سے ہے۔یہ مسلم نوجوان القاعدہ کی ویب سائٹ کے مضامین سے متاثر تھے، جِن میں افغانستان میں القاعدہ کی سرگرمیوں کی تعریف اور ستائش کی گئی ہے۔تمام گرفتار مسلم نوجوان 20سے30سال کی عمر کے درمیان ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...